قرآن کی تعلیم پر تین سیکولر کالم نگاروں کا حملہ (آخری حصہ)

479

سلینا کریم نے قائد اعظم پر ایک ضخیم کتاب ’’SECULAR JINNAH And PAKISTAN what The Nation Doesn’t Know‘‘ لکھی ہوئی ہے۔ چودہ ابواب پر مشتمل اس کتاب کے ایک پورے باب کا عنوان ہے۔
The Quran and Jinnah’s Speeches۔ یعنی قرآن اور جناح کی تقاریر۔ اس باب میں سلینا کریم نے سات موضوعات پر قائد اعظم کی تقاریر کے اقتباسات پیش کیے ہیں اور پھر وہ قرآنی آیات درج کی ہیں جن سے قائد اعظم کے سات بیانات برآمد ہوئے ہیں۔ تفصیلات کے لیے ملاحظہ کیجیے۔
Secular Jinnah and Pakistan۔ صفحہ 235 سے صفحہ 252 تک۔ اس باب کے خاتمے پر سلینا کریم جس ’’Conclusion‘‘ تک پہنچتی ہیں وہ یہ ہے۔
“Hopefolly these examples should suffice to demonstrate how staunchly Jinnah abided by Quranic Principles both in letter and in spirit. He was especially dedicated to Living by the most important Quranic Principle, tauheed, or unity.”
ترجمہ:۔ ’’یہ مثالیں یہ ظاہر کرنے کے لیے کافی ہیں کہ جناح کس پر جوش طریقے سے قرآنی اصولوں کی لفظی اور معنوی اعتبار سے پاسداری کرتے تھے۔ وہ خاص طور پر قرآن کے اصول توحید کے مطابق زندگی بسر کرتے تھے‘‘۔
جیسا کہ ظاہر ہے یہ کسی ’’اسلامسٹ‘‘ کی رائے نہیں بلکہ یہ ایک سیکولر اسکالر کی رائے ہے۔ ایک اطلاع کے مطابق یہ سیکولر اسکالر آج کل اس بات پر تحقیق کررہی ہیں کہ قائد اعظم کی تقاریر کی جڑیں کن کن احادیث میں پیوست ہیں۔
ایاز امیر نے لکھا ہے کہ مغرب کی جن جامعات سے اقبال اور قائد اعظم نے تعلیم حاصل کی ان جامعات میں اگر کسی طالب علم کو انجیل کی آیات پڑھنے کے لیے کہا جاتا تو وہاں قہقہہ بلند ہوتا۔ ایاز امیر کا خیال غلط نہیں۔ مغرب کے بے خدا، لامذہب، رسالت اور وحی بیزار معاشرے میں ایسا ہی ہوگا لیکن کیا پاکستانی معاشرہ بھی خدا کا انکار کرچکا ہے۔ مذہب سے لاتعلق ہوچکا ہے۔ رسالت اور وحی کا منکر ہوچکا ہے؟ نہیں، تو پھر ایاز امیر اور ان جیسے سیکولر اور لبرل جہلا پنجاب کی جامعات میں قرآن کی تعلیم کا مذاق کیوں اُڑا رہے ہیں؟۔
غازی صلاح الدین نے قرآن کی تعلیم پر Believe it or not کے الفاظ اس طرح لکھے ہیں جیسے ویٹی کن سٹی میں نفاذ اسلام کردیا گیا ہو۔ ارے بھائی یہ ابھی تک اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے، یہاں تعلیمی اداروں میں قرآن نہیں تو کیا بائبل اور گیتا پڑھائی جائے گی۔ ہمیں یقین ہے کہ پنجاب کی جامعات میں اگر بائبل اور گیتا کی تعلیم لازمی قرار دے دی گئی ہوتی تو غازی صلاح الدین خوشی سے بے ہوش ہوجاتے۔ البتہ قرآن کی تعلیم سے ان کا رنگ فق ہوگیا ہے۔
آئی اے رحمن کی دیدہ دلیری ملاحظہ کیجیے انہوں نے قرآن کی تعلیم کو ’’سزا‘‘ ہی بنادیا۔ پاکستان کے سیکولر اور لبرل لوگوں کے لیے سیکولر ازم اور لبرل ازم کی تعلیم ’’جزا‘‘ ہے اور قرآن کی تعلیم سزا ہے۔ آئی اے رحمن کی جہالت کا یہ عالم ہے کہ انہوں نے قرآن کی آیت ’’دین میں کوئی جبر نہیں‘‘ تک کو اپنے ناپاک مقصد کے لیے استعمال کر ڈالا۔ ارے بھائی دین میں کوئی جبر نہیں کا تعلق اس بات سے ہے کہ اسلام میں کسی غیر مسلم کو جبر کے تحت مشرف بہ اسلام نہیں کیا جاسکتا۔ البتہ ایک اسلامی ریاست میں قرآن و سنت کی تعلیم جبر نہیں عین رحمت ہے۔ کتنی عجیب بات ہے کہ پاکستان کے سیکولر اور لبرل عناصر سرعام قرآن و سنت کے خلاف صف آرا ہوگئے ہیں، مگر نہ ریاست کو اس بات کی فکر ہے، نہ علما اور مذہبی طبقات اس کا نوٹس لے رہے ہیں۔