مدبر و نفیس سیاستدان پروفیسر غفور احمدؒ

403

راقم الحروف نے ان کالموں میں عرض کیا تھا کہ ہم یقینا شخصیت پرست نہیں ہیں۔ لیکن احسان فراموش اور محسن فراموش بھی نہیں ہیں۔ ہمیں اپنے قائدین اور مربیوں کو یاد کرتے رہنا چاہیے۔ ان کا تذکرہ، ان کی خدمات، ان کی تحریکی اور سیاسی جدوجہد، اُن کی شخصیت پر نشستیں اورگفتگو کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔ نوجوانوں کو اُن کے بارے میں آگاہی ہونی چاہیے۔ نئے تحریکی ساتھیوں سے اُن کا تعارف ہونا چاہیے۔ کیسے کیسے انمول ہیرے تحریک اسلامی کا حصہ تھے۔ ان کی زندگیاں ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔ 26 جون کو پروفیسر غفور احمد مرحوم کا یوم پیدائش گزرا ہے۔
سیاست میں سادگی، متانت، شائستگی، شرافت اور دیانت کی علامت، ممتاز سیاستدان ونائب امیر جماعت اسلامی پاکستان پروفیسر غفور احمدؒ۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ آپ کے تذکرے کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی۔ پروفیسر غفور احمد کا شمار ملک کی ممتاز متحرک اور بااثرسیاسی شخصیات میں ہوتا تھا۔ آپ نے یہ مقام جہد مسلسل اور بڑی قربانیوں سے حاصل کیا۔
پروفیسر غفور احمد 26 جون 1927ء کو بھارت کی ریاست یوپی (بریلی) میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم و تربیت بریلی میں ہوئی۔ آپ نے 1948ء میں لکھنٔو یونی ورسٹی سے ایم کام کیا اور اسی سال اسلامیہ کالج لکھنٔو میں بطور لیکچرار آپ کا تقرر ہوا اور آپ درس و تدریس سے وابستہ ہو گئے۔ 1949ء میں پاکستان ہجرت کر کے آئے اور کراچی میں ایک نجی تجارتی ادارے سے منسلک ہو گئے۔ بعد میں انسٹی ٹیوٹ آف انڈسٹریل اکاؤنٹس اور جناح انسٹی ٹیوٹ آف انڈسٹریل اکاؤنٹس میں بطور معلم درس و تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے۔ آپ مختلف اُوقات میں اُردو کالج جو اب اُردو یونی ورسٹی ہے میں اور دیگر پروفیشنل اداروں میں بھی پڑھاتے رہے۔
جماعت اسلامی سے تعلق کا ذریعہ 1944ء میں آپ کے دوست انور یار خان صاحب بنے جنہوں نے بانی جماعت اسلامی و مفکر اسلام مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ کی معرکہ آراء کتاب خطبات آپ کو مطالعہ کے لیے دی۔ خطبات کے مطالعہ نے آپ پر گہرے اثرات مرتب کیے اور آپ کی زندگی کو ایک نئی سمت فراہم کر دی۔ مولانا سید مودودی ؒ کی کتابوں کا مطالعہ ہم بھی کرتے ہیں لیکن صرف مطالعہ ہی کرتے ہیں غور و فکر نہیں کرتے۔
پروفیسر غفور احمدؒ 1950ء میں 23 سال کی عمر میں جماعت اسلامی کے رکن بنے۔ 1954ء میں جنرل ایوب خان کے دور حکومت میں جب جماعت اسلامی ابتلا و آزمائش سے گزر رہی تھی آپ جماعت اسلامی کی مرکزی شوریٰ کے ساتھ ساڑھے نو ماہ تک جیل میں رہے۔ 1958ء میں پہلی بار عوامی نمائندگی کا موقع ملا اور آپ کراچی میونسپلٹی کے رکن منتخب ہوئے۔ عوام کی بے لوث خدمت کی۔ آپ 1970ء اور پھر 1977ء میں قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ یہ دور پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ہنگامہ خیز دور تھا۔ پروفیسر غفور احمد مرحوم 1972ء سے 1977ء تک جماعت اسلامی کراچی کے امیر رہے۔ 1979ء میں جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر بنائے گئے۔ 1977ء کے انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کی انتخابی دھاندلی کے خلاف ملک بھر میں احتجاجی تحریک شروع ہوگئی جس کے نتیجے میں پاکستان میں دوسرا ماشل لا لگا۔ انتخابات کے دوبارہ انعقاد کا مطالبہ زور پکڑ گیا۔ مارشل لا حکومت نے انتخابات کے لیے سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کو کابینہ میں شامل کیا۔ قومی اتحاد کے فیصلے کے مطابق پروفیسر غفور احمد جنرل ضیاء الحق کی کابینہ میں شامل ہوئے آپ کو وزارت پیداوار کا قلم دان دیا گیا۔ آپ نے یہاں بھی اپنی بہترین صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا اور خوب کام کیا مگر خود کوئی مراعات نہیں لی اور نہ ہی کسی اور کو حاصل کرنے دی۔ جماعت اسلامی نے انہیں کابینہ میں بھیجا تھا جب جماعت اسلامی نے کابینہ سے علٰیحدگی کا فیصلہ کیا تو ایک لمحہ ضائع کیے بغیر فیصلے کی اطاعت کرتے ہوئے وزارت کا منصب چھوڑ دیا۔
