سید مودودیؒ اور جماعت اسلامی پر تنقید کی نئی لہر

1307

ایک زمانہ تھا کہ کوئی سیاستدان جب تک جماعت اسلامی پر تنقید کرنے کے قابل نہ ہوجائے اس وقت تک اس کو سیاسی بلوغت کی سند حاصل نہیں ہو سکتی تھی یہی حال کم و بیش مذہبی حلقوں کا تھا اور آج تک قائم و دائم ہے یہ ایک دائمی مسئلہ ہے اور سوال یہ ہے کہ آخر جماعت اسلامی کی سیاسی حکمت عملی اور سید مودودیؒ کی دینی بصیرت سیاسی غیر سیاسی مذہبی عناصر پر گراں کیوں ثابت ہوتی ہے۔ متحدہ ہندوستان سے لیکر قیام پاکستان اور اس کے بہتر سال بعد بھی یہ شور تھم نہ سکا ہر طرف سے سید مودودیؒ کی ذات کو جس طرح نشانہ بنایا گیا اور دشنام طرازیوں سے گالم گلوچ تک لوگ باز نہ آئے تو سید مودودیؒ کو کہنا پڑا کہ میں نے کسی کو گالی نہیں دی لیکن کھائی بہت ہیں۔ موجودہ دور اور ماضی کے ادوار میں ہمیں کچھ ایسے جلیل القدر اصحاب بھی نظر آتے ہیں جو سید مودودیؒ کے نظریات اور دینی بصیرت کے نہ صرف معترف تھے اور ہیں بلکہ اس کا اعلان بھی کرتے ہیں۔ مرحوم و مغفور میاں طفیل محمد سے تنظیم احرار کے بانی علامہ عطا اللہ شاہ بخاری نے فرمایا تھا کہ دین سیکھنا ہے تو لاہور والے سید کے پاس جائو ورنہ باقی تو سب پیٹ کا معاملہ ہے۔ موجودہ دور میں ایک بڑی دینی سیاسی جماعت نے سید مودودیؒ کے خلاف مواد اکھٹا کرنے اور اس کو کتابی شکل دینے کے لیے اپنے ایک منفرد اور دین پر دسترس رکھنے والے مفتی امتیاز صاحب کو لگایا کہ مولانا مودودی کی کتابوں سے ’’قابل اعتراض‘‘ مواد اکھٹا کریں تاکہ ٹھوس بنیادوں پر مولانا پر تنقید کی جا سکے مگر اللہ کا کرنا ایسا ہوا جوں جوں مولانا مفتی امتیاز سید کے لٹریچر کے بحر بے کراں میں غوطہ زن ہوتے گئے نقد دل ہارتے گئے اور پکار اٹھے کہ میں جس چیز کی تلاش میں تھا وہ تو سید مودودی کے لٹریچر میں بھرا پڑا ہے اب تو میں سید مودودی کا ہو کر رہا اور آج موصوف جماعت کے سرگرم رہنمائوں میں شامل ہیں۔
آخر سید مودودی نے اپنے لٹریچر میں ایسا کیا لکھ دیا کہ ہر طبقہ ان پر نشتر چلانے ہی کو دین کی سب سے بڑی خدمت سمجھ رہا ہے۔ یہ بھی غور طلب بات ہے کہ سید مودودی کا لٹریچر برصغیر سے باہر بھرپور انداز میں گزشتہ سو سال سے بھرپور پزیرائی حاصل کر رہا ہے اور عرب و عجم میں سے ان پر کسی قسم کی تنقید تو اس ناچیز کی نظر سے نہیں گزری بلکہ باہر کی یونیورسٹیوں میں سید مودودی کا لٹریچر
