کے الیکٹرک، سب ملے ہوئے ہیں

275

حکومت سندھ نے بجلی مہنگی کرنے کا فیصلہ مسترد کر دیا ہے اور اس کا سبب یہ بتایا ہے کہ نرخوں میں اضافے کے وقت صوبے کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ گویا اعتماد میں لے لیا جاتا تو بجلی مہنگی کرنا مسئلہ نہیں تھا۔ صوبائی وزیر اسماعیل راہو نے کہا ہے کہ کے الیکٹرک کے ظلم کا نوٹس لینے کے بجائے بجلی مہنگی کر دی گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ اضافہ واپس نہ لیا گیا تو احتجاج کریں گے۔ ظالم حکومت زیادہ دیر نہیں چل سکتی۔ یہ درست ہے کہ کے الیکٹرک کے مالکان کی جانب سے پی ٹی آئی کو الیکشن فنڈنگ کی گئی تھی لیکن اس حقیقت سے بھی سارا ملک واقف ہے کہ کے الیکٹرک نے سب پارٹیوں کو نوازا ہے۔ مسلم لیگ ن فنکشنل، پی ٹی آئی، پی پی پی، ایم کیو ایم وغیرہ سب کے لیے اس ادارے کے مالکان نے خزانوں کے منہ کھولے ہیں۔ ان پارٹیوں کے اہم لوگوں کے بچوں اور رشتے داروں کو بے مقصد قسم کی ملازمتیں دے کر لاکھوں روپے ماہانہ کی تنخواہ مقرر کر دی تاکہ یہ سب کے الیکٹرک کے مظالم پر خاموش رہیں۔ سابقہ مالکان کا بھی یہی رویہ تھا۔ صوبائی وزیر کا یہ کہنا اپنی جگہ درست ہے کہ صوبے کو اعتماد میں نہیں لیا گیا لیکن صوبے کو اعتماد میں لینے سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ صوبہ اپنے حصے کا کام کیوں نہیں کر رہا۔ آج کل ایک طرف لاک ڈائون کی مصیبت ہے تو دوسری طرف رات کو پورا شہر اندھیرے میں ڈوبا رہتا ہے۔ سڑکوں کی بجلی کا کنٹرول جس ادارے کے پاس ہے وہ حکومت سندھ کے ماتحت ہے۔ حکومت سندھ بتائے کہ لاک ڈائون سے سڑکوں پر اندھیرا کرنے کا کیا تعلق ہے۔ جو کام پہلے کہیں کہیں ہوتا تھا اب سارے شہر میں شروع ہو گیا ہے۔ لوگوں کے گھروں کے دروازے پر لوٹ مار ہو رہی ہے۔ فلیٹوں کے اندر گھس کر موٹر سائیکل سوار لوٹ مار کر رہے ہیں کیونکہ سڑکوں پر اندھیرا ہے اور کے الیکٹرک لوڈ شیڈنگ الگ کر رہی ہے۔ سندھ حکومت کیا کر رہی ہے۔ اپنے حصے کا کام کیوں نہیں کر رہی۔ حقیقت یہ ہے کہ سب ہی ملے ہوئے ہیں۔ پی ٹی آئی والے بھی اعلان کر رہے ہیں کہ کراچی میں لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج کریں گے۔ کبھی کبھی ایم کیو ایم بھی بینر لگا دیتی ہے اور پیپلز پارٹی اس معاملے میں بالکل گونگی بہری بنی رہتی ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ کسی وزیر نے کے الیکٹرک کے خلاف زبان کھولی ہے۔ توقع تو یہی ہے کہ دوبارہ زبان کھولنے کی اجازت نہیں ملے گی۔ عوام کو کے الیکٹرک کے مظالم کا اسی طرح سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ پی پی پی، مسلم لیگ، ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی سب کے مفادات کے الیکٹرک کے ساتھ وابستہ ہیں ورنہ حکومت اس ادارے کو لاڈلوں کی طرح کیوں پال رہی ہے جو پی ایس او کا نادہندہ، سوئی گیس کا نادہندہ، پی ٹی وی کا نادہندہ ہے۔ ایسے ادارے کو تو اپنے صوبے میں کام ہی نہیں کرنے دینا چاہیے۔ تمام دفاتر میں تالے ڈال دینے چاہییں۔ لیکن صوبہ عوام کے ساتھ مخلص ہے نہ وفاق۔ عدالتوں میں بھی معاملہ جائے تو کیا ہوگا۔ اب تو پیٹرول کے نرخ بڑھانے پر عدالت جائو تو یہ جواب ملتا ہے کہ حکومت کو قیمت مقرر کرنے کا اختیار ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ بچوں کو دماغی الجھنوں اور خلجان میں مبتلا کرنے والے کھیل پپ جی پر پابندی کے خلاف درخواست پر کیا کہا جاتا ہے۔ کہ حکومت کو اختیار ہے یا نہیں۔ چونکہ سندھ حکومت کے وزیر نے بات چھیڑی ہے تو سب کی نظریں اسی طرف جائیں گی کہ وہ خود کیا کر رہی ہے۔ اسی صوبے میں پاکستان اسٹیل ہے لیکن اس کی ملی بھگت سے ادارہ تباہ ہوا۔ کے الیکٹرک اگر صوبے کے ڈھائی کروڑ لوگوں کو بجلی کی فراہمی میں ناکام ہے تو صوبائی حکومت کا کیا فرض ہے۔ صرف بیان دینا یا کوئی قدم اٹھانا۔ جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم بار بار یہ مطالبہ کر چکے ہیں کہ ادارے کو دوبارہ سرکاری تحویل میں لیا جائے۔ حالانکہ پیپلز پارٹی کی موجودہ حکومت میں کوئی ادارہ محفوظ نہیں لیکن کے الیکٹرک کو اگر سرکاری شعبے میں واپس لے لیا گیا تو کم از کم اس کی بدمعاشی تو ختم ہو سکے گی۔ الٹے سیدھے من مانے فیصلے تو نہیں ہوں گے۔ کہیں سے تو اس کی لگام کھینچی جا سکے گی۔ لیکن اس وقت پی پی پی اور پی ٹی آئی دونوں کو 18 ویں ترمیم کا ہیضہ ہو رہا ہے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ بیروزگاری، لوڈشیڈنگ، جرائم، صحت و صفائی، لاقانونیت، کرپشن وغیرہ کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ جوں ہی 18 ویں ترمیم میں تبدیلی ہوگی سب ٹھیک ہو جائے گا۔ جماعت اسلامی اکیلی عوام کی نمائندگی کرتی نظر آتی ہے۔ احتجاج، عدالت، قانونی جنگ ہر طرح وہی کام کر رہی ہے۔ حکومت سندھ کم ازکم اس کی کوششوں میں ساتھ دے۔ لیکن ایسا ہو نہیں رہا بلکہ وفاق اور صوبائی حکومتیں کے الیکٹرک کو بھرپور طور پر مدد دے رہے ہیں اور عوام کی کھال نوچنے کی اجازت دے رہے ہیں۔