روس اور چین نے ترکی کے راستے شامی امداد کو ویٹو کردیا

190
ادلب: شامی مہاجرین کی بڑی تعداد کیمپوں میں غیر انسانی حالات میں رہنے پر مجبور ہے، ترک امدادی اہل کار بچوں کو ہاتھ دھونے کا طریقہ بتا رہے ہیں

نیویارک (انٹرنیشنل ڈیسک) روس اور چین نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ترکی کے راستے شام میں امداد بھیجنے کی مخالفت کردی۔ اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری کے ترجمان نے کہا کہ شمال مغربی شام میں 28لاکھ افراد انسانی امداد کے منتظر ہیں اور ضروریات زندگی کا سامان پہنچانے کے لیے دونوں سرحدی راستے بہت اہم ہیں۔ سلامتی کونسل کے 13ارکان نے جرمنی اور بلجیم کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد کے حق میں ووٹ دیا،جب کہ بیجنگ اور ماسکو نے اسے ویٹو کردیا۔ قرارداد کا مقصد مزید ایک برس تک امدادی سامان کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے ۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق شامی صوبے ادلب میں 6برس سے جاری اقوام متحدہ کا امدادی پروگرام 10 جولائی کو ختم ہو رہا ہے ۔روس نے مطالبہ کیا کہ امدادی ترسیل کی مدت میں صرف 6ماہ کی توسیع کی جائے اور اس دوران صرف ایک سرحدی گزر گاہ کے راستے امداد پہنچائی جائے ۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق 2014ء سے جاری پروگرام کے تحت اب تک 2سرحدی گزر گاہیں استعمال ہو رہی ہیں۔ واضح رہے کہ 2011ء میں شام میں تنازع کے آغاز کے بعد سے ماسکو 15بار ویٹو کا حق استعمال کرچکا ہے ۔ مغربی ممالک کے علاوہ اقوام متحدہ بھی مطالبہ کر چکی ہے کہ شام کے لیے سرحدی راستوں کے ذریعے امداد پہنچانے کے میکانزم کو ایک سال کے لیے برقرار رکھا جائے اور اس کے لیے ترکی کے ساتھ سرحد پر کم از کم 2گزر گاہوں کو استعمال میں لایا جائے ۔ رواں سال جنوری میں شامی حکومت پر قابض بشار الاسد کے حامی روس نے ملک میں داخلے کے چیک پوائنٹس کو 4سے کم کر کے 2کر دیا تھا۔ دوسری جانب شمالی شام میں مزاحمت کاروں کے زیر قبضہ تل عبید علاقے میں کار بم دھماکے میں 3بچوں سمیت 6 افراد ہلاک اور7 شہری زخمی ہو گئے۔ دھماکا تُرک فوج کے زیر استعمال علاقے میں ہوا،جہاں منبع امن آپریشن جاری ہے۔ تُرک حکام کا کہنا ہے کہ واقعے میں ممکنہ طور پر کردستان ورکرز پارٹی اور وائی جی پی ملوث ہوسکتی ہے۔