ہمیں ماتھے پر بوسہ دو!

211

فرحت طاہر
یہ 27 /مئی 2008ء کی بات ہے!
مجھےرُکنیت کا حلف لیے کچھ ہی ماہ گزرے تھے۔ ادارہ نور حق میں منتظمین اور شعبہ جات کے نگرانوں کی ایک روزہ تربیت گاہ تھی۔اس سے سید منور حسن کو خطاب کرناتھاجو لاہور سے تشریف لائے تھے ۔بڑی عجیب بات کہ کراچی میں اپنا گھر مگر یہاں مسافر! وہ نماز قصر کہاں ادا کرتے ہوں گے ؟ ذہن میں سوال ابھرا !
میں اپنی ڈائری میں تیزی سے ان کی تقریر کے نکات درج کر رہی تھی۔اس وقت تک میرے لیے وہ ایک شعلہ بیان مقرر،مدبر اور مدلل سیاست دان اور جاہ و جلال سے بھرپور ایک فرد جنہیں میں عائشہ منور کے حوالے سے جان رہی تھی۔لیکن ان کاعاشق رسول ہونے کا پہلو جب میرے سامنے آیا تو میں دنگ رہ گئی۔
انہوں نے سیرت کے حوالے سے بتایا کہ حضرت فاطمہ رضی اللی تعالیٰ عنہ کس طرح اپنے باپ کے ماتھے کا بوسہ دیا کرتی تھیں۔
یہ بات سنتے ہی مجھےپا نچ سال پہلے اپنے والد کی زندگی کی آخری شام یاد آگئی جب مجھےان کے چہرے پر اتنی معصومیت نظر آئی کہ بے اختیار ہوکر ان کے ماتھے اور گالوں پر بوسے کی بھرمار کردی۔اسے محض اپنی جذباتیت سمجھی تھی اور آج یہ جان کر یہ سنت رسول ہے میں اپنے آنسو نہ روک سکی کہ نادانستگی میں ہی اتنی بڑی سنت کی سعادت ملی! میرے ان غیر اختیاری بوسوں نے زندگی بھر کی محرومی کا ازالہ کردیا ہو شاید!
ہم برصغیر کے لوگوں کی آشنائی محض بچوں کے ساتھ شفقت بھرے بوسوں سے ہے ! اس کے علاوہ سرعام بوسہ بازی مغربی کلچر سمجھتے ہوئے معیوب ہی سمجھتے ہیں ۔
یہ ہی وجہ ہے کہ جب مشرق وسطی سے تعلق رکھنے والےبھائی کی اولادیں جب ہمارا بوسہ لے کر نڈھال کردیتیں تو ہم اسے عرب کلچر سمجھتے! اورسید منور حسن نے جب یہ سنت یاد کروائی تو اس کے پس منظر سے واقفیت ہوئی…
ہمیں ماتھے پہ بوسہ دو
کہ ہمیں تتلیوں کے جگنوئوں کے دیس جانا ہے ۔
یہ محض شاعرانہ تعلق نہیں ہے ۔ایک تعلق ہے جو بچھڑنے والے سے بنتا ہے ،خواہ یہ زمانہ ہو یا فرد !
ہر بیٹی کے لیےاس کا باپ ابتدائی ہیرو ہی نہیں ہوتا تاعمر ہیرو رہتا ہے۔آج منور حسن کی نسبی اولاد فاطمہ کے ساتھ ساتھ ان کی نظریاتی بیٹیاں اور بہنیں بھی دکھی دل کے ساتھ ان کو الوداع کہہ رہی ہیں کہ اب روز قیامت ہی ملاقات ہوگی ان شاء اللہ !