آئی ایم ایف کی طرف سے خطرے کا ایک اور الارم

440

عالمی مالیاتی ادارہ آئی ایم ایف ان اداروں میں شامل ہے جو کورونا بحران کے تباہ کن نتائج اور اثرات کے حوالے سے مسلسل خطرات کی گھنٹیاں بجا رہے ہیں۔ یہ ادارے دنیا کو بتا رہے ہیں کہ کورونا کا گھن عالمی معیشت کو چاٹ رہا ہے اور اس کے اثرات ابھی تو پوری طرح ظاہر نہیں ہوئے مگر آنے والے دنوں میں پوری طرح عیاں ہو کر رہیں گے۔ آئی ایم ایف کی تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کورونا کے باعث عالمی معیشت کو گزشتہ سو سال میں اپنی نوعیت کے سنگین ترین بحران کا سامنا ہے۔ کورونا کے باعث دنیا کی جی ڈی پی مجموعی طور پر 4.9فی صد سکڑ گئی ہے اور اگلے دوسال میں دنیا کی دولت سے بار ہزار ارب ڈالر نکل جائیں گے۔ معیشت کی بحالی کے حوالے سے حالات موافق نہیں اور کئی ملکوں کو کساد بازاری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ امریکا، جرمنی جاپان جیسی معیشتیں اس جھٹکے سے متاثر ہوں گی۔ آئی ایم ایف نے پاکستان میں شرح نمو منفی میں جانے کی پیش گوئی کر رکھی ہے۔ یعنی اگلے برس پاکستان میں شرح ترقی 0.4فی صد رہے گی اور ظاہر ہے کہ اس کے منفی اثرات عام آدمی کی زندگی پر پڑیں گے۔ کورونا بحران کی لہر ابھی تک مسلسل اوپر جا رہی ہے یہی وجہ ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو دوبار لاک ڈاون کی طرف جانا پڑا۔ لاک ڈائون کا مطلب بیماری کی لہر میں رکاوٹ اور بھائو میں کمی تو ہے وہیں اس کا عام آدمی کے لیے مفہوم ومعانی مسائل ہی مسائل ہے۔ لاک ڈائون سے زندگی کی نبض رک جاتی ہے اور نبض زندگی روکنے کا دبائو بھی عام آدمی پر ہی پڑتا ہے۔
کورونا نے زندگی کے کاروبارکو سمیٹ دیا ہے۔ رنگ ونور کی برسات کو ویرانی کی لُو کے گرم تھپیڑوں میں بدل دیا ہے اور کورونا وائرس نے آج کے انسان کو لمحوں میں ایک اجنبی اور غیر مانوس جزیرے میں لاکھڑ ا کیا ہے جہاں انسان اپنا پتا اور راستہ بابا بلھے شاہ کی زبان میں ’’بلھیا کیہہ جانڑاں میں کونڑ‘‘ کے انداز میں پوچھتا پھر رہا ہے۔ دنیا کا یہ رخ اور رنگ تو حضرت انسان نے جنگوں اور آفات ہی میں دیکھا ہوگا مگر ماضی قریب میں اس عالمی ویرانی اور اداسی کی مثال نہیں ملتی۔ ابھی چند ماہ قبل تک جو دنیا گلوبل ویلیج تھی جس میں باوسیلہ انسان مشرق سے مغرب تک لمحوں میں ڈالی ڈالی نگرنگر پھرتے تھے۔ ہوائوں میں سمندروں میں زمین پر یہ سفر جاری رہتا تھا۔ اب یہی گلوبل ویلیج انسانوں کی گلوبل جیل میں بدل چکی ہے۔ جس میں ہر انسان ایک قیدی ہے۔ کوئی رضارکارانہ قید اختیار کیے ہوئے تو کوئی حکومتوں کے دبائو کے باعث قید کاٹنے پر مجبور ہو رہا ہے۔ اس عالم کا کبھی تصور کیا گیا نہ اس کی تصویر دیکھی گئی۔ شاہراہِ حیات پر دنیا کی دھواں اُڑاتی اور فراٹے بھرتی ٹرین کو اس اسپیڈ بریکر سے پالا پڑا ہے جو پہلے دیکھا نہ سنا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا اس صورت حال کے بارے میں کوئی ٹھوس اور منجمد پالیسی اپنانے سے قاصر ہے۔ ہنگامی بنیادوں پر پالیسیاں بن رہی ہیں جہاں یہ پالیسیاں کارگر بھی ہوتی ہیں وہاں کورونا کے واپس لوٹ آنے کا امکان ختم نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وائرس کا مستقل علاج پوری طرح دریافت نہیں ہوا اور اب تک سارا زور حفاظتی اقدامات پر ہے۔
کورونا سے دنیا کا نقشہ بدل رہا ہے۔ ناز وانداز بدل رہا ہے، رسوم ورواج بدل رہا ہے۔ تہذیب وثقافت بدل رہا ہے۔ اب برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے یہ سوال بھی اُٹھایا ہے کہ کیا کورونا وائرس کے باعث مذاہب میں بھی تبدیلیاں آئیں گی؟۔ بہرحال آنے والے دنوں میں کیا ہوتا ہے مگر کورونا کی وبا نے دنیا میں برتائو کے انداز میں تبدیلی کی بنیاد رکھ دی ہے۔ اب دنیا کو یہ انداز ہ ہورہا ہے کہ ہر وہ شے ناگزیر نہیں جسے انسان نے ناگزیر بنا دیا تھا۔ دنیا ان ناگزیر روایات اور رسوم ورواج کے باوجود بھی زندہ اور برقرار رہ سکتی ہے۔ اس ساری صورت حال میں لوگوں کو خود کو آنے والے حالات سے ہم آہنگ کرنا ہوگا۔ کورونا اور اس کے باعث پیدا ہونے والے حقائق کو سمجھنے سے انکار نے ہی حکومتوں کو لاک ڈائون پر مجبور کیا ہے۔ کورونا کی چڑیل جانے کب انسانوں کی جان چھوڑے گی مگر عوام اپنے رویوں میں تبدیلی پیدا کرکے لاک ڈائون کے عذاب سے جان چھڑ سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی ادارہ صحت اور آئی ایم ایف کی طرف سے بجائے جانے والے خطرے کے الارم کو پیش نظر رکھتے ہوئے کورونا سے بچائو کی تدابیر اور معیشت کو سنبھالا دینے کو ترجیح اول بنائے رکھنا ہوگا۔ اسی میں عوام اور ریاست دونوں کا بھلا ہے۔