پڑھایا جا رہا ہے اور ان کی تفہیم القران جیسی مایہ ناز کاوش سے تو عجم سے زیادہ عرب کے لوگ زیادہ استفادہ کر رہے ہیں۔ گزشتہ سوا سو سال سے ہند و پاک میں سید مودودی پر تنقید کی کچھ وجوہات اس ناچیز کی سمجھ میں بھی آتی ہیں کہ سید مودودی نے اسلام پر اجارہ داری کا خمار اور نشہ توڑ دیا اور اسلام کو مدرسوں، خانقاہوں اور کتابوں سے نکال کر ہر مسلمان بلکہ غیرمسلم کے لیے بھی اس طرح کھول کر بیان کیا کہ بات دل میں اترے بغیر رہ نہیں سکتی۔ سید مودودی نے اسلام کے ترویج اور تبلیغ کا جو ڈھنگ اپنایا وہ بھی منفرد تھا کہ جماعت کے کارکنان اور اراکین جماعت کے فرائض میں شامل کر دیا کہ چھوٹے چھوٹے مضامین کو کتابی شکل دے کر مفت گھر گھر جا کر تقسیم کیا جائے اس سے گھر کا ہر فرد چھوٹا ہو کہ بڑا اس کو پڑھ کر اسلام کے بارے میں کچھ نہ کچھ جان لینے کے قابل ہو سکے پھر اس کا تجسس اس کو مجبور کرے کہ وہ دین کے بارے میں دیگر مسائل بھی سیکھ سکے اس طرح وہ درس قرآن میں آنا شروع کردیتا اور درس قرآن جو ہر علاقے میں ہوتا تھا جماعت کے لیے ہر لحاظ سے اکسیر ثابت ہوا اور عوام کی بڑی تعداد جماعت سے نہ صرف متعارف ہوتی چلی گئی بلکہ جماعت کے حق میں رائے بھی قائم کرتے رہے یہی وجہ ہے کہ کراچی جیسے عالمی سطح کے بڑے شہر کو ایک زمانے میں جماعت اسلامی کا شہر کہا جانے لگا۔ دینی حلقوں کو شایہ یہ بات بھی بری لگی ہو کہ جماعت اسلامی دین کے مسائل کو عام لوگوں تک کیوں پہنچا رہی ہے اس طرح معاشرے میں ان علمائے کرام مفتیان عظام کی دکانداری پرحرف آنے لگا ہو۔
متحدہ ہندوستان میں جب یہ بحث طول پکڑ گئی کہ کیا اسلام تلوار سے پھیلا ہے یا تبلیغ سے یا کردار سے ہر غیر مسلم یہی کہے جا رہا تھا کہ اسلام تلوار کے زور پر پھیلا اور مسلمانوں نے جو علاقے دنیا بھر میں فتح کیے وہاں کے باشندوں کو بزور شمشیر مسلمان کیا جاتا رہا۔ یہ تھا وہ بنیادی جھگڑا اور دعویٰ جس کو جھوٹ ثابت کرنے میں ہر مکتبہ فکر نے اپنا ایڑھی چوٹی کا زور لگا لیا مگر بات بن کر نہ دی۔ اس زمانے میں سید مودودیؒ الجمیعت اخبار کے ایڈیٹر ہوا کرتے تھے جب ہر طرف سے ہتھیار ڈال دیے گئے تو کسی نے مشورہ دیا کہ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی سے رابطہ کیا جائے جس پر مولانا نے وہ معرکہ آرا کتاب لکھ ڈالی کہ آج تک اس معیار کی کتاب اس موضوع پر دستیاب نہ ہو سکی اور وہ کتاب ’’الجہاد فی الاسلام‘‘ ہے اس کتاب کے منظر عام پر آنے کے بعد ہی طوفان بلاخیز تھم سکا۔ دوسری بات جو خاکسار کی سمجھ میں آتی ہے وہ یہ کہ جن اکابرین اور سرکاری و غیر سرکاری قوتوں نے اسلام کو ایک دائرے میں بند رکھنے کی پلاننگ کر رکھی تھی اور ہے وہ اس بات سے شاکی ہیں کہ مولانا مودودی نے اسلام کو ان کے مقرر کردہ دائرے سے باہر کیوں نکالا۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ ہم ہر جمعہ کو مختلف مکاتب فکر کی مساجد میں نماز پڑھتے رہے ہیں اور خطیب صاحب اپنے اپنے انداز میں زور خطابت دکھاتے رہتے ہیں مگر قسم کھا کر کہا جا سکتا ہے کہ کسی مسجد سے یہ جملہ نہیں سنا گیا کہ اے لوگو! تم بھی دین کا مطالعہ کرو اور فلاں فلاں کتب فلاں فلاں مسائل کے بارے میں ہمارے مدرسے سے دستیاب ہیں نہیں سنا گیا اگر تشنگی کہیں سے دور ہوئی تو وہ جماعت کی علاقائی لائبریریوں اور ترسیلات کتب و رسائل سے دور ہوئی یہی بنیادی فرق ہے جماعت کے انداز تبلیغ اور دیگر مکاتب فکر کے انداز تبلیغ کرنے کا۔
