پائلٹوں کے لائسنس کا معاملہ بہتر طریقے سے حل ہوسکتا تھا، ارشد ملک

131

اسلام آباد (صباح نیوز) چیف ایگزیکٹو پی آئی اے ارشد ملک نے کہا ہے کہ پائلٹس کے جعلی لائسنسوں کا معاملہ بہتر انداز میں حل ہوسکتا تھا، اس معاملے کو اچھی طرح پیش کیا جاتا تو دنیا بھر میں اس کی تعریف ہوتی کہ جعلی لائسنس رکھنے والے پائلٹس کو جہاز چلانے سے روک دیا گیا، ا ب ملک و بیرون ملک سے بھی تنقید کی جا رہی ہے جس کی وجہ سے یورپی یونین اور یو اے ای نے بھی پائلٹوں پر پابندی لگا دی چونکہ ان کی ٹریننگ اور لائسنس یہاں کے تھے اس لیے ان کے لائسنس منسوخ کر کے انہیں گراؤنڈ کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو سول ایوی ایشن میں اصلاحات لانے کے لیے تجاویز دے رہے ہیں۔ امید ہے یورپی یونین کے خدشات دور کرنے میں کامیاب ہوں گے، پی آئی اے کی ساکھ بحال کرنے کے لیے یہ عمل ضروری ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے مزید کہا کہ پی آئی اے کی کمان سنبھالنے کے بعد ادارے کو خالصتاً کمرشل بنیادوں پر چلایا مگر بدقسمتی سے پورا عمل اپنی روح کے بالکل برعکس اور غلط رخ چل گیا ہے۔ مسئلے کو غلط سمت میں لے جانے کی وجہ سے پی آئی اے کو دنیا بھر میں اپنا دفاع کرنا پڑ رہا ہے۔ پابندی سے پہلے پی آئی اے کی 21 ممالک کیلیے پروازیں چل رہی تھیں۔ امریکا، آسٹریلیا، افریقا اور جنوبی کوریا کے لیے خصوصی پروازیں چلائیں، جعلی لائسنس کی تحقیقات 2018ء سے پی آئی اے کی نشاندہی پر ہو رہی تھی، تحقیقات کے بعد مشکوک پائلٹس اور عملے کو کام کرنے سے روک دیا گیا۔