حب کی صنعتوں کے گیس پریشر میں کمی ،پیداواری سرگرمیاں متاثر

60

کراچی(اسٹاف رپورٹر)ایمپلائرز فیڈریشن آف پاکستان (ای ایف پی) اور لسبیلہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر اسماعیل ستار نے حب انڈسٹریل اینڈ ٹریڈنگ اسٹیٹ کی صنعتوں کوفراہم کی جانے والی گیس کے پریشر میں کمی اور مسلسل اتار چڑھاؤ پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے صنعتی پیداواری سرگرمیوں میں رکاوٹ کا باعث اور ناقابل برداشت قرار دیا ہے اور وفاقی حکومت سے اس کا نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سوئی سدرن گیس کمپنی ( ایس ایس جی سی ) کو حب انڈسٹریل اینڈ ٹریڈنگ اسٹیٹ کی صنعتوں کو بلاتعطل اور مکمل پریشر کے ساتھ گیس کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی جائے تاکہ عالمی مارکیٹ میں پاکستانی برآمدکنندگان مسابقت کے قابل ہو سکیں بصورت دیگر ملکی برآمدات پر اس کے انتہائی منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ای ایف پی کے صدر نے ایک بیان میں کہاکہ کورونا وبا کی وجہ سے پہلے ہی ملک معاشی بحرانوں سے دوچار ہے جبکہ مینوفیکچررز بھی شدید مالی بدحالی کا شکار ہیں لہٰذا ان مشکل حالات میں صنعتوں کے گیس پریشر میںکمی ظلم وزیادتی سے کم نہیں۔ ایس ایس جی سی کو گیس کی فراہمی میں تعطل اور پریشر میں کمی کی صورت میں حب میں واقع صنعتوں کو مطلع نہ کرنے پر جوابدہ ہونا چاہیے کیونکہ کورونا سے پیدا ہونے والی سنگین صورتحال میں صنعتوں نے بمشکل پیداواری سرگرمیاں بحال کی ہیں اور صنعتکار برادری پوری کوشش کررہی ہے کہ کورونا سے متاثر ہونے کے باوجود عالمی مارکیٹوں سے برآمدی آرڈرز حاصل کیے جاسکیں اور ان آرڈرز کی بروقت تکمیل ممکن بنائی جاسکے۔انہوں نے کہاکہ یہ خدشہ ظاہر کیا جارہاہے کہ آئندہ مالی سال میں جی ڈی پی میں 100 ارب ڈالر سے زائد کی کمی ہوسکتی ہے لہٰذا اس صورتحال کو مدنظر رکھ کر برآمد کنندگان کو گیس سپلائی کرنے والی کمپنیوں کے خلاف حکومت کی طرف سے تحفظ کی اشد ضرورت ہے۔