محمد ﷺنام منفرد تھا

160

مولانا سحبان محمود
آپؐ کا اسم گرامی’’محمد‘‘ اپنے معنی کے اعتبار سے ان تمام کمالات واوصاف پر دلالت کرتا ہے جو مسلسل مدح سرائی، ثنا خوانی اور تعریف توصیف کا سبب ہیں، رب ذوالجلال کی جانب سے بھی، فرشتوں اور انسانوں کی جانب سے بھی بلکہ تمام کائنات کی جانب سے بھی، ایسی تعریف جو مسلسل ہو، خوب خوب ہو او رکبھی ختم ہونے والی نہ ہو۔
یوں تو نبی اکرمؐ کے بہت سے مبارک نام قرآن وحدیث میں آئے ہیں، لیکن آپ کے دو پاک نام مشہور ہیں: ایک ’’محمد‘‘ اور یہ سب سے زیادہ مشہور ہے، دوسرا ’’احمد‘‘ اللہ تعالیٰ نے آپ کے یہ دونام کراکے اپنی ذات اور اپنی مخلوق کی جانب سے آپ کی مدح سرائی فرمائی ہے۔
آپ کا نام نامی ’’محمد‘‘ آپ کے دادا جناب عبدالمطلب نے بالہام خداوندی تجویز فرمایا تھا اور یہ نام قبیلہ قریش بلکہ ملک عرب میں معروف نہ تھا، چنانچہ جب آپ کا یہ نام رکھا گیا تو قریش، کے لوگ عبدالمطلب کی خدمت میں آئے اور عرض کیا کہ اے ہمارے سردار! آپ نے اپنے پوتے کا ایسا نام کیوں رکھا جو نہ تو خاندان قریش میں کسی کا ہوا، نہ ملک عرب میں یہ نام کسی نے رکھا؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ نام میں نے اس لیے رکھا ہے کہ اس بچے کی تعریف اہل زمین بھی کرتے ہیں اور اہل آسمان بھی۔ (سیرت المصطفی، ج:1/61) قریش یہ جواب سن کر خاموش ہوگئے۔
درحقیقت لفظ ’’محمد‘‘ کے یہی معنی ہیں جو آپ کے دادا صاحب نے بتائے، کیوں کہ یہ لفظ ’’حمد‘‘ سے بنا ہے، جس کے معنی تعریف کرنے کے آتے ہیں اور عربی گرامر کے مطابق ’’محمد‘‘ میں کثرت اور مبالغے کے معنی ہوں گے، یعنی وہ ہستی جس کی سبھی تعریف کریں، خوب خوب کریں اور کرتے رہیں۔ چنانچہ آپ کی تعریف کرنے سے کوئی مستثنیٰ نہیں رہا، حتی کہ آپ کے منکر اور سخت ترین دشمن بھی جب آپ کا یہ مبارک نام زبان سے لیں گے تو معنی کی وجہ سے وہ بھی مجبوراً آپ کی تعریف کرنے والے بن جائیں گے۔ ورنہ جس پاک ذات کی ثنا خوانی خالق کائنات فرمائے تو مخلوق کی ثنا خوانی کی اس کو ضرورت نہیں رہتی۔
اللہ رب العزت کی جانب سے آپ کی مدح سرائی بالکل ظاہر ہے، قرآن کریم میں جا بجا آپ کے خصوصی کمالات اور اوصاف کو رب العزت نے ذکر فرمایا ہے، چنانچہ اس تعریف میں سب سے زیادہ واضح آیت یہ ہے کہ :ِانَّ اللَّہَ وَمَلَائِکَتَہْ یْصَلّْونَ عَلَی النَّبِیِّ (الاحزاب:56)۔ امام بخاری نے ابو العالیہ سے نقل کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صلوٰۃ کا مطلب ہے، آپؐ کی تعریف کرتے رہنا۔ اس کو مشہور شارح بخاری امام ابن حجر نے پسند فرمایا ہے۔ اب اس آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ بے شک اللہ تعالیٰ آپ کی تعریف فرماتے رہتے ہیں اور فرشتے بھی۔
