ایف بی آئی نے چین کو سب سے بڑا خطرہ قرار دے دیا

107
واشنگٹن: ایف بی آئی کے سربراہ کرسٹوفر رے ہڈسن انسٹی ٹیوٹ میں خطاب کررہے ہیں

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی انٹیلی جنس ادارے ایف بی آئی کے سربراہ نے کہا ہے کہ چین کی طرف سے امریکی معیشت، ٹیکنالوجی اور سیاست میں مداخلت سب سے بڑا خطرہ بن کر اُبھر رہی ہے۔ چین دنیا کا سپر پاور بننے کے لیے ہر حد سے گزرنے کو تیار ہے۔ اس سلسلے میں وہ بیرون ملک مقیم اپنے شہریوں کو زبردستی وطن واپس لانے کے لیے بھی ہر طرح کے ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے۔ کرسٹوفر رے نے واشنگٹن کے ہڈسن انسٹیٹیوٹ میں سیمینار سے خطاب میں کہا کہ امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارہ ہر 10گھنٹے میں چین کی طرف سے ایک نئے حملے کا سامان کررہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس وقت ہم ملک بھر سے کاؤنٹر انٹیلی جنس کے 5ہزار کیسوں سے نمٹ رہے ہیں اور ان میں سے آدھے کیسوں کا تعلق چین سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین کا انٹیلی جنس آپریشن لگاتار ٹرمپ حکومت کی پالیسیوں اور موقف کو ہدف بنارہا ہے، جس کا اثر صدارتی انتخابات پر بھی پڑ سکتا ہے۔ بیجنگ حکومت اپنے شہریوں کو نشانہ بنارہی ہے،جو اپنے ملک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر آواز اٹھاتے ہیں۔ کرسٹوفر رے نے الزام لگایا کے چینی حکومت کے ’فوکس ہنٹ ‘نامی پروگرام کی نگرانی خود صدر شی جن پنگ کرتے ہیں۔ ادھر چین کی حکومت اس پروگرام کے وجود سے انکار نہیں کرتی، تاہم اس کا کہنا ہے کہ اس کا نشانہ کرپشن میں ملوث افراد ہیں جو ملک سے غبن کرکے رقوم باہر لے جاتے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق اس پروگرام کی آڑ میں بیرون ملک مقیم چینی باشندوں کو دھمکیاں دی جاتی ہیں اور انہیں وطن واپس آنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں بیرون ملک مقیم افراد کے رشتے داروں کو ہراساں کیا جاتا ہے۔فوکس ہنٹ پروگرام کے تحت جب متعلق شخص کو ڈھونڈنے میں ناکامی ہوتی ہے تو امریکا میں مقیم اس کے خاندان کو پیغام بھیجا جاتا ہے کہ اس کے پاس 2ہی راستے ہیں، فوری طور پر چین واپسی آئے یا پھر خود کشی کر لے۔