گردے، انسان کے اندرونی فلٹر یونٹس

586

گردہ انسانی جسم میں ایک ایسا حصہ ہے جو کہ بہت سے اہم کام سر انجام دیتا ہے یہ خون کو صاف رکھنے میں کام آتا ہے اور کیمیائی طور پر خون کو متوازن رکھتا ہے گردے جسم سے 200 لیٹر خون اور 2 ملی لیٹر گندے اجزاء اور زائد پانی کا اخراج کرتے ہیں۔

اگر گردے یہ اجزاء بروقت جسم سے خارج نہ کریں تو یہ جسم میں رہ کر تہہ بنالیں گے اور اندرونی نظام وقوت مدافعت کو نقصان پہنچا ہیں گے ۔اس سے بہت بیماریوں با آسانی لاحق ہوتی ہیں۔

دنیا میں ہر سال لاکھوں افراد گردے کے مختلف امراض میں مبتلا ہو کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں ،ادارہ صحت کے اعداد وشمار کے مطابق پاکستان میں دو کروڑ سے زائد افراد گردے کے مختلف امراض میں مبتلا ہیں۔

طبی ماہرین کے مطابق گردے کے مرض کی وجہ بلند فشارِ خون ،ذیابیطس ،ذہنی دباؤ اور پانی کم پینا ہے ،گردوں کے امراض سے بچنے کیلئے پانی کے زائد استعمال، سگریٹ نوشی اور موٹاپے سے بچنا ضروری ہے۔
جبکہ دوسری جانب اب آلودگی بھی اس قدر بڑھ چکی ہے کہ اس پر قابو پانا نہایت مشکل ہو گیا ہے ۔یہ آلودگی ہی ہے جس کے نتیجے میں گردے کی بیماریوں میں مبتلا انسانوں کی بہت بڑی تعداد اذیت ناک زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔
پاکستان کے معروف سرجن ڈاکٹر ادیب الحسن رضوی اور ڈاکٹر انوار نقوی کی یہ رائے ہے کہ آلودگی اور غیر مصفاپانی گردے کے امراض کا بنیادی سبب ہیں۔ پاکستان میں گردے کے امراض مندرجہ ذیل ہیں:
1۔گردے کی پتھری
2۔گردے کی سوزش،انفیکشن
3۔پیشاب میں رکاوٹ

علامات:

ناکارہ گردے کی حسب ذیل علامتیں ہیں ۔بلڈ پریشر کا زیادہ ہونا ،کمر کے نچلے حصے میں گردے کی طرف تکلیف محسوس کرنا،چہرہ اور پاؤں کا سوجنا ،پیشاب میں جلن محسوس کرنا ،بار بارپیشاب آنا،متلی یا الٹی کرنا ،تھکاوٹ محسوس کرنا،بھوک نہ لگنا ،خون کی کمی محسوس کرنا،مسلسل بخار رہنا ،سانس پھولنا ،پیشاب میں پیپ آنا،گھبراہت اور نیند کا نہ آنا ،ذیابیطس کا مریض ہونا ۔یہ وہ علامتیں ہیں جو ایک ناکارہ گردے کے مریض میں عموماًپائی جاتی ہیں۔

طریقہ علاج: اگر کسی انسان کے گردے نا کارہ ہو جائیں تو اس کی زندگی بچانے کے لئے تین طریق علاج موجود ہیں :

1) پیرا ٹونیل ڈایا لیسسPeratoenal Dialysis۔

2) ہیمو ڈایالیس Hemo Dialysis۔

3) گردے کی پیو ندکاری Kidney Transplant۔

پیراٹونیل ڈایالیسس:

