20 کروڑ بھتہ نہ ملنے پر 289 مزدور زندہ جلادئیے، سانحہ بلدیہ فیکٹری کی جے آئی ٹی رپورٹ

510

کراچی: شہر قائدکے علاقے بلدیہ ٹاؤن کی گارمنٹ فیکٹری  میں 20 کروڑبھتہ نہ ملنے پر فیکٹری جلائی گئی، جس میں289 مزدور بھی زندہ جل گئے تھے جبکہ 600 سے زائد زخمی ہوئے  تھے۔

سانحے کی تحقیقات کیلئے بنائی گئی جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 11ستمبر 2012ء  کو  پیش آنے والے یہ سانحہ دہشت گردی تھا۔ جے آئی ٹی رپورٹ 27 صفحات پر مشتمل ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ بلدیہ ٹاؤن فیکٹری میں آگ 20 کروڑ روپے بھتہ نہ دینے پر  ایم کیو ایم کے  دہشت گردوں نے لگائی تھی، فیکٹری سے بھتہ ایم کیو ایم کے حماد صدیقی اور رحمان بھولا نے مانگا تھا۔

رپورٹ کے مطابق واقعے کے مقدمے اور تحقیقات میں ملزمان کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی گئی،دہشت گردانہ کارروائی کو ایف آئی آر میں پہلے قتل کہا گیا، پھر حادثہ قرار دے دیا گیا،ملزمان  کو تحفظ دینے کیلئے ایف آئی آر یا تفتیش میں بھتے کا ذکر نہیں کیا گیا۔

جے آئی ٹی نے واقعہ میں پولیس کے کردار کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہےاور کہا ہے کہ پولیس ہائی پروفائل واقعے کی درست سمت میں تحقیقات میں ناکام ہوئی،رپورٹ میں کہا گیا کہ بلدیہ فیکٹری کیس کو روز اول سے اس طرح چلایا گیا جس سے ملوث گروہ کو فائدہ ہو اور دہشتگردی کے واقعے کو ایف آئی آر میں ایسے پیش کیا گیا جیسے کوئی عام قتل کا واقعہ ہو۔

جے آئی ٹی نے گزشتہ ایف آئی آر واپس لینے اور دہشتگردی کی دفعات کے تحت نیا مقدمہ درج کرنے کی سفارش کی،جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم نے ایف آئی آر میں رحمان بھولا، حماد صدیقی، زبیر چریا، ڈاکٹر عبدالستار، علی حسن قادری، اقبال ادیب خانم اور چار نامعلوم افراد کے نام ڈالنے کی سفارش کی ۔

رپورٹ میں مقدمے کے مفرور ملزمان کو بیرون ملک سے واپس لانے، تمام ملزمان کے پاسپورٹ منسوخ کرنے اور نام ای سی ایل میں ڈالنے کی بھی سفارش کی گئی تھی  ۔