کوڑ کلیاں اور شہتیر

375

 

 

پنجابی کے محاورے بڑے دلچسپ ہوتے ہیں مثلاً یہ محاورہ ’’ذات دی کوڑ کلی تے شہتیراں نوں جھپے‘‘۔ یعنی چھپکلی کی ذات ہی کیا مگر وہ شہتروں سے لپٹ جاتی ہے۔ محاورہ ہمیں اچھا لگتا ہے اس کا کوئی تعلق سیاست یا کسی فرد سے نہیں۔
حکومت پنجاب کے ترجمان جناب فیاض الحسن چوہان بڑی باکمال شخصیت ہیں، اہل پنجاب کے صحیح ترجمان۔ وہ جس زبان میں بات کرتے ہیں اس کی گونج گوالمنڈی، لکشمی چوک سے راولپنڈی کے تیلی محلے تک سنائی دیتی ہے۔ کھلاڑی داد دیتے ہیں کہ واہ کیا منہ توڑ جواب دیا ہے۔ حزب اقتدار اپنے حریفوں سے لے کر بھارت تک سب کو منہ توڑ جواب دے رہی ہے، شرط یہ ہے کہ منہ نظر آئے تو توڑا جائے۔ جناب فیاض الحسن چوہان نے اپنی وزارت اطلاعات کے سابقہ دور میں ہندوئوں کے بارے میں کہا تھا کہ وہ گائے کا پیشاب پیتے ہیں۔ بات غلط تو نہیں تھی۔ بھارتی ٹی وی چینل پر ایک پنڈت جی کورونا کا علاج گائے کا پیشاب قرار دے رہے تھے اور پیشاب سے بھرا ہوا گلاس دکھا کر سب کے سامنے پی کر دکھایا۔ چوہان صاحب سچ بولنے پر وزارت سے نکالے گئے۔ چند دن بعد پھر واپس آگئے۔ ان کے جانشین ڈھیلے شخص تھے، اہل پنجاب کے مزاج کے مطابق نہیں تھے۔ چنانچہ مخالفین کو عمرانی انداز میں جواب دینے کے لیے چوہان کو پھر واپس لایا گیا۔
گائے کے پیشاب سے عقیدت ہندوئوں کے دھرم کا حصہ ہے، اس میں کوئی جھوٹ نہیں ہے۔ ہم ایک بار دہلی گئے تو جامع مسجد کے قریب ایک ہوٹل دیکھا جس پر لکھا تھا کہ یہاں ’’بھوجن کو گائو متر سے شدھ پوتر کیا جاتا ہے‘‘۔ یعنی کھانے کو گائے کے پیشاب سے پاک کیا جاتا ہے۔ مٹھائی کی دکانوں پر گائے کے پیشاب کا چھڑکائو کیا جاتا ہے۔ البتہ کوئی مسلمان کھانے کی کسی چیز کو ہاتھ لگا لے تو وہ ناپاک ہو جاتی ہے۔ اسٹیشنوں پر ہندو پانی اور مسلم پانی الگ الگ بکتا ہے۔ چائے مٹی کے کلھڑ میں دی جاتی ہے جسے توڑ دیا جاتا ہے۔ بازاروں میں چاٹ وغیرہ پتوں پر رکھ کر دی جاتی ہے تاکہ برتن ناپاک نہ ہوں۔ ایک بار ہم نے بھٹنڈہ کے جنکشن پر عادت کے مطابق پوریوں سے بھرے تھال میں سے ایک پوری اٹھا لی تو اودھم مچ گیا کہ ساری پوریوں کی قیمت ادا کرو کیونکہ ہمارا ہاتھ لگنے سے وہ سب ناپاک ہو گئی تھیں۔ بڑی مشکل سے جان چھڑائی۔
یہ تو گائے کے پیشاب کی بات ہے جس کا لیپ رسوئی میں بھی کرنا ضروری سمجھا جاتا ہے لیکن بھارت کے ایک وزیراعظم من موہن ڈیسائی اپنا پیشاب پیتے تھے اور اس کو صحت افزا قرار دیتے تھے۔ بھارت سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب نے بتایا کہ کالج کے لڑکوں نے پیشاب خانے پر ’’ڈیسائی کولا‘‘ لکھ دیا تھا۔ پاکستان میں آباد ہندو گائے کے پیشاب کو مقدس نہیں جانتے ہوں گے۔ اس لیے انہوں نے فیاض الحسن چوہان کے انکشاف پر احتجاج کیا جس پر انہیں پنجاب کی وزارت اطلاعات سے عارضی طور پر ہٹا دیا گیا۔
