اسٹیبلشمنٹ اپنا نیوٹرل رول بحال کرے، اس کا تقدس غیرجانبدارانہ کردار میں ہی ہے، سینٹر سراج الحق

337

امیرجماعت اسلامی پاکستان سینیٹرسراج الحق نے کہاہے کہ اسٹیبلشمنٹ اپنا نیوٹرل رول بحال کرے،اس کا تقدس و خوشحالی غیر جانبدارانہ کردار میں ہی ہے ۔

منصورہ میں مجلس عاملہ کے دوروزہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئےکہا کہ جمہوری حکومتوں میں اسٹیبلشمنٹ کا کردار غیر جانبدار ہوتاہے،ہمارے ملک کی اسٹیبلشمنٹ الیکشن پر اثر انداز ہوتی ہے،ہر جگہ اس پرلوگ بات کرتے ہیں اور انگلیاں اٹھتی ہیں،جتنی حکومت پر بات ہوتی ہے اتنی ہی اسٹیبلشمنٹ پر بھی بات ہوتی ہے،اسٹیبلشمنٹ کو کسی ایک پارٹی کے ساتھ نتھی ہونے کی بجائے اپنی غیر جانبداری کے تاثر کو بہتر بنانے کیلئے سوچنا ہوگا۔

انہوں نےکہا کہ فوج کو مضبوط بنانا پاکستان کی ضرورت ہے،بھارت جیسا مکار دشمن اژدھے کی صورت میں سرحدوں پر موجود ہے، دشمن کے مقابلے کےلئے فوج اورقوم کو ایک پیج پر آنے کی ضرورت ہے،فوج کا تقدس و خوشحالی غیرجانبدارانہ کردار میں ہی ہے،قوم اپنی فوج سے محبت کرتی ہے،کوئی جوان شہید ہوتا ہے تو ہر گھر میں ماتم ہوتا ہے ۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ جب اسٹیبلشمنٹ اپنا وزن کسی خاص پلڑے میں ڈالتی ہے تواس کا خاص اثر ہوتاہے،اسلام آباد میں پانچ مندر پہلے ہی موجود ہیں ان کی بحالی کے اقدامات کئے جائیں،عمران خان سمیت ہر حکمران سمجھتا ہے کہ ان کا متبادل نہیں ،اسٹیبلشمنٹ کی سرپرستی میں بننے والی حکومتیں کوئی رزلٹ نہیں دے سکیں ۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی مہنگائی کے خاتمے،بے روزگاری اور عوام کے حقوق کے لئے تحریک چلائے گی اور ہر مظلوم کی آواز بنے گی، حکومت یرغمال، اصل حکمرانی مافیا زکی ہے،حکومتی رٹ کہیں نظر نہیں آتی ۔

سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ اگر آج فیصلوں پر ندامت کا ٹیسٹ ہوتا تو بائیس کروڑ عوام کا رزلٹ مثبت آسکتا ہے،پی ٹی آئی کو ووٹ دینے والے عوام اور ینگ ڈاکٹرزاپنے فیصلے پر پچھتا رہے ہیں، مضبوط جمہوریت پاکستان کے استحکام کےلئے ضروری ہے،قوم کے فیصلوں کو قبول کرنا چاہئے قوم محب وطن ہے اگرکہیں غلطی ہو جائے تو الیکشن میں درست کر لیں گے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ اب مناسب نہیں کہ حکومت پینتالیس محکموں میں سے پچیس اداروں کو پرائیویٹائزیشن کی طرف جائیں گے،پی آئی اے،اسٹیل مل اور ریلوے کے اثاثہ جات پر قبضہ کرنے کیلئے غیر ملکی ایجنٹس کی نظریں ان اداروں کی پراپرٹی پر ہے،کہیں غبن یا کرپشن ہے تو ہاتھ ڈالنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسٹیل ملز ،ریلوے یا پی آئی اے کی تباہی کے ذمہ داروں کو پکڑا جائے، چھوٹے چور وں کوپکڑتے اور بڑوں کو چھوڑ دیتے ہیں،لاکھوں کی تعداد میں اورسیز پاکستانیوں کےلئے حکومت نے کچھ نہیں سوچا،قرنطینہ سنٹروں میں اوورسیز پاکستانیوں کودونوں ہاتھوں سے لوٹاگیا۔

سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ کوئی فرد ناکام نہیں تینوں پارٹیاں ناکام ہوئی ہیں،مغربی کلچر کو تحفظ کرنے والوں کا نظام نہیں چلے گا،جماعت اسلامی میدان میں کھڑی ہے،ہم مہنگائی کے خلاف بے روزگار نوجوانوں مزدور وں کسانوں کومتحد کریں گے اوران کےلئے موثر آواز بنیں گے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ سارا دن خون پسینہ ایک کرنے کے باجود مزدور اور کسان کے بچے بھوکے سوتے ہیں۔ ہمارا عزم ہے ملک کے اندر جماعت اسلامی کے علاوہ باصلاحیت لوگوں کو قومی ایجنڈے پر اکٹھاہوکر ایک جگہ اکٹھا کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی بلدیاتی الیکشن اور آئندہ الیکشن میں حصہ لیں گے،آئندہ الیکشن سے قبل شفاف الیکشن کےلئے اصلاحات ناگزیر ہیں،میڈیا آئینہ ہے اسے توڑنے کے بجائے حکمران اپنے چہرے پر لگے داغ صاف کریں۔

سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ کشمیر جل رہاہے اسی لاکھ لوگ قید خانے میں ہیں ڈبل لاک ڈاؤن ہے،اٹھارہ ہزار کشمیری جیلوں میں ہیں،اگرعالمی ضمیر زندہ ہوتا تو نانا کی لاش پر بیٹھے بچے کی تصویر کافی ہے،کشمیر تقریروں سے نہیں اقدامات سے آزاد ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان اپوزیشن میں رہ کر مسنگ پرسن کی بات کرتے رہے،بائیس ماہ گزر گئے جو عمران خان کی حکومت سے پہلے ہوتا رہا،وہی اب ہورہا،مسنگ پرسنز عدالت کے سامنے پیش کئے جائیں تاکہ ان کے والدین کے آنسو پونچھے جاسکیں۔