جو بات پہلے عرض کی جا چکی ہے کہ عجم سے زیادہ عرب میں سید مودودی کے لٹریچر کی پزیرائی ہوئی ہے شاید اس کی وجہ بھی یہی ہو کہ عرب دین اسلام کی تبلیغ اور ترویج کھلے انداز میں کرنا چاہتے ہیں کیونکہ وہ دین کو دین حق سمجھتے ہیں اور اس میں کسی قسم کی کھوٹ محسوس نہیں کرتے اس لیے اس کو دنیا کے سامنے پیش کرنے میں ذرا تردد کا مظاہرہ نہیں کرتے، لیکن برصغیر کے علما دین پر اپنی اجارہ داری قائم رکھنا چاہتے ہیں کہ ہر مسلمان ہر مسئلے پر ان کا مرہون منت رہے شاید اسی طرز عمل کو دیکھ کر یہ جملہ ایجاد کیا گیا کہ یہ تو دین کے ٹھیکیدار بنے ہوئے ہیں جو آج تک ہر سیکولر کا تکیہ کلام بنا ہوا ہے۔ مولانا مودودی پر اختلافات کا دروازہ ان کی معرکہ آراء کتاب ’’خلافت و ملوکیت‘‘ سے کھلتا ہے اس پر بڑی بحثوں کا مطالعہ کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا جا سکتا ہے کہ یہ اختلاف بڑھ کر رافضی اور ناصبی کی جنگ میں تبدیل ہو جاتا ہے اور مسئلہ جوں کا توں رہتا ہے یعنی یہ لاحاصل بحث کسی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ دیتی ہے۔ جماعت اسلامی پر حالیہ تنقید کا سرا شاید کورونا وائرس آنے کے بعد الخدمت نے جو مایہ ناز کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور سیکولرز اور ان کے ہم نوا مذہبی اسکالرز کو خدشہ ہونے لگا کہ کہیں جماعت اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل نہ کرلے اس لیے بے سروپا الزامات کا طوفان ہے جو سوشل میڈیا پر برپا کیا ہوا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ مولانا کے دفاع میں بہت سے نامور اکابرین بھی میدان میں اترے جن میں جسٹس (ر) ملک غلام علی صاحب جنہوں نے خلافت و ملوکیت پر اعتراضات کا ٹھوس اور مدلل جواب ایک پوری کتابی شکل میں دیا اور اسی طرح مولانا عامر عثمانی صاحب کی شہرہ آفاق کتاب تجلیات صحابہ قابل ذکر ہیں جس پر مولانا نے ان کی تعریف بھی کی تھی اگر یہ معترضین اپنے نظریات اور علم میں پکے ہوتے تو جواب کے طور پر مزید کتابیں لکھتے مگر انہوں نے ایک ایک ہی کتاب پر اپنی شکست تسلیم کر لی۔ مولانا نے شروع ہی میں فرما دیا تھا کہ اسلام ان زنخوں اور نامردوں کے لیے نہیں آیا جو دریائوں کے رخ پر بہنا جانتے ہیں اسلام ان جوانمرد بہادر لوگوں کے لیے اترا ہے جو دریائوں کا رخ موڑ دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