جسمانی حرکات و سکنات اور اُن کے مطالب

449

1) ہاتھ باندھنا یا ٹانگیں ایک دوسرے کے اوپر رکھنا: مخاطب کا آپ کی بات سنتے وقت ہاتھ باندھنا اور ٹانگ کے اوپر ایک ٹانگ رکھنا  یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ آپ کی باتوں سے متفق نہی ہے بھلے اُس کا انداز خوشگوار ہو   لیکن اُس کی جسمانی حرکات کچھ اور کہہ رہی ہیں۔

2) آنکھیں جھوٹ نہیں بول سکتیں: جب مسکرانے کی بات آتی ہے تو ہونٹ جھوٹ بول سکتے ہیں لیکن آنکھیں نہیں۔ حقیقی مسکراہٹیں آنکھوں سے ظاہر ہوتی ہیں۔ جب آپ کو جاننا ہو کہ سامنے والا شخص حقیقتاً مسکرا رہا ہے یا نہیں تو اُس کی آنکھوں کے کنارے دیکھیں۔ اگر ہنسنے کی وجہ سے اُس کی آنکھوں کے کناروں پر سلوٹیں یا شکنیں پڑ رہی ہیں تو ہنسی یا مسکراہٹ اصلی ہے۔

3) جسمانی حرکات کی نقل: کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ جب آپ کسی سے ملاقات کرتے ہیں تو بات کرتے وقت جب بھی آپ اپنی ٹانگیں ایک دوسرے کے اوپر کبھی رکھتے ہیں کبھی نہیں رکھتے تو  تو وہ بھی ایسا ہی کرتا ہے؟ یا جب آپ بات کرنے کے دوران اپنے سر کو جس پوزیشن میں رکھتے ہیں تو وہ بھی ایسے ہی کرتا ہے؟۔ یہ دراصل ایک اچھی علامت ہے۔ دوسرے کی جسمانی حرکات و سکنات کی  نقل کرنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ مخاطب اپنے ذہن کو آپ کے ساتھ ہم آہنگ کرچکا ہے۔ یہ ایک لاشعوری عمل ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ گفتگو اچھے رُخ پر جارہی ہے اور دوسرا فریق آپ کی بات سے متفق ہورہا ہے۔

4) جسمانی طرز و وضع: کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ ایک فرد کمرے میں داخل ہوا ہو اور فوری طور پر سمجھ گئے ہوں کہ یہی انچارج ہے۔ یہ دراصل اُس کی جسمانی طرز و وضع ہوتی ہے جس میں جسم سیدھا اور سینہ تھوڑا سا آگے اور کندھے پیچھے کی طرف ہوتے ہیں۔

5) نظریں ملانا: آپ نے اکثر یہ جملہ سنا ہوگا کہ جب بات کررہے ہو تو میری طرف دیکھ کر بات کرو۔ لوگوں کے ذہن میں عام طور پر یہ بات بیٹھی ہوئی ہے کہ کوئی شخص جب جھوٹ بول رہا ہوتا ہے تو وہ نظریں نہیں ملا پاتا۔ لیکن یہ چال اب پرآنہ ہوگئی ہے اور جھوٹے اس چال کو سمجھ گئے ہیں۔ اب لوگ نظریں ملا کر جھوٹ بولتے ہیں لیکن وہ نظریں اتنی دیر تک ملائے رکھتے ہیں سامنے والا شخص بے چینی محسوس کرنے لگ جاتا ہے۔ جب بھی کوئی شخص آپ سے بات کررہا ہو اور وہ ضرورت سے زیادہ آپ سے نظریں ملا رہا ہو تو سمجھ جائیں کہ وہ کچھ چھپا رہا ہے۔

6) بھنویں: بھنوویں اوپر چڑھنا خوف، حیرت اور پریشانی کی علامت ہے۔ اگر آپ کا مخاطب ایسی بات پر بھنویں چڑھا رہا ہے جو بظاہر آپ کے نزدیک پریشان کُن یا حیرت انگیز نہیں ہے تو سمجھ جائیں کہ دال مین کچھ کالا ہے۔

7) سر ہلانا: جب آپ کسی کو کچھ بتا رہے ہوں اور وہ ضرورت سے زیادہ سر ہلا رہا ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس بات پر فکرمند ہے کہ آپ اس کے بارے میں کیا سوچتے ہیں یا آپ کو اس کی ہدایت پر عمل کرنے کی صلاحیت پر شک ہے۔

8) الفاظ چبا چبا کر ادا کرنا: جبڑوں کا بند ہونا یعنی الفاظ کو چبا چبا کر ادا کرنا، اکڑی گردن اور بھنووں کا سیدھا ہونا اس بات کی علامت ہے کہ وہ شخص کسی ذہنی دباؤ میں ہے بھلے وہ آپ سے خوشگوار لہجے میں گفتگو کرنے کی کوشش کررہا ہو لیکن اُس کے چہرے پر آپ بےچینی کے آثار دیکھ سکیں گے۔