پینٹاگون تُرکی سے جنگی جہاز کے پُرزوں کی خریداری بند کرے، امریکی سینیٹرز

309

امریکہ نے تُرکی سے اپنے جنگی جہاز ایف 35 کے پُرزوں کی خریداری کے معاہدہ کی مدت پوری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی سینیٹرز نے پینٹاگون سے کہا ہے کہ وہ ترکی سے جدید ٹیکنالوجی کے فائٹر جیٹ کے پُرزوں کی خریداری کا معاہدہ فوری طور پر ختم کرے۔

ترکی اور امریکہ کے درمیان ایف 35 جیٹ فائٹر کے پُرزوں کی خریداری کا معاہدہ پانچ سال پہلے طے پایا تھا، اس معاہدے کے تحت امریکہ نے ترکی کو ایف 35 طیارے فروخت کرنے کا بھی ایک معاہدہ کیا تھا۔

 اس دوران ترکی نے روس کے ایس 400 میزائل سسٹم خریدنے کا فیصلہ کیا، جس کے بعد امریکہ نے ترکی کو ایف 35 طیارے فروخت کرنے کا معاہدہ منسوخ کر دیا تاہم پُرزوں کی فراہمی کا معاہدہ فی الحال برقرار ہے۔

پینٹاگون کا کہنا ہے کہ ترکی سے کیا گیا معاہدہ پورا کیا جائے گا اور 2022 کے بعد نئے وینڈرز سے ایف 35 کے پُرزے خریدے جائیں گے۔

پانچ امریکی سینیٹرز نے پینٹاگون کو ایک خط لکھا ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہےکہ ترکی سے جدید طیارے کے پرزوں کی خریداری کا معاہدہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دفاعی قانون کی خلاف ورزی ہے۔

 خط میں مزید کہا گیا کہ ایف 35 طیاروں کے پرزوں کی خریداری ایک حساس اور دفاعی نوعیت کے اہم منصوبے میں ترکی کو شامل کرنا امریکی مفادات کے خلاف ہے۔

امریکی سینیٹرز نے وزیر دفاعی مارک ایسپر سے کہا کہ وہ اس حساس معاملے کو دیکھیں اور ترکی سے پرزوں کی خریداری کا معاہدہ ختم کیا جائے۔

امریکی سینیٹرز کا کہنا تھا کہ ترکی نے روس کے ایس 400 ڈیفنس میزائل کے ریڈارز کو امریکی طیاروں پر ٹیسٹ کر لیا ہے اب وہ اپنا میزائل سسٹم بھی ان طیاروں کے ذریعے ٹیسٹ کرنا چاہتا ہے لیکن کورونا وائرس کی عالمی وبا کے باعث ترک منصوبہ تاخیر کا شکار ہو گیا۔