مربی، مفکر، مجاہد، قائد… منور (آخری حصہ)

566

سید صاحب کے وژن اور مستقبل بینی کو داد دینی چاہیے۔ جب وہ چین کے دورے سے آئے تھے تو اس زمانے میں ایک تنظیم مسلسل جماعت کے خلاف پروپیگنڈا کررہی تھی کہ وہ چین میں ایغور مسلمانوں پر مظالم کی توثیق کرکے آئی ہے۔ ہم نے منور صاحب سے پوچھا کہ کیا ایسا ہی ہے تو انہوں نے بتایا کہ وہاں ہماری ملاقات چینی کمیونٹی کے نام سے مسلمانوں سے کرائی جارہی تھی تو ہم نے منع کردیا اور کہا کہ ہمیں چینی مسلمانوں سے ملوایاجائے۔ چینی حکومت نے اپنا ترجمان دیا ہم بھی انتظام کرکے گئے تھے لہٰذا ترجمان جو کچھ بتارہا تھا ہم نے اپنے مترجم سے اس کی تصدیق کی ۔اس کے بعد چین میں مسلمانوں کے حقوق اور ان کو الگ کمیونٹی قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ سن کر ہم نے کہا کہ اس تنظیم کو جواب دیں کہ وہ پروپیگنڈا نہ کرے… منور صاحب نے کہا کہ اتفاق سے وہ بھی اسلام کا نام لیتے ہیں ہمیں اپنے دوست بڑھانے ہیں۔ اسلام کے نام لیوائوں میں بیان بازی اور مقابلے سے ہم اپنے دوست کم کردیں گے۔ تنظیم اسلامی کے اجتماعات میں جماعت اسلامی پر تنقید مولانا مودودیؒ کے فیصلوں کو غلط قرار دینے پر اصرار (جواب بھی جاری ہے) کا جواب دیں… اس پر بھی منور صاحب نے کہا کہ دین کا کام کرنے والوں کے بارے میں ہمیں بیان بازی نہیں کرنی چاہیے۔ ویسے بھی میدان میں ہم ہیں وہ جو بھی کہتے رہیں جب تک مقابلے پر نہیں آتے خاموش رہیں…
ایک بڑا عجیب تاثر لوگوں نے اپنی تحریروں اوربعض تبصروں میں چھوڑا ہے کہ منور حسن بڑے سخت گیر، تند و تیز جواب دینے والے اور تلخی بکھیرنے والے آدمی تھے۔ یہ بالکل غلط ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ غلط بات سن کر اس کی خوش اخلاقی سے تردید کرتے یا درست بات بیان کرتے تھے لیکن اگر کوئی اس پر اصرار بلکہ ڈھٹائی اختیار کرتا تو ان کا کوئی کاٹ دار جملہ آجاتا… منور صاحب کے کسی موقف کو آج تک کوئی غلط قرارنہیں دے سکا۔ امریکا کی جنگ ہو یا اخباری دنیا میں اپنا بن کر جماعت کو ڈسنے والے یا کمرشل اخبارات سب کے بارے میں جو موقف انہوں نے اپنایا کبھی اس سے یوٹرن نہیں لیا اور سب کے سب درست ثابت ہوئے۔ اتحادوں کی سیاست ہو یا سیاست میں فوجی مداخلت ،دو ٹوک اور واضح موقف اختیار کیا اور جو کچھ تجزیہ کیا وہی درست ثابت ہوا… منور صاحب جماعت اسلامی کو چھوڑ جانے والوں سے سخت ناراض ہوا کرتے تھے لیکن دین کے نام لیوائوں کے علاوہ جن لوگوں سے آخر ی وقت تک شفقت فرماتے رہے۔ وہ پاسبان والے تھے۔ منور صاحب کی تقریروں میں جس چیز پر سب سے زیادہ زور ہوتا تھا وہ فکر آخرت تھی اور اس آخرت کی فکر کیسے کی جائے اس کا عملی نمونہ وہ خود تھے۔ ایک مرتبہ ہم منصورہ گئے ان کے علم میں تھا۔ چنانچہ الضیافہ میں باہر والا کمرہ ہمارے نام پر محفوظ تھا۔ اگلے روز دوپہر کو ان کے دفتر گئے تو وہ جاچکے تھے۔ شام کو مسجد میں ملے اور قریب آکر پوچھا کیا بہت دیر سے آئے تھے۔ ہم نے کہا نہیں کوئی گیارہ بجے تھے۔ کہنے لگے فجر میں نہیں نظر آئے تو میں نے سمجھا کہ بہت دیر ہوگئی ہوگی… ہم نے وضاحت کی کہ کمرے میں پڑھ لی تھی… پھر سو گئے۔
