ترکی:آیا صوفیہ،مسجد یاعجائب گھر فیصلہ 15دن بعد سنایا جائے گا

502

تُرکی کی عدالت عظمیٰ نے بڑا فیصلہ سناتے ہوئے تاریخی مسجد آیا صوفیہ کو بحال کرنے کا حکم دے دیا۔ خبررساں اداروں کے مطابق استنبول کی بڑی مسجدآیا صوفیہ کو عجائب گھر کے طور پر استعمال کیا رہا تھا، تاہم عدالت میں اسے دوبارہ مسلمانوں کی عبادت گاہ کے طورپر بحال کرنے کی درخواست دائر کی گئی تھی۔ اعلیٰ انتظامی عدالت نے آیا صوفیہ کی حیثیت عجائب گھر سے ختم کرکے اسے مسجد کی صورت میں بحال کرنے کا حکم دیا ،جب کہ تفصیلی فیصلہ 15روز بعدجاری کیا جائے گا۔ مسلمانوں کی جانب سے عدالت میں موقف اختیار کیا گیا کہ چھٹی صدی عیسوی میں بازنطینی دور حکومت میں تعمیر کیا گیا گرجا گھر عثمانی دور میں سلطان محمد فاتح نے خرید لیا تھا اور اس رو سے وہ تُرک حکومت کی ملکیت ہے اور کسی دوسرے ملک یا مذہب کے پیروکاروں کو اس پر اپنی ملکیت کا دعویٰ کرنے کا کوئی حق نہیںہے۔

وکلا نے 1934ء میں سنائے گئے فیصلے کو کالعدم کرنے کا مطالبہ کیا،جس کے تحت آیا صوفیہ میں نمازوں کی ادائیگی پر پابندی عائد کرکے اسے تمام مذاہب کے ماننے والوں کے لیے بطور عجائب مختص کردیا گیا تھا۔ کمال اتاترک کے دور میں کیے جانے والے متنازع فیصلے کے بعد عیسائی اس پر برابر کا حق جماتے رہے ہیں اور عالمی ادارہ برائے ثقافت یونیسکو نے اسے بین الاقوامی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کررکھا ہے۔ دوسری جانب آیا صوفیہ سے متعلق تاریخی فیصلے پر امریکا اور فرانس کی جانب سے سخت رد عمل کا اظہار کیا گیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ترک صدر اردوان پر پر زوردیا کہ آیا صوفیہ کو مسجد میں تبدیل نہ کریں اور اسے تمام مذاہب کے پیروکاروں کے لیے کھلا رکھیں۔ ادھر تُرکی کی دشمن طاقتیں فیصلہ آنے پر سخت برہم ہوگئیں اور عالمی ذرائع ابلاغ نے صدر اردوان کے خلاف زہر اگلنا شروع کردیاہے۔ رجب طیب اردوان پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ آیا صوفیہ کو مسجد بنا کر اسے اپنے سیاسی اغراض کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