حکومت کو کشمیر پر بزدلانہ اور معذرت خواہانہ پالیسی ترک کرنی ہوگی، سینیٹر سراج الحق

260

امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق کا کہنا ہے کہ حکومت کو کشمیر پر بزدلانہ اور معذرت خواہانہ پالیسی ترک کرکے جرات مندانہ پالیسی اپنا نا ہوگی،جب تک ہم اپنا مقدمہ پوری جرا ¿ت سے پیش نہیں کریں گے دنیا ہمارا ساتھ نہیں دے گی۔

آزاد کشمیر و گلگت بلتستان کے نومنتخب امیر ڈاکٹر خالد محمودکے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ ساٹھ سالہ شخص کی اس کے تین سالہ نواسے کے سامنے شہادت پر عالمی اداروں اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کیلئے شرم سے ڈوب مرنا چاہئے،کشمیر میں انسانیت کی تذلیل ہورہی ہے۔

انہوں نے کہاکہ بھارتی فوج معصوم کشمیر یوں کا قتل عام کررہی ہے،مگر ہماری حکومت ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم کے مصداق مجرمانہ خاموشی اختیا ر کئے بیٹھے ہیں،کشمیر میں ظلم و جبر کا جو بازار گرم ہے،اس پر عالمی اداروں کا آنکھیں بند کرکے بیٹھے رہنا ظالم کا ساتھ دینے کے مترادف ہے ۔

سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ کشمیر پاکستان کیلئے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے ،کشمیر کی آزادی کی جدوجہد کو تیز کرنا ہوگی،پانچ اگست 2019سے آج تک انڈین آرمی نے کشمیریوں کی تحریک آزادی کو کچلنے کیلئے ہر حربہ استعمال کر لیا،ریاستی حیثیت ختم کرنے کے ساتھ ساتھ ہزاروں نوجوانوں کو اٹھا کر بھارتی جیلوں اور عقوبت خانوں میں بند کردیااور گزشتہ گیارہ ماہ میں بھارتی فوج نے تین سو سے زیادہ معصوم نوجوانوں کوشہید کردیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عورتوں کو گھروں سے اٹھا کر ان کی عزتوں کو پامال کیا،لاکھوں کشمیر ی آزادی کیلئے جانوں کا نذرانہ پیش کرچکے ہیں اور پوری کشمیری قیادت جیلوں میں بند ہے لیکن ہماری حکومت عوام کے جذبات کو ٹھنڈا رکھنے کیلئے تقریروں اور بیانات سے آگے نہیں بڑھ سکی۔

انہوں نے کہا کہ 9ماہ سے کشمیر کمیٹی کا کوئی اجلاس نہیں ہوا،کشمیر کمیٹی کے چیئرمین تبدیل ہوتے رہتے ہیں مگر پالیسی وہی رہتی ہے کہ باتوں اور الفاظ سے آگے نہیں بڑھنا۔

سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ حکومت کی خارجہ پالیسی میں کشمیر کا کہیں ذکر نہیں،خارجہ پالیسی کی یہ بدترین ناکامی ہے کہ بھارت 192میں سے 186ووٹ لیکر سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن بن گیا،کیا پتہ ہمارے حکمرانوں نے بھی اپنا ووٹ بھارت کو دیدیا ہو۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو کشمیر پر بزدلانہ اور معذرت خواہانہ پالیسی ترک کرکے جرات مندانہ پالیسی اپنا نا ہوگی،جب تک ہم اپنا مقدمہ پوری جرا ¿ت سے پیش نہیں کریں گے دنیا ہمارا ساتھ نہیں دے گی۔