عافیہ کے لیے کون سی زنجیر عدل ہلائی جائے ؟

316

سندھ ہائی کورٹ میں عافیہ صدیقی کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی طرف سے دائر کر دہ پٹیشن کو اس بنیاد پر فارغ کردیا گیا ہے کہ یہ عالمی معاملہ ہے عدالت اس میں کچھ نہیں کرسکتی۔ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے اپنی پٹیشن میں استدعا کی تھی کہ حکومت، وزارت خارجہ اور متعلقہ ادارے عافیہ صدیقی کی صحت و سلامتی، اس کے بنیادی انسانی حقوق اور اس کے خاندان تک رسائی کے حوالے سے اپنا کردار ادا نہیں کر رہے جبکہ اس وقت دنیا بھر کی طرح امریکی جیلوں میں بھی کورونا وائرس کے پھیل جانے اور اس کی وجہ سے ہونے والی اموات کی خبروں کی وجہ سے عافیہ صدیقی کی زندگی کو خطرات لاحق ہیں۔
متعلقہ پٹیشن میں عدالت سے یہ استدعا نہیں کی گئی تھی کہ وہ امریکی یا عالمی اداروں کو کوئی حکم صادر فرمائے بلکہ اپنے ملک کی حکومت اور اداروں کو اپنی نسل در نسل اور پیدائشی شہری کے حقوق کے حصول کے لیے اپنا فرض اور کردار ادا کرنے کے لیے حکم صادر کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔ بالکل اسی نوعیت کی ایک پٹیشن سابق چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار کی عدالت میں داخل کی گئی تھی جس کی ان کے چیمبر میں سماعت بھی ہوتی رہی، اس پٹیشن کے ایک حصے میں عافیہ صدیقی کے ساتھ اس کے خاندان کے عرصہ دراز سے عدم رابطہ اور عافیہ کی موت کی افواہوں سے پیدا ہونے والے ابہام اور پریشانی کے ازالہ کے لیے عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ وہ عافیہ کی زندگی یا موت کے حوالے سے معلومات فراہم کرنے کے لیے حکومت پاکستان کو حکم صادر فرمائے، جس پر چیف جسٹس جناب ثاقب نثار نے حکومت کو حکم دیا کہ وہ اس کی رپورٹ عدالت عالیہ میں داخل کروائے۔ اس عدالتی حکم پر عملدرآمد کرتے ہوئے حکومت کی جانب سے امریکا میں تعینات اس وقت کی پاکستانی کونسل جنرل عائشہ فاروقی نے عافیہ صدیقی سے امریکی جیل میں ملاقات کی اس ملاقات کی تفصیل اور اس کے ساتھ ہونے والے غیر انسانی سلوک کی رپورٹ عدالت عالیہ میں جمع کروادی تھی۔ بعد ازاں اس پٹیشن کو عدالت کے جنرل سیشن میں سماعت کے لیے فکس کر دیا گیا جس میں اس پٹیشن کو یہ موقف اختیار کر کے نمٹا دیا گیا کہ عافیہ کے زندہ ہونے کی تصدیق ہوچکی ہے جبکہ پٹیشن کے دوسرے حصے جس میں عافیہ صدیقی کی رہائی، خاندان سے رابطہ اور اس کے بنیادی انسانی حقوق کے حصول کے لیے پاکستانی حکومت کو کردار ادا کرنے کی استدعا کی گئی تھی کو نظر انداز کرتے ہوئے قرار دیا گیا کہ امریکا پاکستانی عدالتوں کے ماتحت نہیں ہے لہٰذا عدالت عظمیٰ امریکا یا امریکی اداروں کو عافیہ کی رہائی کا حکم صادر کرنے کا اختیار نہیں رکھتی حالانکہ اس پٹیشن میں بھی عدالت سے کسی عالمی حکومت یا ادارے کے بجائے پاکستانی حکومت اور متعلقہ اداروں کو اپنا کردار ادا کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔
