پختونخوا اسمبلی : جامعات میں قرآن باترجمہ پڑھانے کی قرارداد منظور

60

پشاور (خبر ایجنسیاں) خیبر پختونخوا اسمبلی نے یونیورسٹیکی سطح پر قرآن پاک کو اردو ترجمہ کے ساتھ پڑھانے کی قرارداد مشترکہ طور پر منظور کرلی۔منگل کو جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر عنایت اللہ خان، حاجی سراج الدین خان اور خاتون رکن حمیرا خاتون کی جانب سے یہقرارداد ایوان میں پیش کی گئی۔ صوبائی وزیر قانون سلطان محمد خان نے اس کی حمایت کرتے ہوئے اس کو مشترکہ قرارداد قرار دیا۔ عنایت اللہ خان نے ایوان میں قرارداد پیش کرتے ہوئے موقف اپنایا کہ دستور پاکستان میں واضح طور پر درج ہے کہ ملک کا سرکاری نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہوگا اور قرآن و سنت کو سپریم لا کا درجہ حاصل ہوگا لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ اعلیٰ تعلیمی اداروں (جامعات) میں قرآن فہمی کا بھر پور اہتمام ہو اوراس مقصد کے لیے صوبے بھر کی تمام جامعات میں قرآن مجید کو قومی زبان اردو میں پڑھانے کا اہتمام لازمی کیا جائے تاکہ اسلامی تعلیمات سے بہتر انداز میں استفادہ کیا جاسکے۔ وزیر قانون سلطان محمد خان نے قرارداد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ قرآنی تعلیمات کو عام کرنا ہمارے آئین کے عین مطابق ہے اور جامعات میں قرآن کو ترجمے کے ساتھ پڑھانے کے نتیجے میں طلبہ زیادہ بہتر طور پر اسلامی تعلیمات سے روشناس ہو سکیں گے۔انہوں نے کہا کہ حکومت اس قرارداد کی مکمل حمایت کرتی ہے جس پر اسپیکر صوبائی اسمبلی نے صوبے بھر کی جامعات میں قرآن پاک ترجمعہ کے ساتھ پڑھانے کے حوالے سے مشترکہ قرارداد کو منظور لیا۔ اس کے علاوہ خیبر پختونخوا اسمبلی نے قبائلی علاقوں میں موبائل سروس و انٹرنیٹ سروس کی بحالی اور مانسہرہ میں بارش سے نقصانات کے ازالے سے متعلق قراردادیں بھی متفقہ طور پر منظور کرلیں۔