خالق کائنات کی تعریف اس کے شایان شان ہوگی، کسی مخلوق کو اس کی حقیقت معلوم نہیں ہوسکتی، البتہ ظاہر ہے تمام مخلوقات کی تعریف سے بلند وبالا ہوگی اور دائمی وابدی ہوگی۔ پھر فرشتے بھی آپ کی تعریف میں مشغول ہیں، بے شمار فرشتے جن کی تعداد صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ یہ فرشتے ہر اْس انداز سے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے تجویز فرما دیا ہو، ہر وقت آپ کی تعریف میں اس طرح مشغول ہیں کہ ایک لمحے کے لیے بھی غافل نہیں ہوتے۔ بہت سے فرشتے وہ ہیں جو درود شریف کے ذریعے آپ کی مدح سرائی میں مشغول ہیں، لاتعداد فرشتے وہ ہیں جو آپ کی امت کی جانب سے درود شریف کا تحفہ آپؐ کی بارگاہ میں پہنچانے کے لیے ہر وقت مشغول خدمت ہیں اور ان گنت فرشتے وہ ہیں جو کسی مومن کے ایک مرتبہ درود شریف پڑھنے پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے دس رحمتیں اْس مومن تک پہنچانے کی خدمت میں شب وروز مشغول ہیں، ایک لمحے کے لیے نہ غافل ہوتے ہیں، نہ تھکتے ہیں اور چوں کہ اللہ تعالیٰ کے نام پاک کے ساتھ آپ کا مبارک نام بھی لازم ہے، اس لیے تمام فرشتے جو تسبیح وذکر وغیرہ میں مشغول ہیں لامحالہ آپ کی تعریف کرنے والے ہیں۔ رہے انسان وغیرہ… تو ان میں سے نیک اور مومن بندے تو آپ کی تعریف دل وجان سے کرتے ہیں، لیکن پھر بھی حق ادا نہیں کرسکتے اور نافرمان وکافر لوگ اگرچہ تعریف کرنا نہیں چاہتے، لیکن ان میں سے جو انصاف پسند ہیں وہ آپ کی تعریف برملا کرتے ہیں اور دوسرے بھی مجبوراً آپ کے اسم گرامی کو لیتے ہی آپ کی تعریف کرنے والے بن جاتے ہیں۔
آپ کا اسم پاک ’’محمد‘‘ ایسا پیارا نام ہے کہ خود رب العالمین نے ہر اس موقع پر جہاں آپ کو خوش کرنا مقصود ہوتا ہے بڑے پیار اور محبت سے اسی نام کا ذکر فرمایا ہے، حدیث شریف میں آتا ہے کہ بروز محشر جب تمام مخلوق پریشان ہو کر حضرات انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کے پاس درخواست شفاعت لے کر جائے گی اور وہ حضرات ان کو آپؐ کی خدمت میں بھیج دیں گے، تو آپ اس درخواست کو قبول فرماکر، رب العالمین کے سامنے سجدہ ریز ہو جائیں گے۔ اس پر رحمت خداوندی جوش میں آجائے گی اور ارشاد ہوگا: اے محمدؐ! اپنا سر سجدے سے اٹھائیے اور مانگیے جو مانگنا ہے، آپ کو سب کچھ دیا جائے گا اور شفاعت کیجیے، آپ کی شفاعت قبول کی جائے گی۔
آپؐ کا دوسرا نام مبارک ’’احمد‘‘ ہے، یہ بھی قرآن کریم میں آیا ہے روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا یہ نام پاک پہلی آسمانی کتابوں میں آیا ہے۔ سورۂ صف میں فرمایا گیا کہ سیدنا عیسیؑ نے بنی اسرائیل سے فرمایا تھا کہ میں اپنے بعد ایک رسول ( عظیم) کی خوش خبری دینے والا ہوں، جن کا نام نامی ’’احمد‘‘ ہوگا۔ یہ بھی ’’حمد‘‘ سے بنا ہے، جس کے معنی تعریف کرنے کے آتے ہیں، لہٰذا ’’احمد‘‘ کے معنی ہوں گے: وہ ذات جو خوب قابل تعریف ہے۔ اس کا حاصل بھی وہی ہے جو آپ کے پہلے نام کا ہے۔