پاکستان کی بے گناہ بیٹی عافیہ صدیقی کے پاکستان سے اغواء ہونے اور پھر اس کی افغانستان میں موجودگی کی خبروں سے لے کر امریکی عدالت میں مقدمہ کی سماعت اور سزا کے عمل کو گزرے سترہ سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عافیہ خاندان پر ان ماہ و سال میں جو قیامت گزری ہے اس کا درد کوئی محسوس کرسکتا ہے؟ ملک کی ہر سطح کی عدالتوں کا ادب و احترام ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے یہ سوال بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ اگر عدالتوں کے ذریعے حکومتوں کو پابند بناکر عافیہ صدیقی کے لیے ریلیف کا حصول ممکن نہیں ہوسکتا تو پھر کس ادارے کی زنجیر عدل ہلائی جائے؟ ہماری اعلیٰ عدالتوں میں دونوں مرتبہ عافیہ صدیقی تک رسائی، حقوق کے حصول اور رہائی کے لیے دائر پٹیشنوں پر فائنڈنگز ادھوری یا ’’سوال گندم جواب چنا‘‘ کے مترادف آنا بھی افسوسناک امر ہے ایسے فیصلوں سے عدلیہ کا وقار اور ان پر عوام کا اعتماد کیسے قائم رہ سکے گا اور جب حق کے حصول کے سارے در بند ہوجائیں گے تو افراد یا عوام الناس میں پیدا ہونے والی فرسٹریشن کا ذمے دار کون ہو گا؟
ہمارا سوال ہے کہ ہماری حکومت عالمی قوانین کے مطابق اپنی ایک شہری عافیہ صدیقی اور اس کے گھر والوں کے درمیان روابط کروانے اور ریلیف دلوا نے پر قادر نہیں ہے تو باقی عالمی قوانین پر عملدرآمد کی پابند کیوں ہے؟ ہمارے لیے باعث شرم ہے کہ عافیہ صدیقی اغواء کیس کا ایک اہم مہرہ شاہ محمود قریشی جو اس وقت وزیرخارجہ تھا اور اب بھی ہے کا خاندان برصغیر کے مسلمانوں کا غدار اور انگریزوں کا انعام یافتہ تو تھا ہی وطن کی ماہر تعلیم اور بے گناہ بیٹی عافیہ صدیقی کو امریکا کے حوالے کرنے کے بعد قومی مجرم اور بیٹی فروش ہونے کا اعزاز بھی اپنے نام کرچکا ہے۔ ہمارا حکومت وقت سے سوال ہے کہ کیا پاکستان میں پیدا ہونا اور اپنے انقلابی تعلیمی نظام مرتب کرکے اپنے ملک کو عروج دلانے کا خواب دیکھنا عافیہ صدیقی کا ناقابل معافی جرم ہے؟ ہم اپنی حکومت اور عالمی ضمیر سے سوال کرتے ہیں کہ عافیہ صدیقی کو جس ناکردہ گناہ کی بیہودہ سزا دی گئی ہے کیا اس کی والدہ اور بچے بھی اس کے شریک جرم ہیں؟ کیا ان کا حق نہیں ہے کہ ایک والدہ اپنی بیٹی، ایک بہن اپنی بہن اور شفقت سے محروم بچے اپنی ماں سے بات اور ملاقات کرسکیں؟ ہمارا سوال ہے کہ بیرون ملک قید ایک پاکستانی شہری کے بنیادی حقوق کی پامالی کا مداوا آخر کون کروائے گا؟ اور جب حکومت وقت اپنا کردار ادا نہ کررہی ہو تو پھر عدلیہ ہی کا دروازہ کھٹکھٹایا جائے گا۔ ہم یہ بھی سمجھنے میں حق بجانب ہیں کہ عافیہ کی زندگی اور رہائی میں رکاوٹ بننے والے حکومت میں شامل بعض بااثر شخصیات کو عافیہ کی زندہ سلامت وطن واپسی سے اپنے مکروہ چہروں سے نقاب اترنے کا ڈر ہے جس کی وجہ سے یہ طبقہ مجرمانہ کردار ادا کررہا ہے۔ اس معاملے میں سب سے زیادہ شرمناک کردار وزیراعظم عمران خان کا ہے جو عافیہ رہائی کا دعویٰ لے کر اقتدار کے سنگھاسن تک پہنچے ہیں اب لامحدود مدت کے لیے چپ کا روزہ رکھے ہوئے ہیں۔ ایک بات کا ہمیں یقین ہے کہ وطن کی بے گناہ بیٹی عافیہ صدیقی ایک دن سرخرو ہو کر امریکی قید سے رہا ہونے کے بعد اپنے وطن اپنے خاندان اور اپنے بچوں میں موجود ہوگی جبکہ اسے اور اس کے خاندان کو عذاب میں مبتلا کرنے والے سب مہرے رسوا ہوں گے۔