چین بھارتی سرحد پر ایم ایم اے فائٹرز تعینات کرے گا

720

بیجنگ: چین اور بھارت کے درمیان جاری کشیدگی کے بعد چین نے تبت میں اور لداخ میں انتہائی ماہر پیشہ ورلڑاکا فوج سمیت ایم ایم اے فائٹرز پر مشتمل فوجی نفری میں اضافہ کردیا۔

چینی ذرائع ابلاغ کے مطابق چینی حکومت نے بھارت کی سرحد کے ساتھ بعض حساس علاقوں میں پہاڑوں پر چڑھنے میں مہارت رکھنے اور پیشہ ور لڑاکا فوجیوں اور ایم ایم اے فائٹرز کو تعینات کردیا ہے ۔

اس سے قبل لداخ میں بھارت اور چینی فوج کے درمیان جھرپ میں کم ازکم 20 بھارتی فوجی ہلاک ہوئے تھے جبکہ چین نے بعض سرحدی علاقوں پر قبضہ کرلیا تھا۔

بھارت کی سرحد کے ساتھ چین نے  اینبو فائٹ کلب کے 20 ایم ایم ے فائٹرز کو پلاٹو مزاحمتی میسٹیفس کو تعینات کیا ہے  یہ کلب جنگجو تیار کرنے کیلئے جانا جاتا ہے جو اس کے بعد یو ایف سی (الٹی میٹ فائٹنگ چیمپین شپ) جیسے مشہور مقابلوں میں حصہ لیتے ہیں ۔چین کی جانب سے اس بارے میں کوئی سرکاری وجہ نہیں بتائی گئی ہے کہ فیصلہ کیوں لیا گیا ہے۔

البتہ تجزیہ کاروں کا کہنا ہےکہ چین اور بھارت کے درمیان 1996 میں دستخط کیے گئے معاہدے کے تحت کسی بھی فریق کو علاقے میں بندوق یا دھماکہ خیز مواد لے جانے کی اجازت نہیں ہے۔ایم ایم اے فائٹرز کو تعینات کرنے کااعلان ایسے وقت کیا گیا ہے جب  ہمالیہ کی سرحد پر چین اور بھارت کے شدید تناؤ ہے۔

چین اور بھارت کے درمیان تنازعہ تبت ، لداخ ، گلوان اور اکسائی چن کی معاملے پر ہے جو ایک متنازعہ علاقہ ہے جس کا دعوی بھارت نے کیا ہے لیکن چین کے زیر کنٹرول ہے۔

واضح رہے کہ 1963 میں چین بھارت جنگ کے بعد ان علاقوں میں فوجیوں کی ہلاکتیں پہلی دیکھنے میں آئی ہیں۔

چین کی جانب سے  اس اقدام کا مقصد سرحدی گشت کرنے والےاور خصوصی دستوں کو ہاتھ سے لڑنے والی تربیت میں مدد فراہم کرے۔پی ایل اے ڈیلی کا کہنا ہے پلاٹو مزاحمتی میسٹیفس میں  بھرتی ہونے والوں میں مواصلاتی ٹیکنالوجی، کوہ پیمائی اور کان کنی میں مہارت رکھنے والے شہری بھی شامل ہیں۔