پی ایس ایل کے بقیہ میچز نومبر میں کرانا پہلی ترجیح ہے ، فرنچائز مالکان

112

 

کراچی (اسٹاف رپورٹر)عالمی وبا کے تناظر میں جہاں دنیا ئے کھیل میں خلا آگیا ہے وہیں پاکستان کا پی ایس ایل برانڈ بھی متاثر ہوا ہے، پاکستان سپر لیگ کی جنرل کونسل کے 8 ویں اجلاس میں جو ٹیلی کانفرنس کے ذریعے ہوا فرنچائزز اور پی سی بی نے ایک مرتبہ پھر اس بات کو دہرایا کہ پی ایس ایل 2020 کے بقیہ 4 میچوں کا نومبر میں انعقاد ان کی سب سے پہلی ترجیح ہے۔ اس حوالے سے انہوں نے گورننگ کونسل کے سامنے کوئی تجویز رکھنے سے قبل اس پر مزید غور کرنے پر اتفاق کیا کیونکہ کوویڈ 19 کے وبائی مرض کے سبب تاحال کئی معاملات غیریقینی ہیں۔پی سی بی اور تمام6 فرنچائزز نے پی ایس ایل کی طویل مدتی نشو و نما کو یقینی بنانے اور مالی استحکام پیدا کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ باہمی تعاون کے فریم ورک پر اتفاق کیا گیا ۔ یہ فیصلہ لیگ کے جاری جائزے کی بنیادپر کیا گیا ہے۔گورننگ کونسل نے پاکستان سپر لیگ کو ایک آزاد شعبہ بنانے پر پی سی بی کو سراہا ۔ اس شعبے کی سربراہی پی ایس ایل کے پراجیکٹ ایگزیکٹو شعیب نوید کریں گے۔ پی سی بی اور فرنچائزز نے پی ایس ایل ڈیپارٹمنٹ اور ٹیموں کے درمیان باقاعدہ رابطے کے فریم ورک پر اتفاق کیا ہے۔جس کا مقصد لیگ سے متعلق مختلف آپریشنل اور اسٹریٹجک امور پرمشاورتی عمل کو تیز کرنا ہے۔چیئرمین پی سی بی احسان مانی کا کہنا ہے کہ گورننگ کونسل کا ایک اور اہم اجلاس تھا، جہاں ہم سب کا مشترکہ ایجنڈا پی ایس ایل کا مستقبل اور اس کی فلاح رہا۔ انہوں نے کہا کہ یقیناََ پی ایس ایل کا مستقبل پاکستان کرکٹ بورڈ اور تمام فرنچائزز کے لیے بہت اہم ہے لہٰذا ہم سب مل کر اسے ایک بڑا، مضبوط اور بہتر برانڈ بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔احسان مانی نے کہا کہ پی سی بی اور فرنچائزز نے تمام زیرالتواء معاملات کو مل کر حل کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ اس امر کو یقینی بنایا جائے گا کہ دنیا کی بہترین کرکٹ لیگز میں شامل اس لیگ کے تمام فریقین کو فائدہ ہو اور وہ ترقی کرتے رہیں۔اسلام آباد یونائیٹڈ کے مالک علی نقوی کا کہنا ہے پی ایس ایل کو دنیا کا بہترین برانڈ بنانے میں تمام فرنچائز کا کردارہے ۔ پی ایس ایل کے علیحدہ شعبے کا قیام ایک انتہائی ضروری اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ایس ایل پاکستان کا سب سے بڑا برانڈ ہے اور ایک وقف شدہ ٹیم اب اس میں بہتری لانے کے لیے کام کرتی رہے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم سب نے دیکھا ہے کہ پاکستان کے فینز کے لیے کیا معنی رکھتی ہے اور ہم سب اس کے فروغ کو یقینی بنانے کے لیے پی سی بی کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