پروفیسر غفور احمدؒ کے بے داغ سیاسی کردار کی وجہ سے جماعت اسلامی کا مرکزی نائب امیر ہونے کے باوجود 2002ء میں جنرل پرویز مشرف کے دور میں مسلم لیگ ق کی قیادت نے آپ کو اپنا اُمیدوار تسلیم کرتے ہوئے سینیٹ آف پاکستان کا رکن منتخب کروایا۔ آپ 2005ء تک سینیٹ کے رکن رہے۔
پروفیسر غفور احمد مرحوم مختلف پارلیمانی کمیٹیوں اور تحریکوں میں جماعت اسلامی کی نمائندگی کرتے رہے۔ 1977ء کے انتخابات میں ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف جب پاکستان قومی اتحاد تشکیل پایا تو آپ اس کے مرکزی رہنماؤں میں شامل ہوئے اور بعد ازاں آپ کی صلاحیتوں اور سیاسی بصیرت کی بناء پر آپ کو قومی اتحاد کا سیکرٹر ی جنرل بنایا گیا۔ 1988ء سے 1992ء تک بے نظیر بھٹو کی حکومت کے خلاف اسلامی جمہوری اتحاد بنایا گیا تو آپ کو اس کا بھی جنرل سیکرٹری بنایا گیا۔ ذوالفقار علی بھٹو حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے بھی پاکستان قومی اتحاد کی لیڈر شپ نے پروفیسر غفور احمد مرحوم کو تین رکنی مذاکراتی ٹیم میں مفتی محمود ؒاور نواب زادہ نصراللہ خانؒ کے ساتھ شامل کیا۔ 1973ء کے دستور میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دلوانا، اسلامی دفعات کو شامل کروانا اور خان عبدالولی خان جیسے رہنماؤں سے بھی اس کی تائید حاصل کرنا پروفیسر غفور احمدؒ ہی کا کمال ہے۔
پاکستانی سیاست میں ایسے افراد بہت ہی کم ہیں جن کی پوری زندگی جدوجہد سے عبارت ہو۔ جنہوں نے ملکی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کیے ہوں اور جن کی زندگی جمہوریت پسندوں کے لیے مشعل راہ ہو۔ جس کا احترام ہر سیاسی پارٹی کا کارکن اور اُس کی قیادت کرتی ہو۔ پروفیسر غفور احمدؒ اُن ہی نایاب افراد میں سے ایک ہیں۔ جماعت اسلامی کا شدید سے شدید نظریاتی اور سیاسی مخالف بھی پروفیسر غفور احمدؒ کی تعریف کیے بغیر نہیں رہتا۔ حُروں کے روحانی پیشوا، ممتاز و معروف سیاستدان پیر صاحب پگارا مرحوم اپنی سالگرہ کا کیک اُس وقت تک نہیں کاٹتے تھے جب تک پروفیسر غفور احمد تشریف نہیں لاتے تھے۔
پروفیسر غفور احمد مرحوم ایک اچھے مصنف اور تاریخ دان بھی تھے۔ آپ نے ملکی سیاست میں کلیدی کردار ادا کیا۔ سیاسی میدان کے نشیب و فراز سے واقف تھے۔ اس میدان کے مختلف تجربات و مشاہدات کو انہوں نے تصنیفی شکل دے کر تاریخ پاکستان کے طالب علموں کے لیے بیش قیمت خزانہ چھوڑا ہے۔ آپ آٹھ کتابوں کے مصنف ہیں۔ جن میں پھر مارشل لا آ گیا، اور الیکشن نہ ہو سکے، جنرل ضیاء الحق کے آخری دس سال، وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نامزدگی سے برطرفی تک، نواز شریف کا پہلا دور حکومت، بے نظیر حکومت کا عروج و زوال، نواز شریف اقتدار سے عتاب تک اور پرویز مشرف آرمی ہاؤس سے ایوان صدر تک شامل ہیں۔ ان کتابوں کا مطالعہ پولیٹکل سائنس کے طالب علموں، سیاسی کارکنوں اور اینکر پرسنز کے لیے بہت ضروری ہے۔
پاکستان کی تاریخ میں دسمبر کا مہینہ بہت تلخ یادوں سے عبارت ہے۔ اس مہینہ میں پاکستان کا ایک بازو ہم سے جدا ہوا۔ اور سقوسط ڈھاکا عنوان بنا۔ آرمی پبلک اسکول کا سانحہ ہوا معصوم بچوں کا قتل ہوا۔ اور ہمارے ملک کے ممتاز سیاسی رہنما، ہمارے محبوب قائد و مربی پروفیسر غفور احمدؒ 26 دسمبر 2012ء کو اس دنیائے فانی سے ابدی دنیا کو رخصت ہو گئے۔ اس درویش صفت سیاستدان کی نماز جنازہ ہم نے بے باک و نڈر، ولی صفت سیاستدان سابق امیر جماعت اسلامی پاکستان سید منور حسن کی اقتداء میں ادا کی۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ پروفیسر غفور احمد ؒ کی خدمات کو اپنی بار گاہ میں شرف قبولیت عطا فرمائے، اُن کے درجات کو بلند کرے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے، جس اعلیٰ مقصد کے لیے وہ جدوجہد کرتے رہے پاکستان کو اسلام کا مضبوط قلعہ بنادے اور ہم کو اُن کا متبادل فراہم کردے۔ آمین