قرآن کا پیشانی کو جھوٹی و خطاکار قرار دینا اور سائنس کا اعتراف

1776

اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ایک بدخو کافر کا ذکر کیا ہے جس نے نبی صلی اللہ علیہ سلم کو حرم کعبہ میں نماز پڑھنے سے روک دیا تھا۔ سورۃ علق  میں ارشاد باری تعالیٰ ہے،

یقیناً اگر وہ باز نہ آیا تو ہم اسے پیشانی (کے بالو) سے پکڑ کر گھسیٹیں گے۔ ایسی پیشانی جو جھوٹی اور خطاکار ہے۔

قرآن نے یہاں پیشانی کو جھوٹی اور خطاکار قرار کیوں دیا؟ قرآن نے یہ کیوں نہ کہا کہ وہ شخص جھوٹا اور خطاکار ہے؟۔ پیشانی اور جھوٹ بولنے اور گناہگاری میں کیا تعلق ہے؟

اگر ہم سر کی کھوپڑی کے اندر کے حصے کا بغور مطالعی کریں تو ہمیں مُخ یا بڑے دماغ (cerebrum) کا سامنے والا حصہ (Prefrontal Area) دکھائی دیتا ہے۔طب کی ایک کتاب Essentials of anatomy & physiology میں لکھا ہے کہ عضوی حرکات کا منصوبہ بنانے اور آغاز کرنے کیلئے تحریک (Motivation) اور پیش بینی (Foresight) دماغ کے سامنے والے حصے یعنی پیشانی کی جانب ہوتی ہیں۔ یہ تلازمی پرت (association cortex) کا خطہ ہے۔ اس کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ تحریک دینے میں ملوث ہونے کے لحاظ سے اسی خطے کے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ یہ جارحانہ رویوں کا عملی مرکز ہے۔

الغرض مخ دماغ کا یہ حصہ نیکی اور بدی کے افعال کی تحریک دینے اور ان کا آغاز کرنے کا ذمہ دار ہے اور جھوٹ بولنے اور سچ کہنے کی ذمہ داری بھی اسی پر ہے۔ یوں جب کوئی جھوٹ بولے یا کسی گناہ کا ارتکاب کرے تو یہ کہا جائے گا کہ اس کی پیشانی نے جھوٹ بولا اور گناہ کیا ہے جیسا کہ قرآن کہتا ہے،

پیشانی جو جھوٹی اور خطاکار ہے۔

پروفیسر کائتھ ایل مور اپنی کتاب The scientific miracles in the front of the head میں لکھتے ہیں سائسدانوں نے دماغ کے اس خطے کے یہ افعال بچھلے 60 سال میں دریافت کئیے ہیں مگ ر قرآن نے اس ضمن میں واضح ارشادات تقریباً ڈیڑھ ہزار سال پہلے بیان کردیے۔