منور حسن اسلامی تحریک کا اثاثہ تھے ، پروفیسر ابراہیم

127

کراچی( اسٹاف رپورٹر) نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان پروفیسر ابراہیم نے کہا کہ موت ایک نا قابل تردید حقیقت ہے اور کامیاب وہی ہے جو موت کے بعد کی زندگی میں کامیاب ہو ۔ انہو ں نے کہا کہ موت کے بعد کی کامیابی کا راستہ اقامت دین کا راستہ ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ضلع ائر پورٹ میں سید منور حسن کے لیے ایک تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ تعزیتی ریفرنس سے نائب امیر جماعت اسلامی کراچی ڈاکٹر اسامہ رضی اور امیر ضلع ائر پورٹ توفیق الدین صدیقی نے بھی خطاب کیا ۔ پروفیسر ابراہیم نے کہا کہ سید منور حسن کے بارے میں یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی اسی جدو جہد میں صرف کی ہے ۔ وہ اسلامی تحریک کا اثاثہ تھے اور انہیں اسلامی تحریکیں کبھی فراموش نہیں کرسکیں گی ۔ ڈاکٹر اسامہ رضی نے کہا کہ سید منور حسن اس عہد کے ’’عالم انقلاب ‘‘تھے اور اس معاملے میں ان کا کوئی ثانی نہ تھا ۔ انہوں نے مروجہ نظام کو قبول کرتے ہوئے زندگی گزارنے کے بجائے اس نظام کو بدلنے کی حکمت نظری اور حکمت عملی کے شعور سے نوجوان نسل کو آراستہ کیا ۔ توفیق الدین نے کہا کہ سید منور حسن کا کردار ہمیشہ ہمارے لیے مشعل راہ رہے گا ۔