سندھ حکومت نے بجلی مہنگی کرنے کا فیصلہ مسترد کردیا،کراچی سمیت صوبے میں بد ترین لوڈشیڈنگ ،شارٹ فال زیرو ہوگیا،پاور ڈویژن کا دعویٰ

92

کراچی ، اسلام آباد(صباح نیوز + نمائندہ جسارت)سندھ حکومت نے کے الیکٹرک صارفین کے لیے بجلی2 روپے 89 پیسے مہنگی کرنے کا فیصلہ مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بجلی مہنگی کرنے کا فیصلہ واپس نہ لیا تواحتجاج کریں گے ‘کراچی سمیت صوبے میں بدترین لوڈشیڈنگ جاری جب کہ پاور ڈویژن کا شارٹ فال زیرو ہونے کا دعویٰ۔تفصیلات کے مطابق صوبائی وزیر اسماعیل راہونے کہا ہے کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی کابجلی مہنگی کرنے کا فیصلہ سندھ دشمنی کے مترادف ہے، سندھ کو اعتماد میں لیے بغیربجلی کیسے مہنگی کی گئی،فیصلہ مسترد کرتے ہیں۔اسماعیل راہو کا کہنا تھا کہ کے الیکٹرک کے عوام کے ساتھ ظلم کانوٹس لینے کے بجائے بجلی مہنگی کی گئی، وفاقی حکومت ہرماہ سندھ کے عوام پر مہنگائی اور لوٹنے کا بم گراتی ہے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ کراچی میں بجلی ہوتی ہی نہیں تو 3روپے بجلی مہنگی کیوں کی گئی، 24گھنٹے میں 10گھنٹے تو لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے، بجلی مہنگی کرنے کا فیصلہ واپس نہ لیا تواحتجاج کریں گے ۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ حکومت اور کوئی نہیں بلکہ آئی ایم ایف چلارہی ہے، عوام پر ظلم کرنے والی حکومت زیادہ دن نہیں چل سکتی،گزشتہ روز مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں کے الیکٹرک صارفین کے لیے بجلی ٹیرف میں2روپے89 پیسے تک اضافے کی منظوری دی اور کہا تھا کہ کے الیکٹرک ٹیرف میں اضافہ سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کیا جائے گا۔صوبائی وزیر نے کہا کہ سندھ حکومت کے الیکٹرک صارفین کے لیے بجلی 2 روپے89پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کے فیصلے کو مسترد کرتی ہے ۔دوسری جانب ملک بھر بالخصوص کراچی کے شہری 8 سے 12 گھنٹے تک لوڈشیڈنگ کا شکار ہیں تاہم پاور ڈویژن نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک میں بجلی کا کوئی شارٹ فال نہیں ہے۔پاور ڈویژن کے ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ راولپنڈی،لاہور،پشاور،کوئٹہ سمیت دیگر شہروں میں 6 سے 8 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے تاہم ملک میں بجلی کا کوئی شارٹ فال نہیں ہے، بڑھتی لوڈشیڈنگ کی سب سے بڑی وجہ بدانتظامی ہے۔ذرائع پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ ملک میں بجلی کی پیداوار 25 ہزار میگاواٹ ہے جبکہ ملک میں بجلی کی طلب 23 ہزار 537 میگاواٹ ہے۔ ایک ہزار 463 میگاواٹ بجلی ضرورت سے زائدموجود ہے۔ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ ملک میں بجلی کی ترسیلی صلاحیت 20 ہزار میگاواٹ ہے جبکہ بجلی کی تقسیم کی صلاحیت 18 ہزار میگاواٹ ہے۔ لائن لاسز اور دیگر نقصانات کی مد میں 7 ہزار میگاواٹ بجلی ضائع ہورہی ہے۔ذرائع پاور ڈویژن کا مزید کہنا ہے کہ 2019 ء میں بجلی کی کل پیداوار 117 ارب میگاواٹ رہی۔2019ء میں18 ارب میگاواٹ بجلی ضائع ہوئی۔ ضائع شدہ بجلی کی قیمت 90 ارب روپے تھی۔ واضح رہے کہ کراچی سمیت ملک کے دیگر شہروں میں اعلانیہ اور غیر اعلانیہ گھنٹوں گھنٹوں تک لوڈ شیڈنگ جاری ہے جس کے باعث شہری پریشان ہیں۔بجلی نہ ہونے سے شہریوں کو پانی کی کمی اور طلبہ کو آن لائن کلاس لینے میں بھی مشکلات کا سامنا ہے جبکہ شہروں کے مستثنا علاقوں میں بھی بجلی 2 سے 3 بار بند کی جارہی ہے۔ ذرائع کے مطابق پاور ڈویژن نے کے الیکٹرک کو رات کے اوقات میں لوڈ شیڈنگ نہ کرنے کی ہدایت کی ہے، اس کے باوجود کراچی کے مختلف علاقوں میں گزشتہ رات بھی بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ رہی جبکہ دن میں بھی بجلی غائب رہی۔ذرائع کے مطابق کے الیکٹرک کو این ٹی ڈی سی سے 800 میگاواٹ بجلی فراہم کی جا رہی ہے، کے الیکٹرک کا بوسیدہ ترسیلی نظام اور پیداوار میں کمی لوڈ شیڈنگ کی بنیادی وجہ ہے۔گیس سے بجلی بنانے کے بعد کے الیکٹرک فرنس آئل کا کم سے کم استعمال کر رہی ہے۔پی ایس او اور ایس ایس جی سی کے ذرائع کے مطابق کے الیکٹرک کو مطلوبہ مقدار سے زیادہ گیس اور تیل فراہم کیا جا رہا ہے۔کراچی شہر کے مختلف علاقوں میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 15 گھنٹے تک پہنچ گیا ہے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ کے الیکٹرک کے بن قاسم کے 2 یونٹ بند ہونے کی وجہ سے اضافی لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے۔پیداوار میں 700 میگاواٹ بجلی کی کمی لوڈ شیڈنگ سے پوری کی جا رہی ہے۔