دوران حج کعبہ اور حجرا اسود کو چھونے پر پابندی

91

ریاض (انٹرنیشنل ڈیسک) سعودی عرب نے رواں برس فریضہ حج سے متعلق خصوصی ضابطہ اخلاق متعارف کراتے ہوئے متعلقہ شعبوں، خدمات فراہم کرنے والے اداروں، تنظیموں، رضاکاروں، رہایشی مقامات، ہوٹلوں اور بسوں سمیت تمام متعلقہ امور کے لیے ہدایات جاری کی ہیں۔ خبر رساں اداروں کے مطابق حکومت نے اعلان کیا ہے کہ 28 ذیقعد سے 12 ذی الحج تک کسی شخص کو بغیر اجازت منیٰ، مزدلفہ اور عرفات میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔ رواں برس کورونا وبا کے باعث فریضہ حج محدود کرنے کے باعث سعودی عرب میں مقیم غیر ملکی مسلمانوں اور مقامی شہریوں کو مناسب حج کی اجازت ہے، اس سلسلے میں حج کے لیے رجسٹریشن کرانے والے تمام افراد دیگر دستاویزات کے ساتھ اپنی صحت کے حوالے سے مصدقہ سرٹیفکیٹ بھی شامل کریں گے۔ ہدایات کے مطابق تمام مراحل میں عازمین حج کو ماسک استعمال اور سماجی دوری کے ضوابط پر عمل کرنا ہوگا۔ عازمین حج کے لیے سماجی دوری کے اصول کے تحت 2 افراد کے درمیان کم سے کم ڈیڑھ میٹر کا فاصلہ رکھنے کو کہا گیا ہے۔ کوئی شخص اپنے پاس اضافی سامان نہیں رکھ سکے گا۔ ہدایات کے مطابق دوران طواف کعبہ اور حجر اسود کو چھونے پر پابندی ہوگی۔منیٰ میں رمی کے لیے حاجیوں کو پیکٹ میں کنکریاں دی جائیں گی جن پر پہلے سے جراثیم کش اسپرے کیا گیا ہوگا۔ کھانا ڈبوں میں پیک فراہم کیا جائے گا جب کہ آب زم زم کے کولر عام حالات کے برعکس ہٹا دیے جائیں گے۔ کسی شخص میں مرض کی علامات ظاہر ہونے پر اسے دوسروں سے الگ کردیا جائے گا۔ واضح رہے کہ رواں برس 65 برس سے زائد عمر کے افراد حج کی سعادت حاصل نہیں کر سکیں گے۔ حج کے موقع پر جاری کی گئی خصوصی رہنما ہدایات میں صفائی ستھرائی سے متعلق تاکید کی گئی ہے کہ کرسیاں، بسوں کی نشستیں، دروازے، کھانے کی میزوں سمیت تمام ایسے مقامات جنہیں ہاتھوں سے چھوا جا سکتا ہے، کو سینی ٹائزر سے صاف کیا جائے۔