آنکھیں تو کھول شہر کو سیلاب لے گیا

206

برسہا برس سے ایک ہی کہانی چل رہی ہے، مون سون آنے سے چند روز قبل سرکاری اداروں کے اجلاس شروع ہوتے ہیں، رین ایمرجنسی نافذ کر دی جاتی ہے۔ وزرا، میئر وغیرہ بیان دیتے ہیں کہ اب کی بار شہر میں پانی جمع نہیں ہوگا، نالے صاف کرنے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں، لیکن چند ہی روز میں بارش ہوتی ہے، نالے بھر جاتے ہیں، سڑکوں پر پانی کھڑا ہو جاتا ہے، گٹر ابل جاتے ہیں، درخت گر جاتے ہیں اور بجلی… اس کی نہ پوچھیں کیونکہ نااہلی کے تمام ریکارڈ توڑ کر یہ ادارہ ملک بھر میں اور خصوصاً کراچی میں کے الیکٹرک بدمعاش ادارہ ہے۔ حالیہ نصف گھنٹے سے بھی کم کی بارش میں سارے دعوے اور اعلانات بہہ گئے۔ اب صرف لیپا پوتی ہوگی۔ بارش کے موسم کے لیے ایک ڈیڑھ ماہ قبل درختوں کی کٹائی اور نالوں کی صفائی ہوتی ہے۔ لیکن یہاں چند روز قبل تک اجلاس ہوتے رہے۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ سندھ کے چیف سیکرٹری بلدیات کا پیر کے روز بیان شائع ہوا کہ عالمی اداروں کے فنڈز سے نالوں کی صفائی شروع کر دی گئی ہے لیکن ظاہر ہے یہ جھوٹ تھا اسی شام کو کراچی جل تھل ہو گیا۔ اگر یہ بارش مون سون کی بارش کی طرح آدھا دن بھی ہو جاتی تو این ڈی ایم اے کی پیش گوئی درست ثابت ہو جاتی کہ کراچی ڈوب سکتا ہے۔ روشن شیخ صاحب نے یہ بھی بتا دیا کہ عالمی اداروں کی فنڈنگ بھی ٹھکانے لگائی جا رہی ہے۔ بلدیات اور سندھ حکومت بانجھ ہیں ان کے پاس ٹکا بھی نہیں ہے۔ تھوڑی دیر کی بارش نے تمام دعوے پانی میں ڈبو دیے۔ کراچی کا حال یہ ہے کہ سو سے زاید آبادیاں بالکل زیر آب آگئیں۔ اہم شاہراہوں پر پانی کھڑا ہو گیا۔ گٹر، لائنیں ابل پڑیں، بجلی کا نظام تباہ ہو گیا۔ کے الیکٹرک نے 118 پر کال سینٹر سے فون اٹینڈ کرنے کا سلسلہ بند کر دیا۔ ایس ایم ایس کے ذریعے شکایت پر بھی جھوٹ بول دیا گیا کہ آپ کے علاقے میں فنی خرابی ہے ہماری ٹیم کام کر رہی ہے۔ گلشن اقبال، بہادرآباد اور پی ای سی ایچ ایس، صدر، فیڈرل بی ایریا علاقے میں درخت گر گئے اور بجلی منقطع ہو گئی۔ کے الیکٹرک کا عملہ یہ کہہ کر چلا گیا کہ درخت ہٹیں گے تو کام ہو گا۔ تھوڑی سی بارش سے تمام دعوے پانی میں ڈوب گئے مگر جنہیں ڈوب مرنا تھا وہ بیان بازی میں لگے ہوئے ہیں۔ انہیں سیاست کی فکر کھائے جا رہی ہے عوام تو گئے بھاڑ میں، سڑک پر کرنٹ لگنے سے مر رہے ہیں لیکن میئر کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ صوبائی حکومت پر کوئی فرق نہیں پڑا سب کے معمولات جاری ہیں۔ مفلوج تو شہری ہو گئے ڈوبنے والے مزے میں ہیں۔ پاکستان کے عوام کم و بیش 70 برس سے قوم کے ساتھ دھوکا کر رہے ہیں۔ کوئی چیز نہیں بدلی۔ بقول جالب دن بدلے ہیں فقط وزیروں کے… عام آدمی تو بہت بری طرح عذاب سے دوچار ہے۔ حکمرانوں کی طرح سرکاری ادارے بھی کام کر رہے ہیں۔ کراچی کے لوگوں نے کے الیکٹرک کی لوڈشیڈنگ، جعلی بلوں اور نرخ میں اضافے اور چوریوں کی شکایت کی تو نیپرا نے لوڈشیڈنگ کا نوٹس لے لیا اور جمعے کو عوامی سماعت کا اعلان کیا ہے۔ لیکن اس سے قبل عوامی سماعتوں کا کیا بنا۔ بہت بڑا تیر مارا گیا تو چند لاکھ روپے جرمانہ کر دیا گیا۔ کے الیکٹرک تو گھنٹوں میں کروڑوں کمانے والا ادارہ ہے۔ اب تو بارش ہو گئی ہے ورنہ عام دنوں میں بھی لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ علاقوں میں بھی تین گھنٹے روزانہ لوڈشیڈنگ ہوتی رہی ہے اور مذاق یہ ہے کہ اپریل کے بل میں جو رقم تھی مئی کے بل میں اس سے ڈھائی تین ہزار زیادہ تھی۔ جبکہ اس ماہ عمومی طور پر 90 گھنٹے بجلی کم ملی اور اب تو روزانہ دس بارہ گھنٹے بجلی کی فراہمی میں تعطل عام ہے۔ اس اعتبار سے پندرہ سے 18 روز بجلی دے کر پہلے سے زیادہ کا بل آجاتا ہے۔ نیپرا کے الیکٹرک کی اس ٹیکنالوجی کا بھی پتا کرے کہ وہ یہ کام کیسے کر لیتی ہے۔ اس کے میٹروں کو ریموٹ کنٹرول کے ذریعے تیز کرنے کی شکایات پہلے بھی کی جا چکیں لیکن نیپرا اس پر توجہ نہیں دیتی۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ نیپرا، حکومت اور عدالت کو عوام کے حقوق کا تحفظ کرنا چاہیے لیکن ان سب کے اقدامات اور احکامات کے نتیجے میں کے الیکٹرک اب قابو سے باہر ہو چکا ہے۔ پچھلے سال کرنٹ سے 40 اموات پر کیا کارروائی ہوئی۔ مزید افراد کی ہلاکتیں ہو گئیں۔ عوام ثبوت ہی تلاش کرتے رہ جائیں گے۔ یہ بتانے کی بات نہیں ہے حقیقت ہے کہ وفاقی حکومت نے بجلی کے نرخ خود بڑھائے ہیں۔ پی ٹی آئی وفاق مین حکمران سے اور پیر کو فردوس شمیم نقوی کے الیکٹرک کے خلاف احتجاج کا اعلان کر رہے تھے۔ اس سے بڑی منافقت اور کچھ ہو سکتی ہے۔ فی الحال بارش کے موسم کا آغاز ہو چکا ہے اور جب تک یہ موسم رہے گا۔ سڑکوں پر پانی، بجلی اور گھروں میں پانی کا بحران رہے گا۔ سندھ اسمبلی میں کوئی ہے جو حکومت کی گرفت کرے۔ مرکزی اسمبلی میں حلیف اور اپوزیشن لڑنے میں مصروف ہیں۔ عوام کے حقوق کا تحفظ کیوں نہیں کرتے۔ امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے مہنگائی، بدامنی اور بیروزگاری کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے۔ عوام اس تحریک کا ساتھ دیں تو انہیں اس عذاب سے نجات ملے گی اور اب تو ایم کیو ایم کے سابق رہنما، جاہل آن لائن اور اب پی ٹی آئی میں شامل عامر لیاقت بھی کراچی کے لیے میدان میں آگئے۔ ان کو اچانک الہام ہوا کہ کراچی مشکل میں ہے۔ اس طرح وہ پھر کراچی کی سیاست میں ٹانگ اڑانا چاہتے ہیں، ٹی وی پروگراموں سے تسلی نہیں ہوئی۔