بلدیہ فیکٹری پر جے آئی ٹی کا مذاق

300

پاکستان میں جے آئی ٹی اب مذاق بن چکی ہے جوائنٹ انوسیٹی گیشن ٹیم کی رپورٹ کی قانونی حیثیت بھی شہادت کے برابر نہیں لیکن یہ رپورٹس اخبارات کو جاری کی جاتی ہیں ان کے سیاسی فائدے اٹھائے جاتے ہیں اور پھر طویل خاموشی ہو جاتی ہے۔ پاکستان کے 9/11 سانحہ بلدیہ ٹائون فیکٹری کو دس برس ہونے کو ہیں اب تک ہمارا عدالتی نظام 260 گھرانوں کو انصاف نہیں دے سکا۔ ایک جے آئی ٹی بنتی ہے عدالت اسے ختم کر کے نئی جے آئی ٹی بناتی ہے۔ گواہ بلائے جاتے ہیں گواہ بھاگ جاتے ہیں۔ ایک ملزم پورا پورا اعتراف کرتا ہے پھر وہ بے گناہ نکلتا ہے یا اس کے خلاف ثبوت نہیں ملتا۔ اب سانحہ بلدیہ ٹائون فیکٹری کی جے آ ئی ٹی رپورٹ میں 260 خاندانوں کے زخموں پر جو نمک چھڑکا گیا ہے اس کا ذمے دار عدالتی نظام کو قرار دیا جائے یا سانحے کے ذمے داروں کے پشت پناہوں کو جو بہت طاقتور ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ واقعے میں ایم کیو ایم والوں کا ہاتھ تھا جو ایسا انکشاف ہے کہ اس پر ہر سننے والا اپنا سر پیٹ لے گا۔ قوم کو یہ حقیقت بتانے میں ہمارے تحقیقاتی اداروں نے دس سال لگا دیے۔ جو ملک کے بچے بچے کو پہلے ہی سے معلوم ہے۔ جے آئی ٹی کے نام پر نہایت بھونڈا مذاق کیا گیا ہے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آتشزدگی اتفاقی نہیں تھی منظم منصوبہ بندی کے تحت دہشت گردی کا واقعہ تھا بھتا نہ دینے پر آگ لگائی گئی تھی۔ یہ کیا بکواس ہے۔ اسے بکواس ہی کہا جا سکتا ہے۔ ایسے واقعات منظم منصوبے کے تحت ہی ہوتے ہیں فیکٹری میں تالا اتفاقا نہیں لگتا اسے کھولنے یا توڑنے سے اتفاقا روکا نہیں جاتا۔اور نہ ملنے پرکیا کرتا تھا یہ بھی سب کو معلوم ہے ۔ اب نیا مذاق یہ کیا گیا ہے کہ نئی ایف آئی آر درج کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کام کی کون ضمانت لے گا کون بتائے گا کہ پچھلی ایف آئی آر میں کیا لکھا تھا اور نئی میں کیا لکھا ہے کون سا جملہ گھما کر کہ اصل مجرموں کو تحفظ دیا گیا ہے۔ ایسی کوئی طاقت پاکستان میں نہیں جو سانحہ بلدیہ فیکٹری کے متاثرین کو انصاف دلوا سکے۔ کسئی جے آئی ٹی، کسی پولیس تحقیقاتی اداروں میں یہ قوت نہیں کہ مجرموں کو سزا دلوا سکے۔ ان سب کے پر جلتے ہیں۔ بلدیہ ٹائون کے متاثرین جدوجہد تو نہ چھوڑیں ہر راستہ اختیار کریں لیکن ان کو انصاف اللہ کی عدالت ہی میں ملے گا جہاں کوئی جے آئی ٹی نہیں ہوگی مجرم خود بولے گا اس کے ہاتھ پائوں بولیں گے رواں رواں گواہی دے گا۔ یہ گلا سڑا عدالتی نظام دس سال کیا سو سال میں بھی انصاف نہیں دلا سکے گا۔ عافیہ کو 17 برس ہو گئے کیا کر لیا۔ بے نظیر بھٹو کے قاتلوں کو پیپلز پارٹی نہیں پکڑ سکی۔ جنرل ضیا سمیت 29 جرنیلوں کے قاتلوں کا پتا نہیں چلا۔ اس کی بھی نئی جے آئی ٹی اور ایف آئی آر درج کی جائے کیا؟