پائلٹوں کی چھانٹی کی جلدی

212

حکومت کو جلدی ہے کہ ائر مارشل ارشد ملک کو جلد از جلد پی آئی اے کا سی ای او مقرر کر دیا جائے چنانچہ پہلے سے اعلان شدہ مدت ختم ہونے سے بھی پہلے ہی کابینہ نے ان کے 12 جولائی کو ائر فورس سے ریٹائرمنٹ کے بعد پی آئی اے کے سی ای او کی حیثیت سے تقرر کی توثیق کر دی۔ ساتھ ہی پائلٹوں کی چھانٹی بھی جلد کرنے کی ہدایت کر دی۔ ایسا لگتا ہے کہ ان ہی دونوں کاموں سے پی آئی اے مضبوط ہو گی۔ پائلٹوں کی چھانٹی پر زور دینے کا مطلب سمجھ میں آجانا چاہیے۔ کمرشل پائلٹوں کی چھانٹی کرکے ائر لائن کو کہاں پہنچایا جائے گا۔ حالات کو جتنا خراب وفاقی وزیر غلام سرور کے بیان نے کیا اس سے زیادہ اب کابینہ کر رہی ہے۔ ایک دن ایک وزیر کہتا ہے سب کے لائسنس اصلی اور ٹھیک ہیں۔ اب کابینہ کہتی ہے کہ چھانٹی جلد کریں۔ اگر لائسنس ٹھیک ہیں تو چھانٹی کس کی۔ چھانٹی کرکے کس کو لانا ہے۔ دوسری طرف پی آئی اے نے یورپی یونین سے اپنی پروازوں پر پابندی ہٹوانے کے لیے اپیل کی تو ردعمل مزید سخت آگیا اور یورپی یونین نے رکن ممالک کو پی آئی اے پر پابندی پر فوری عملدرآمد کی ہدایت کر دی۔ یعنی مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی، اور یہ دوا چونکہ نیم حکیم کر رہے ہیں اس لیے مرض تو بڑھتا ہی جائے گا۔ وزیر متعلقہ غلام سرور نے ڈھائی سو سے زیادہ پائلٹس کے لائسنس جعلی ہونے کا دعویٰ کیا تھا اب یہ فہرست سکڑتے سکڑتے 32 کی رہ گئی ہے اور جن کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے اس میں بھی غلطیاں سامنے آگئیں۔ امریکا سے لائسنس لینے والے پائلٹ کا نام بھی شامل کر دیا گیا جس نے کوئی امتحان پاکستان میں نہیں دیا تھا۔ گویا امریکی نظام پر بھی شبہات ہیں۔ پی آئی اے انتظامیہ ادارے کی تباہی کا سارا ملبہ پائلٹوں پر ڈال رہی ہے جبکہ اپنی نااہلی کی طرف کسی کو دیکھنے نہیں دیتی۔ اب امریکی ردعمل آئے گا تو میڈیا پر ذمے داری ڈال دی جائے گی۔ نااہلی کی بھی انتہا ہوتی ہے۔