دستبرداری کے سکھ

525

1965کی پاک بھارت جنگ میں ایک قومی ترانہ بہت مشہور ہوا تھا ’’اے مردِ مجاہد جاگ ذرا اب وقت شہادت ہے آیا‘‘۔ بھارتی میڈیا نے چند روز پہلے دعویٰ کیا کہ بھارت چین کشیدگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان نے اپنے بیس ہزار فوجی کنٹرول لائن پر تعینات کردیے ہیں۔ ہمیں لگا کہ 1962 کی کوتا ہی کے ازالے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ چین بھارت کشیدگی کا ایسا ہی ماحول تھا جب چین نے پاکستان کو بھارت پر حملہ کرکے مقبوضہ کشمیر آزاد کرانے کا مشورہ دیا تھا کہ بیک وقت دو محاذوں پر جنگ بھارت کے لیے ممکن نہیں ہو گی۔ کشمیر آزاد کرانے کا یہ موقع ہماری فوجی قیادت نے اس سہل پسندی سے گنوا دیا تھا کہ حیرت ہوتی ہے۔ اس مرتبہ افواج پاکستان کے متحرک ہونے کی خبر سنی تو ہمیں گمان ہوا کہ طویل نیند کے بعد بالآخر مردِ مجاہد جاگ اٹھا ہے۔ لیکن اگلے ہی دن آرزئوں کے غنچے مرجھا گئے۔ تردید آگئی ’’پاک فوج نے گلگت بلتستان اور کنٹرول لائن پر اضافی فوج کی تعیناتی اور چین کے اسکردو ائر بیس کے مبینہ استعمال سے متعلق بھارتی میڈیا کی خبروں کو بے بنیاد اور من گھڑت قرار دے کر مسترد کردیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے ایک ٹویٹ میں کہا اس طرح کی کوئی نقل وحرکت یا اضافی افواج کی تعیناتی عمل میں نہیں لائی گئی‘‘۔
صاحبو! دنیا میں سکون سے رہنے کا ایک ہی طریقہ ہے ’’دستبرداری، لاتعلقی‘‘۔ تعلق بہت دکھ دیتے ہیں۔ لاتعلق ہو جائیں زندگی سکھی ہو جائے گی۔ کسی نے آپ کے پلاٹ پر قبضہ کر لیا۔ اپنی ملکیت پر زبردستی قبضے کا دکھ آپ کو سدا بے چین رکھے گا۔ قبضہ ختم کرانے کی کوششوں میں آپ خود کو ہلکان کرلیں گے۔ اتنی پریشانی میں پڑنے کے بجائے ایسا کریں کہ اپنے حق ملکیت سے دستبردار ہوجائیں۔ اگلے ہی دن زندگی پر سکون ہو جائے گی۔ کسی نے آپ کے بہن بھائیوں، ماں باپ کو یرغمال بنا لیا، قتل کردیا، آبروریزی کردی۔ انتقام، بدلہ اور ظالم کو سزا دینے کا خیال آپ کی زندگی کو جہنم بنادے گا۔ آپ ہر وقت انتقام کی آگ میں سلگتے رہیں گے۔ غصہ تھوک دیجیے۔ لاتعلق ہو جائیے۔ اپنی زندگی کی قدر کیجیے۔ زندگی بار بار تھوڑی ملتی ہے۔ امت مسلمہ کا تصور ہماری بنیادوں میں بارود کی مانند ہے۔ اس قسم کے تصورات سے خود کو دور رکھیے۔ کشمیر میں بھارتی افواج مسلمانوں پرظلم کر رہی ہیں۔ افسوس ہوتا ہے، افسوس کیجیے، اگر کسی اعلیٰ عہدے پر ہیں تو ایک آدھ بیان بھی دے دیجیے۔ لیکن اس کے لیے جنگ، خطے کا امن تباہ کرنا۔ یہ آرزو بھی حاشیۂ خیال میں نہیں آنی چا ہیے۔ ہماری تخلیق کا مقصد پڑ وسیوں سے اخلاص اور خلوص کے ساتھ رہنا ہے، افواج پاکستان کی طرح، جو تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ پر امن بقائے با ہمی پر یقین رکھتی ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے ٹویٹ کے اگلے ہی دن وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا۔ اجلاس میں وزیر دفاع پرویز خٹک، چیئرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضا، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ، چیف آف نیول اسٹاف ایڈ مرل ظفر محمود عباسی، چیف آف ائر اسٹاف ائر چیف مارشل مجاہد انور خان اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے شرکت کی۔ اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ ملکی خودمختاری کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جائے گا۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کی طرف سے انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں پر اعلیٰ سطح کی ’’اجتماعی دانش‘‘ نے ’’شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ’’عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اس کا نوٹس لے‘‘۔ جب ہم عالمی برادری کہتے ہیں تو اس کا مطلب ہے ’’مغرب‘‘۔ مغرب سے مراد ہے ’’یہود ونصاریٰ‘‘۔ اللہ کی آخری کتاب میں جن کے بارے میں مسلمانوں کو تنبیہ کرتے ہوئے اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا ہے کہ: ’’اے ایمان والو! تم یہود ونصاریٰ کو دوست نہ بنائو یہ تو آپس ہی میں ایک دوسرے کے دوست ہیں، تم میں سے جو بھی