منور صاحب کے سیکرٹری ابرار صاحب نے ایک دن دلچسپ واقعہ سنایا کہ کئی روز کے دورے کے بعد ایک روز رات کو دفتر آئے اور فون اُٹھا کر ایک طرف رکھ دیا اندر سے دروازہ بند کرلیا۔ یہ کام وہ عموماً کرتے تھے… تا کہ کوئی ڈسٹرب نہ کرے، پھر تمام خطوط کا بغور مطالعہ کرکے جواب لکھتے یا کسی تنظیمی ضرورت پر ہدایات لکھتے تھے۔ ابرار صاحب نے بتایا اس رات ہم اپنے کمرے میں بیٹھے رہے فون بند اور کمرہ لاک صبح فجر کی اذان ہوئی تو ایک کال کی گھنٹی بجتی رہی، فوراً جا کر دروازے کو ہلکا سا دھکا دیا تو پتا چلا کہ سید صاحب غائب… ساری رات کام کرکے ایک ایک خط اور مراسلے پر ہدایات تحریر کرکے مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے۔ اور صبح دس بجے پنجاب کے ذمے داران سے میٹنگ طے تھی… یہ اللہ کا بندہ سوتا کب ہے۔
اگر منور صاحب سے عقیدت کا حوالہ ہو تو ہم درجنوں لوگوں کو جانتے ہیں جن میں صفدر چودھری کے بیٹے منور بھی شامل ہیں، جن کا نام منور حسن سے عقیدت کی وجہ سے منور رکھا گیا ہے۔ بہت سوں نے اس نام کی لاج بھی رکھی۔ لیکن منور حسن سے عقیدت یہ نہیں کہ ہم ان کی تقریروں کو شیئر کریں، ان کے بیانات اور اچھے جملے یاد کریں بلکہ حقیقی عقیدت تو یہ ہے کہ منور حسن جس مشن کو لے کر اُٹھے تھے حق بات کہنے کا جو ڈھنگ انہوں نے اختیار کیا تھا اور جو جو موقف اور بات انہوں نے کہی تھی اس سب کے پیچھے ان کا مضبوط کردار تھا۔ عقیدت کا تقاضا ان جیسا کردار پیدا کرنا ہی ہے۔ منور صاحب کے ساتھ بہت سے سفر کیے، صحافتی امور میں چونکہ ان کا گہرا مشاہدہ اور مطالعہ تھا اس لیے جب جسارت میں کوئی چیز غلط شائع ہوتی تو بڑے تحمل سے کچھ دن بعد ملاقات میں اس کی نشاندہی کرتے۔ اس زمانے میں ان سے ملاقاتیں تواتر کے ساتھ ہوتی تھیں۔ ایک دن فون کرکے کہا کہ میں منصورہ میں ہوں رات کو تقریباً دس بجے پہنچ گیا تھا لیکن ابھی جسارت میں خبر دیکھی ہے کہ منور حسن لاہور روانہ… ایک تو جسارت یہاں دوپہر میں آتا ہے… دوسرے یہ کہ ایسی خبریں کم از کم میرے بارے میں نہ لگایا کریں کہ روانہ ہوگئے یا جہاں جسارت جاتا ہی نہیں وہاں کے بارے میں بتائیں کہ منور حسن فلاں جگہ خطاب کریں گے۔ یہ بہت مقامی مسائل ہوتے ہیں۔ ایک مرتبہ جسارت کے دفتر میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صحافیوں میں فکر آخرت کی باتیں کررہے تھے۔ قلم کی حرمت کا بیان کررہے تھے۔ ہم نے کہا کہ صحافی تو تنخواہ کی فکر میں ساری زندگی گزار دیتا ہے۔ اسے آخرت کی فکر کیسے ہوگی۔ منور صاحب نے کہا کہ ہمارا کام تو یہ پیغام پہنچانا ہے اور یہ بات یاد رکھو جتنے لوگ تنگ دست ہیں ان ہی میں تمہیں کشادہ دل زیادہ ملیں گے۔ رزق روزی روزگار کا تعلق فکر آخرت سے نہیں ہے۔ ارب پتی آدمی کو بھی آخرت کی فکر اسی طرح کرنی چاہیے جس طرح ایک غریب شخص کو بلکہ امیر کو تو اور زیادہ کرنی چاہیے کتنا حساب دے گا۔ اسی لیے تو کہا گیا ہے نکلو اللہ کی راہ میں خواہ ہلکے ہو یا بوجھل۔ مجھے تو زیادہ اُمید ایسے ہی طبقات سے ہوتی ہے۔
