چینی، پیٹرول سمیت ہر اسکینڈل کے ذمے داران کو ہٹایا جائے: صدر مملکت

356

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا ہے کہ اٹھارویں ترمیم نظرثانی سے بہتر ہوسکتی ہے، کرپشن جاری رہی تو اداروں کا حال اسٹیل ملز جیسا ہوگا، چینی اور پیٹرول سمیت ہر اسکینڈل کے ذمے داران کو ہٹایا جائے۔

صدر مملکت نے نجی نیوز ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے مختلف موضوعات پر گفتگو کی۔ صدر مملکت نے اٹھارویں ترمیم پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اٹھارویں ترمیم نظرثانی سے بہتر ہوسکتی ہے، وسائل کی تقسیم پر اختلافات معمول کی بات ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کے اختیارات سلب کرنے کی تجویز کبھی زیرِ غور نہیں آئی، وفاق اور صوبے میں اختلافات چلتے رہتے ہیں۔

صدر مملکت نے کہا کہ جمہوریت میں کسی ایک کا فلسفہ نہیں چل سکتا۔

ملک میں کرپشن پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ پاکستان میں مادر پدر آزاد کرپشن رہی ہے، کرپشن جاری رہی تو اداروں کا حال اسٹیل ملز جیسا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن کے خلاف عمران خان کی جنگ جاری ہے۔

چینی اور پیٹرول کے حوالے سے صدر مملکت نے کہا کہ پہلی بار حکومت نے اسکینڈلز کی تحقیقات کے بعدر پورٹس جاری کی ہیں۔

عارف علوی نے اپنے انٹرویو میں مطالبہ کیا ہے کہ چینی اور پیٹرول سمیت ہر اسکینڈل کے ذمے داران کو ہٹایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ جہانگیر ترین کو حکومت نے باہر نہیں بھیجا، وہ واپس آجائیں گے۔

قومی احتساب بیورو پر بات چیت کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ نیب کا قانون مناسب ہے، بار ثبوت ملزم پر ہی ہونا چاہیے، 1300 نیب مقدمات میں سے صرف 5 بیورو کریٹس کے خلاف تھے۔

عارف علوی نے کہا کہ جس کو نیب قانون پر اعتراض ہے وہ پٹیشن دائر کر دے، بطور صدر اپنے خلاف مقدمات میں استثنیٰ لینے سے انکار کیا۔

تعلیمی اداروں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ تعلیمی ادارے عید کے بعد کورونا صورتحال دیکھ کر کھولنے چاہئیں۔

کشمیر پالیسی کے بارے انہوں نے کہا کہ حکومت کی کشمیر پالیسی کمزور نہیں ہے، مودی حکومت مسلمانوں کےخلاف نفرت کی پالیسی روا رکھے ہوئے ہے جب کہ 3سالہ بچے کی تصویر نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

صدر مملکت نے کہا کہ دنیا ہوش کرے کیوں کہ مقبوضہ کشمیرمیں مسلمانوں کی نسل کشی کا خطرہ ہے۔