ان میں سے کسی ایک کے ساتھ دوستی کرے گا وہ بلاشبہ انہیں میں سے ہے: المائدہ‘‘۔ یقینا ہماری اعلیٰ کمان اس فرمان باری تعالیٰ پر یقین رکھتی ہے۔ اسی لیے اجلاس میں دوسرے آپشن پر بھی زور دیا گیا۔ بھارت سے کہا گیا ہے کہ وہ تمام مقبوضہ علاقے خالی کرے اور 5اگست 2019 کے بعد سے لاگو تمام سخت قوانین کو کالعدم قراردے۔ خود کچھ کرنے کے بجائے بھارت کو یہ مشورہ کیوں دیا گیا۔ بات یہ ہے کہ ہماری فوجی کمان کو اندرون ملک بہت کام ہیں۔ حکو متیں سلیکٹ کرنی ہوتی ہیں، خارجہ پالیسی کی حکمت عملی تیار کرنی ہوتی ہے، اعلیٰ اداروں کو چلانا ہوتا ہے، عدلیہ کو گائیڈ لائن دینی ہوتی ہیں، سیا ست کی سمت متعین کرنی ہوتی ہے، احتسابی عمل کی نگرانی کرنی ہوتی ہے وغیرہ وغیرہ۔ ان تمام کاموں کی موجودگی میں اتنی فرصت کہاں کہ کشمیر آزاد کرانے کی جھک جھک میں پڑا جائے۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ بھارت ازخود مقبوضہ علاقے خالی کردے اور 5اگست کے بعد سے جاری کیے گیے قوانین کو کالعدم قراردے۔ ہمیں اس جھنجھٹ میں نہ ڈالے۔ یہ بھارت کے لیے ایک عمدہ تجویز ہے جو بھارتی قیادت کے گمان میں بھی نہیں ہوگی۔ امید ہے حکومت پاکستان کے شکریہ کے ساتھ جلد ہی بھارتی حکومت اس تجویز کو قبول کرلے گی اور مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کو اس بات کی اجازت دیدے گی کہ وہ پاکستان کے ساتھ الحاق کرلیں۔ اجلاس میں مودی حکومت کو ایک مشورہ اور دیا گیا ہے۔ وہ یہ کہ بھارت انسانی حقوق کی تنظیموں، غیر جانبدار مبصرین اور عالمی میڈیا کو مقبوضہ علاقے کا دورہ کرائے اور کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق اپنا حق خود ارادیت استعمال کرنے دے۔ یہ ترپ کا وہ پتا ہے جس کے سامنے بھارتی قیادت بے بسی کی تصویر بن جاتی ہے کیونکہ جس دن انسانی حقوق کی تنظیموں، غیر جانبدار مبصرین اور عالمی میڈیا نے مقبوضہ کشمیر کا دورہ کرلیا اس کے اگلے ہی دن کشمیر آزاد ہوجائے گا۔ بھارت ان سب کے پیروں میں گرجائے گا کہ دنیا کو مقبوضہ کشمیر کی اصل صورتحال سے با خبر نہ کریں۔ ورنہ دنیا بھارت پر چڑھائی کردے گی۔ آپ سلامتی کونسل کی قراردادوں سے ہمیں آگاہ کیجیے ہم کل ہی ان قراردادوں پر عمل کیے دیتے ہیں۔ اتنی سی بات کے لیے آپ سب اتنا پریشان ہورہے تھے۔ ہمیں پہلے کہتے ہم پہلے کشمیر آزاد کردیتے۔
سوال یہ ہے کہ ہماری ہائی کمان کسے بیوقوف بنارہی ہے۔ بھارت کو جس کے سیاست دان دنیا کے چالاک ترین سیاست دانوں میں شمار ہوتے ہیں یا پھر پا کستان کے عوام کو۔ پاکستان کی مسلح افواج کا شمار دنیا کی بہترین لڑاکا فوج میں ہوتا ہے جو بھارت کو کشمیر میں باآسانی شکست دے سکتی ہیں کیونکہ کشمیری عوام کی بھرپور تائید بھی انہیں حاصل ہوگی۔ ایک طرف کشمیری مجاہدین کی سرگرمیاں اور دوسری طرف پاکستان کی بہادر فوج کی کاروائیاں بھارت زیادہ عرصہ مقابلہ نہیں کرسکتا۔ پھر ہمیں اپنے معاملات استعماری طاقتوں کے سامنے رکھنے کی کیا ضرورت ہے جو ہماری دشمن اور بھارت کی دیرینہ دوست ہیں۔ جو اسلام اور مسلم دشمنی میں بھارت سے کسی طرح کم نہیں بلکہ زیادہ ہی تباہ کن ہیں۔
پاکستان اسٹاک ایکس چینج پر حملے میں سول اور فوجی قیادت متفق ہے کہ اس حملے میں بھارت ملوث ہے۔ دعویٰ کیا گیا کہ بھارت کو دنیا کے سامنے بے نقاب کردیا گیا۔ بھارت تو پہلے ہی دن سے پاکستان دشمنی کے باب میں بے نقاب ہے۔ بے نقاب بھارت نہیں ہماری قیادت ہوتی ہے جو امریکی ڈکٹیشن پر پا کستان کی بہادر افواج کو بھارت پر حملے اور منہ توڑ جواب دینے سے روک رہی ہے جو خطے میں بھارتی بالادستی کے امریکی خواب کو پورا کررہی ہے۔ بھارت چاہے مقبوضہ کشمیر ہڑپ کر جائے، کنٹرول لائن پر بمباری کرتا رہے، اندرون ملک دہشت گردی کی وارداتیں کرتا رہے ہماری اعلیٰ قیادت کو سوائے پھس پھسے بیانات دینے کے کچھ نہیں کرنا۔ ہماری قیادت کی بے عملی مجرمانہ حدوں کو چھورہی ہے۔ ہمیں بالآخر جہاد کی طرف آنا ہوگا۔ امریکا جیسی سپر پاور بھی جس کے سامنے بے بس ہوکر رہ گئی لیکن ایسی قیادت سے کیا امید جو مسجدیں مسمار کررہی ہے اور مندر تعمیر کرر ہی ہے۔