مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فاشسٹ عزائم کو لگام ڈالی جائے ‘پاکستان کاسلامتی کونسل سے مطالبہ

132

نیویارک(اے پی پی)اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر منیر اکرم نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیاہے کہ کشمیر میں بھارت کے مظالم کی مذمت کر کے بھارتی فاشسٹ عزائم کو لگام ڈالی جائے ،بھارت نے جموں و کشمیر پر اپنے قبضے کو مزید آگے بڑھانے کے لیے کورونا وائرس کے بحران سے کشمیریوں کاپْر زور استحصال کیا ہے ۔انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زوردیاکہ کشمیری عوام کے خلاف کھلی جارحیت اور مظالم کو ختم کرایا جائے۔منیر اکرم نے 15 رکنی تنظیم سے مطالبہ کیاکہ کونسل کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کی غیر قانونی کارروائیوں کی مذمت کرنی چاہیے اور بھارت کے فاشسٹ عزائم کو لگام ڈالنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانے چاہییں جو ہمارے خطے اور اس سے باہر کے امن و سلامتی پر بہت زیادہ دباؤ ڈال رہے ہیں ۔ پاکستانی مندوب سلامتی کونسل کے وسیع پیمانے پر ہونے والے ورچوئل اجلاس سے خطاب کر رہے تھے، جس میں امن و سلامتی پر وبائی امراض کے اثرات کے بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا۔ یہ اجلاس جرمنی کی طرف سے جولائی کے لیے کونسل کے صدر کی حیثیت سے بلائی جانے والی اس اعلیٰ سطحی بحث کے سلسلے میں ہوا جس کا اختتام پچھلے ہفتے کی قرارداد 2532 (2020) کی منظوری کے بعد ہوا ، جس کے ایجنڈے میں تمام حالات میں عام اور فوری طور پرتنازعات کو ختم کرنے پر زوردیا گیا ہے۔اس بات کو نوٹ کرتے ہوئے جب کہ دنیا کے متعدد تنازعات والے علاقوں میں تشدد میں کوئی حقیقی کمی واقع نہیں ہوئی ہے ، منیر اکرم نے کہا کہ کچھ ریاستوں نے غیر ملکی اور متنازع علاقوں پر اپنے غیر قانونی قبضوں کو مستحکم کرنے کے لیے اس صورتحال کا فائدہ اٹھایا ہے۔انہوں نے کہاکہ گزشتہ 10 ماہ سے زیادہ عرصہ سے کشمیریوں کو بھارتی حکومت کے ہاتھوں شہری آزادیوں اور انسانی حقوق کی بے حد خلاف ورزیوں پر عبرتناک پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے جبکہ کورونا وائرس نے اب انھیںڈبل لاک ڈاؤن سے دوچار کردیاہے جس سے وہ وسیع انسانی المیے کا شکار ہو جائیں گے ۔پاکستانی مندوب نے کہا کہ طویل عرصے سے مقبوضہ کشمیر میں اسپتالوں میں ضروری طبی سامان ختم ہوگیا تھاجنہیں اب قبرستان بنا دیا گیا اور ہندوستانی حکام مقبوضہ کشمیر میں صحت عامہ کے بحران سے نمٹنے کے قابل نہیں ہیں۔منیر اکرم نے کونسل کو بتایاکہ اگرچہ تمام دنیا کی توجہ وائرس پر مرکوز ہے تاہم بھارت نے اپنے قبضے کو مستحکم کرنے کے لیے اضافی اقدامات پر عمل درآمد کرکے فائدہ اٹھایا ہے۔انہوں نے کہا کہ توسیع شدہ لاک ڈاؤن اور مواصلات کے خاتمے کے علاوہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی ڈیموگرافی تبدیل کرنے کے لیے نئے ڈومیسائل قواعد متعارف کرائے ہیںتاکہ مسلم اکثریتی ریاست ہندو اکثریتی علاقے میں تبدیل کیا جاسکے جبکہ بھارت کے یہ تمام اقدامات اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دادوں اور بین الاقوامی قانون خصوصا چوتھے جنیوا کنونشن کی براہ راست خلاف ورزی ہیں۔انہوں نے کہا کہ سیکڑوں سینئر کشمیری سیاسی رہنماؤں اور ہزاروں نوجوانوںبشمول انسانی حقوق کے محافظوں اور صحافیوں کو آزادی کے مطالبے سے روکنے اور حق خود ارادیت کے لیے جائز جدوجہد کو دبانے کے لیے من مانی کرتے ہوئے حراست میں لیا گیا ہے اور انہیں نظربند کیا گیا ہے۔پرامن مظاہرین ، جن میں 4 سال سے کم عمر کے بچے ، پیلٹ گنوں سے بینائی کھو چکے ہیں خواتین اور لڑکیوں کی عصمت دری کی گئی جبکہ سیکڑوں کشمیریوں کو ماورائے عدالت سزائے قتل کیاگیا اور بعض علاقوں میں پورے محلے کو اجتماعی سزا کے طور پر تباہ کردیا گیا ۔منیر اکرم نے سلامتی کونسل پر زور دیاکہ وہ کشمیر میں بھارت کے غیر قانونی اقدامات کی مذمت کرے اور بھارتی فاشسٹ عزائم جو ہمارے خطے اور اس سے آگے کے امن اور امن کو بہت زیادہ دباؤ ڈال رہی ہے کو لگام ڈالنے کے کے لیے فوری اقدامات کرے۔اس سلسلے میں ، انہوں نے کہا کہ کونسل بھارت پر 5 اگست 2019ء سے کشمیر میں فوجی محاصرے کو ختم کرنے، مواصلات ، نقل و حرکت اور پرامن اسمبلی پر پابندیاں ختم کرنے پرزوردے ۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کو امدادی سرگرمیاں کرنے کی اجازت دی جائے اور نظربند کشمیری سیاسی قیادت کو رہا کیا جائے جبکہ ،کشمیر کے آبادیاتی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کے لیے ڈیزائن کیے گئے نئے ڈومیسائل قوانین کو مسترد کیاجائے۔منیراکرم نے مزید کہا کہ یہ اقدامات فوری طور پر ہمارے خطے میں تناؤ کو کم کرنے کے لیے ہی ضروری نہیں بلکہ نہیںہیں بلکہ سلامتی کونسل کی امن اور سلامتی سے متعلق امور میں اقوام متحدہ کی مستقل افادیت کے لیے بھی ضروری ہیں۔