وفاقی وزیر ہوا بازی کو عہدے سے ہٹانے کی درخواست خارج

392

اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزیر ہوا بازی غلام سرور کو عہدے سے ہٹانے کی درخواست پر 8 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کردیا۔

تفصیلات کے مطابق فیصلہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہرمن اللہ نے جاری کیا۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ وفاقی وزیر کے بیان سے ملک کا نقصان ہوا تو ایکشن لینا وزیراعظم کا اختیار ہے اور عدالت وفاقی وزیر کے احتساب کے آئینی طریقہ کار میں مداخلت سے پرہیزکر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز طارق اسد ایڈووکیٹ نے وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔ جس میں وفاقی وزیر کو کام سے روکنے استدعا کی گئی تھی۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ وفاقی وزیر نے بغیر انکوائری کے 262 پائلٹس کے جعلی لائسنس کا الزام عاید کیا ہے، غلام سرور خان نے قومی اسمبلی سے خطاب میں کہا کہ پا کستان میں 30 فیصد سویلین پائلٹس کے لائسنس جعلی ہیں۔

درخواست میں استدعا کی گئی کہ معاملے کی انکوائری کے لیے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے اور وزیراعظم کو غلام سرور خان کو کابینہ سے ہٹانے کا حکم دیا جائے۔

وفاقی وزیر غلام سرور کو کام سے روکنے کیلیے متفرق درخواست بھی دائر کی گئی ہے درخواست میں سیکرٹری ایوی ایشن کے ذریعے وفاق جبکہ پرنسپل سیکرٹری کے ذریعے وزیراعظم، اسپیکر قومی اسمبلی، الیکشن کمیشن، غلام سرور خان اور سول ایوی ایشن اتھارٹی کو فریق بنایا گیا۔

درخواست میں استدعا کی گئی کہ وفاقی وزیر کو نااہل قرار دے کر قومی اسمبلی کی رکنیت منسوخ کی جائے۔