فلسطین کی 300 ایکڑ اراضی ضبط کرنے کا نیا اسرائیلی منصوبہ

120
مقبوضہ بیت المقدس: اسرائیلی فوج کے پہرے میں صہیونی بلدیہ فلسطینی اراضی پر قبضے کے لیے بھاری مشینری کا استعمال کررہی ہے

مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) اسرائیلی حکام نے اریحا شہر کے شمال مغرب میں واقع عرب ملیحات کمیونٹی کی 300ایکڑ اراضی پر قبضہ کرنے کے لیے کارروائی شروع کردی۔ عرب ملیحات کے فلسطینی رہایشیوں کا کہنا تھا کہ انہیں یہود یوں کی غیر قانونی بستی مییوووٹ یریہو کے صہیونی آبادکاروں کی جانب سے توسیعی منصوبے کے تحت زمین خالی کرنے کے نوٹس موصول ہوئے۔ مییوووٹ یریہو کے آبادکاروں نے جون کے آغاز میں قبضے کے سلسلے میں زمینوں کو ہموار کرنا شروع کیا تھا لیکن سیکڑوں فلسطینیوں نے شدید احتجاج کرکے اسرائیلی بلڈوزروں کو روک دیا۔ اسرائیلی حکام اور آباد کاروں کی طرف سے روزانہ عرب ملیحات کے فلسطینی باشندوں کو ہراساں اور بے گھر کرنے کی دھمکی دی جاتی ہے، تاہم اب شہریوں کو دیگر علاقوں کی طرح باقاعدہ نوٹس تھمادیا گیا ہے۔ دوسری جانب اسلامی تعاون تنظیم نے عالمی برادری اور سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قبضے کی کارروائیوں اور فلسطینی علاقوں کے انضمام سے باز رکھنے کے لیے اسرائیل کو لگام دے۔ او آئی سی کی طرف سے جاری بیان میں مشرق وسطیٰ میں عالمی برادری کی زیرنگرانی ہنگامی اجلاس طلب کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ اسلامی تعاون تنظیم کے سیکرٹری جنرل یوسف بن عثیمین کی جانب سے سلامتی کونسل کے رکن ممالک کو ایک خط ارسال کیا گیا، جس میں انہوں نے فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی ریاست کے الحاق کے اعلان کومسترد کردیا اور کہا کہ اسرائیل غرب اُردن کے الحاق کے اعلان کے نتیجے میں امن کے تمام مواقع ضائع کررہا ہے۔ او آئی سی نے سلامتی کونسل کے ارکان، اقوام متحدہ، یورپی یونین، روس اور امریکا پر مشتمل بین الاقوامی 4کمیٹی کے ارکان کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔ انہوں نے غرب اردن کا اسرائیل سے الحاق روکنے کے لیے فوری اور موثر اقدامات کرنے اور اسرائیل پر دبائو ڈالنے کا مطالبہ کیا۔