گردوں کی صفائی کا یہ طریق کار آسان ہے لیکن اس کا استعمال ایمر جنسی کے وقت کیا جاتا ہے ۔خرابی گردہ کے ایسے مریض جن کے خون میں یوریاUREAاچانک بڑھ جاتا ہے یاوہ مریض کے گردے جسم سے زیادہ مقدار میں پانی یا خون نکل جانے کی صورت میں کام کرنا بند کر دیتے ہیں ۔مثلاً بچے کی پیدائش یا حمل ضائع ہونے کی صورت میں خون کا زیادہ بہہ جانا،پانی کی کمی اور بعض ادویہ بھی گردوں کے فعل کو متاثر کرنے کا سبب بن سکتی ہیں ۔ان تمام صورتوں میں یہ طریق کار استعمال کرتے ہیں۔

ہیمو ڈایالیسس:

گردے اگر کسی بیماری،انفیکشن یا خرابی کے باعث اپنا کام چھوڑ دیں تو خون میں ان زہریلے فاسد مادوں کی مقدار بڑھ جاتی ہے جنہیں عام حالات میں گردے پیشاب کے ذریعے میں باہر نکال پھینکتے ہیں ۔ایسی صورت میں اگر بیماری کو جلد ہی ختم نہ کیا جائے تو مریض کی زندگی خطرے میں پڑجاتی ہے ۔
خون کی صفائی کے متبادل مشینی انتظام کا نام ڈایالیسس ہے ۔بعض اوقات یہ بھی ہوتا ہے کہ گردے کچھ وقت کے لئے اچانک کام بند کر دیتے ہیں تو ایسی صورت میں ڈایالیسس مشین کے ذریعے سے خون کی صفائی کا عمل انجام دیا جاتا ہے تاکہ گردوں کو وقتی طور پر آرام دیاجاسکے۔ عین ممکن ہے کہ وہ دوبارہ کام شروع کردیں ۔اگر ایسا نہ ہو سکے تو پھر زندگی بچانے کے لئے دو علاج ڈایالیسس یا ٹرانسپلانٹیشن یعنی گردے کی پیوندکاری اختیار کرنے پڑتے ہیں۔

گردے کی پیوندکاری:

ایک جراحی عمل کا نام ہے جس نے طبی سائنس وعمل جراحی کو ایک بلند مرتبہ دیا۔گردوں کے امراض میں مبتلا افراد کے لئے جراحی زندگی کی آخری کرن ہے ۔ڈایالیسس کے مقابلے میں گردے کی پیوندکاری یقینا زیادہ بہتر علاج ہے کیونکہ آپریشن کے بعد مریض تقریباً معمول کی زندگی گزارتا ہے ۔

غذا سے علاج:
صدیوں کی تحقیق سے ماہرین نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ اس مرض کا علاج مناسب غذا کا استعمال ہے ۔
امراض گردہ کے صحیح اور اصولی علاج میں غذاؤں کو خاص اصول سے استعمال کرنا ہوتا ہے ۔دورانِ علاج ایسی غذائیں استعمال کرائی جاتی ہیں جو اس مرض کو کم کرنے میں مدد گار ہوتی ہیں ۔ایسی غذاؤں کو ترک کرنا ہوتا ہے جو اس مرض کے بڑھانے میں مدد گار ہوتی ہوں۔
جسمانی خلیات کے تغذئیے کے دوران بہت سے تیزابی فضلات بنتے ہیں جس کے بڑے حصے کو گردے سیال FLUIDحالت میں پیشاب کے ذریعے سے جسم سے خارج کرتے رہتے ہیں ۔اگر گردوں کا فعل سست پڑ جائے تو یہ تیزابی مادے جسم کے اندر رہ کر صحت کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
اگر گردے اپنا کام صحیح نہ کررہے ہوں تو غذا پر  توجہ دینا چاہئے تاکہ سیال کی مقدار خواہ اس میں ڈایالیسس ہی کیوں نہ شامل ہو ،حسب ضرورت رہے۔ وہ غذائیں جن میں مندرجہ ذیل اشیاء پائی جاتی ہیں ،حسب ذیل ہیں:
1۔پروٹین

2۔کیلوریز

3۔سوڈیئم

4۔پوٹاشیئم

5.سیال

6۔فاسفورس