سید منور حسن سے جماعت اسلامی کی اندرونی سیاست پر بھی بات ہوتی تھی اور انہوں نے ہمیشہ صاف اور سیدھا راستہ اختیار کرنے کا مشورہ دیا۔ کبھی کسی رہنما کے خلاف بات نہیں سنتے تھے اور اس پر تبصرہ نہیں کرتے تھے۔ منور صاحب کو خوامخواہ فوج کا دشمن یا مخالف بنادیا گیا تھا۔ دراصل یہ کام فوج کے ترجمانوں کی غلط ترجمانی نے کیا تھا۔ آج فوج سمیت سب منور صاحب کے ہر اس موقف کے حامی اور اسے اپنا بیانیہ بنائے ہوئے ہیں جن کی تردید میں متشدد ہوئے جاتے تھے۔ سید منور حسن کی زندگی کے بارے میں کوائف جسارت میں بھی شائع ہوتے ہیں اور سماجی رابطوں کے ابلاغی گروپوں میں بھی دہرائے جارہے ہیں لیکن اگر ان کی عملی زندگی کو سامنے رکھیں تو یہ بلاخوف تردید کہا جاسکتا ہے کہ پاکستانی قوم نے ہیرا کھودیا۔ یہ ہیرا آلودہ بھی نہیں تھا دھوکا بھی نہیں تھا بالکل شفاف سب کو نظر آتا تھا کہ قدرت کا تراشیدہ ہیرا ہے۔ اور یہ دنیا داری کی بات نہیں ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب جب قوموں نے اللہ کا پیغام پہنچانے والوں ،دین کے غلبے کی بات کرنے والوں کو مسترد کیا وہ خود مسترد ہوئے، ذلیل و خوار ہوئے، تباہی مقدر ٹھیری اور بڑے سے بڑا طاقتور اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکا۔ جس روز یہ اطلاع ملی کہ منور صاحب اسپتال میں داخل کیے گئے ہیں اسی وقت تشویش پیدا ہوگئی تھی لیکن ملاقات کا موقع ہی نہیں تھا پھر جب یہ پتا چلا کہ وینٹی لیٹر پر ہیں تو پھر یہ خیال آیا کہ اب شاید ملاقات نہ ہو… اور ایسا ہی ہوا۔ لیکن منور صاحب سے جو ملاقاتیں ان کی صحت و تندرستی کے عالم میں ہوئیں ان کا اُدھار کبھی ہم نہیں اُتار سکتے۔ سید منور حسن سید بادشاہ کے قافلے کے رہنما تھے ہم تو اس قافلے میں کہیں پیچھے بہت پیچھے ہیں، کبھی کبھی قاضی صاحب منور صاحب جیسا فرد ہاتھ پکڑ لے تو ہم لوگوں کو نظر آنے لگتے ہیں۔ اگر منور صاحب کو اس چمن کا دیدہ ور کہا جائے تو یہ بھی درست ہے۔ دانائے راز سمجھا جائے تو وہ بھی درست ہے۔
ویسے تو سید صاحب پر بہت سے اشعار صادق آتے ہیں لیکن … قرآن میںجوآیا ہے اور علامہ اقبال کے کچھ اشعار کو پھر پڑھیں اور اب سمجھیں ۔قرآنی آیات اوراشعار آسانی سے سمجھ میں آ جائیں گے۔ آیات کا ترجمہ یہ ہے محمد ؐاللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں کفار پر سخت اور آپس میں رحیم ہیں ۔تم جب دیکھو گے انہیں رکوع و سجود اور اللہ کے فضل اور اس کی خوشنودی کی طلب میں مشغول پائو گے۔ سجود کے اثرات ان کے چہروں پر موجود ہیں جن سے وہ الگ پہچانے جاتے ہیں‘‘۔(سورۃ فتح آیت 29)سید منور اسی قافلے کا حصہ تھے۔
علامہ اقبال نے فرمایا
ہے وہی تیرے زمانے کا امام برحق
جو تجھے حاضر و موجود سے بیزار کرے
موت کے آئینے میں تجھ کو دکھا کر رخ دوست
زندگی تیرے لیے اور بھی دشوار کرے
دے کے احساس زیاں تیرا لہو گرما دے
فقر کی سان چڑھا کرتجھے تلوار کرے
فتنۂ ملت بیضاہے امامت اس کی
جو مسلماں کو سلاطیں کا پرستار کرے
حق مغفرت کرے، کیا عجیب شخص تھا
جان کر منجملۂ خاصان میخانہ’’ اسے‘‘
مدتوں رویاکریں گے جام و پیمانہ ’’اسے‘‘