ایران اور چین میں 25 سالہ معاہدے کیلئے مذاکرات

91

تہران (انٹرنیشنل ڈیسک) ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے کہا ہے کہ ایران اور چین کے درمیان 25 سالہ معاہدے کے لیے مذاکرات جاری ہیں، جس کی شرائط کا اعلان معاہدہ طے ہونے کے بعد کیا جائے گا۔ فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جواد ظریف نے پارلیمان کے اجلاس میں بتایا کہ اعتماد اور یقین کے ساتھ ہم ایران کے اہم تجارتی شراکت دار چین کے ساتھ 25 سالہ تزویراتی معاہدے پر مذاکرات کررہے ہیں۔ خیال رہے کہ ایرانی خام تیل برآمد کنندگان کے لیے چین ایک اہم مارکیٹ بھی ہے، تاہم 2018ء میں واشنگٹن کی جانب سے جوہری معاہدے سے دستبردار ہونے کے بعد امریکی پابندیوں کے نفاذ سے تیل کی برآمدات شدید متاثر ہوئی ہیں۔ گزشتہ ماہ ایران کے سابق صدر محمود احمدی نژاد کی جانب سے کسی ملک کے ساتھ مذاکرات کی رپورٹس مسترد کرنے کے بعد چین کے ساتھ معاہدہ ایرانی سوشل میڈیا پر ان دنون زیر بحث ہے۔ تاہم جواد ظریف نے کہا کہ چین سے معاہدے کے متعلق کچھ خفیہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب معاہدہ ہوجائے گا تو قوم کو آگاہ کردیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جنوری 2016ء میں چینی صدر شی جن پنگ کے تہران کے دورے پر اس حوالے سے اعلان کیا گیا تھا۔ خیال رہے کہ کورونا وائرس کے بحران نے ایران کے معاشی مسائل میں اضافہ کردیا ہے، جو 2018ء میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان ہونے والے جوہری معاہدے سے دستبرداری اور دوبارہ پابندیاں نافذ کرنے سے پہلے ہی انتہائی خراب تھے۔ جب کہ 22 جون کو ایرانی ریال کی قدر بھی امریکی ڈالر کے مقابلے میں کم ترین سطح پر چلی گئی تھی۔