اجتماعی قربانی کیلیے علما کی مشاورت سے تیار ایس او پی پر عمل ہوگا‘ ناصر حسین شاہ

117

کراچی (اسٹاف رپورٹر) صوبائی وزیر مذہبی امور و بلدیات ناصر حسین شاہ نے کہا کہ دینی مدارس کو چرم قربانی جمع کرنے کیلیے 2019 کے اجازت نامہ کی تجدید کیلیے جلد نوٹیفکیشن جاری کردیا جائے گا، علماء کرام کے جاری کردہ ایس او پیز کے تحت اجتماعی قربانی کی اجازت ہوگی، سندھ حکومت پر بھر پور اعتماد اور قابل تقلید تعاون پر علما کرام کا بھر پور شکریہ ادا کرتی ہے ۔ وہ جامعہ اشرف المدارس میں وفاق المدارس کے زیر اہتمام جامعات و مدارس کے علامء کا منعقدہ نمائندہ اجلاس سے خطاب کررہے تھے ، اجلاس کی صدارت مولانا حکیم محمد مظہر نے کی ۔ ڈاکٹر محمد عادل خان ، ڈاکٹر سعید خان اسکندر، مولانا طلحہ رحمانی ، قاری محمد عثمان، مولانا ابراہیم مظہر، مولانا محمد حسین ، مفتی عبدالحمید ربانی، ڈاکٹر قاسم محمود ، قاری محمد اقبا ل مولانا ایاز ، مولانا اکمل ، مولانا عبدالحمید ، مولانا غلام رسول ، مولانا حماد اللہ یار خان، مولانا محمد مدنی، مولانا محمد اسحاق ، مفتی عاصم عبداللہ ، مولانا احمد یار خان ، مولانا محمد مدنی، مفتی محمد طاہر ، مفتی فداء اللہ، مولانا یحییٰ زکریا ، مفتی عمر فاروق، ڈاکٹر نثار احمد ، قاری اللہ داد اور دیگر علماء کرام نے بھی خطا ب کیا جبکہ شہر بھر کے جامعات و مدارس کے مہتمم اورنمائندوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ وفاق المدارس کے میڈیا کوارڈ ینیٹر مولانا طلحہ رحمانی کے مطا بق اجلاس میں چرم قربانی کے اجازت ناموں اور اجتماعی قربانی کے مسائل کی سربراہی میں دو کمیٹیاں بھی قائم کی گئی ، جبکہ وزارت مذہبی امور کے کوارڈینیٹر حافظ جمیل راٹھور نے بھی اجلاس سے خطاب کیا ، مولانا طلحہ رحمانی نے قربانی کے حوالے سے تنظیمات مدارس اور حکومت سندھ کے مابین اتفاق رائے طے ہونے والے ایس او پیز سے اجلاس کو آگاہ کیا ، اس موقع پر صوبائی وزیر سید ناصر شاہ نے کہا علماء ہمارے معاشرے کے قابل قدر لوگ ہیں ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام پل پل ہماری رہنمائی کررہے ہیں انہوں نے کہا کہ جو دینی مدارس نیا اجازت نامہ لینا چاہیں انہیں کسی بھی قسم کی پریشانی کا سامنا کرنا نہیں پڑے گا انہوں نے کہا کہ ہوم ڈپارٹمنٹ کو پابند کردیا گیا ہے کہ پیر تک تما م کارروائی مکمل کرلی جائیں ، انہوں نے مزید کہا کہ اس اجلاس میں جو کمیٹی کے افراد متعین کئے گئے ہیں وہ ہمیں لسٹ فراہم کریں ہم ان اداروںکو این او سی کے اجراء کروادیں گے ۔