جناب فیاض الحسن چوہان نے صوبائی وزیر ہوتے ہوئے مرکزی وزیر فواد چودھری سے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔ فواد چودھری ایک شہتیر ہیں، مناسب تھا کہ کوئی وفاقی وزیر ان سے استعفے کا مطالبہ کرتا۔ ان کا جواب آگیا ہے کہ ’’وزیراعظم کے اعتماد تک وزیر رہوں گا، سیاست کمزور دل افراد کا کھیل نہیں‘‘۔ صحیح فرمایا، سیاست تو اب کرکٹ کا کھیل ہے جس میں، عمران خان کے بقول ’’ریلو کٹے‘‘ کھیل رہے ہیں۔ عمران خان ہی نے اس کی تشریح کی تھی کہ یہ وہ لوگ ہیں جو وکٹ کے دونوں طرف کھیلتے ہیں۔ وزیراعظم ذرا گرائونڈ پر نظر تو ڈالیں کہ ان کی ٹیم میں کون کون سے ریلوے کٹے ہیں۔ ویسے تو عمران خان بھی وکٹ کے دونوں طرف کھیل رہے ہیں جسے وہ یوٹرن کہتے ہیں۔
فواد چودھری نے چاند دیکھتے دیکھتے نیا چاند چڑھا دیا ہے اور انہیں تحریک انصاف کی حکومت گہن میں نظر آرہی ہے۔ ان کے انکشافات اور اندرونی کہانیاں منظر عام پر لانے کے بعد کئی وزرا بھی اس کورونا سے بچنے کے لیے ہاتھ دھو کر پیچھے پڑ گئے ہیں۔ جہانگیر ترین تو پتلی گلی سے نکل لیے۔ وہ بھی علاج کرانے گئے ہیں لیکن ان سے کسی نے میڈیکل رپورٹس طلب نہین کیں۔ عمران خان اعتراف کر رہے ہیں کہ نواز شریف انہیں بے وقوف بنا گئے۔ لیکن اس عمل میں عمران خان کے شوکت خانم اسپتال کے ڈاکٹروں کا بھی اہم کردار تھا جن کی رپورٹیں دیکھ کر خان صاحب مطمئن ہو گئے تھے۔ لیکن عمران خان کو پلیٹ لٹس کہنا نہ آیا حالانکہ وہ ایک بڑا اسپتال چلا رہے ہیں۔
بہرحال، فواد چودھری کی حق گوئی اور استقامت قابل تعریف ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ اس وقت عمران خان کے برابر کا کوئی نہیں ہے۔ اگر بات قد کی ہے تو جنرل قمر جاوید باجوہ زیادہ قد آور ہیں۔ فواد چودھری، اسد عمر، جہانگیر ترین اور شاہ محمود قریشی پر پارٹی میں انتشار اور افتراق کے الزام لگانے کے بعد کہتے ہیں کہ وہ تو میرے بھائی ہیں۔ پتا نہیں یہ کس نے کہا تھا ’’بھاگ ان چینی فروشوں سے، کہاں کے بھائی‘‘۔
اس اکھاڑ پچھاڑ میں ایک چیز بہت واضح ہے کہ محترمہ زر تاج گل کی نوکری پکی ہے۔ عمران خان بلاول زرداری کا ایک جملہ پکڑے بیٹھے ہیں کہ ’’بارش آئے گا تو پانی آئے گا، جب زیادہ بارش آئے گا تو زیادہ پانی آئے گا‘‘۔ لیکن عمران خان اپنے فرمودات اور مضحکہ خیز انکشافات بھول جاتے ہیں۔ دوسری جنگ عظیم میں ایک دوسرے کا ساتھ دینے والے ممالک کو حریف بنا دیا اور ان کی سرحدیں بھی ملا دیں۔ درخت رات کو آکسیجن چھوڑتے ہیں، پاکستان کی سرزمین ایران کے خلاف استعمال ہو رہی ہے، مودی کی کامیابی سے کشمیر کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔ اور اب اسامہ بن لادن کو شہید کہنا۔ ان کے درباری ان سب باتوں کو زبان کی لغزش قرار دے کر مٹی ڈال دیتے ہیں لیکن دوسروں کو یہ حق نہیں دیتے۔ زبان پھسلتی ہے تو قدم بھی پھسل جاتے ہیں۔ زبان کی حفاظت کا حکم دیا گیا ہے۔
یہی بہانہ زرتاج گل نے بھی اپنا لیا ہے۔ کوود۔19 کی نرالی تشریح پر جب ہر طرف سے یلغار ہوئی تو فرمایا کہ میں اتنی جگہ بولتی ہوں، زبان پھسل ہی جاتی ہے۔ تو اتنا زیادہ نہ بولا کریں، خاص طور پر ٹی وی یا مجمع میں۔ کمرے کے دروازے بند کر کے یہ شوق پورا کر لیا کریں۔ ہم نے جو ان کی نوکری پکی ہونے کی بات کی ہے تو یونہی نہیں کی۔ محترمہ کا ارشاد تھا کہ ’’اس بار پاکستان میں جو اتنی زیادہ بارشیں اور برفباری ہوئی ہے تو اس کا کریڈٹ عمران خان کو جاتا ہے‘‘۔ مزید فرمایا کہ ہمارے وزیراعظم کی کیا بات ہے۔ جس انداز سے وہ چل کر آتے ہیں اور ہونٹوں پر ’قاتل مسکراہٹ‘ ہوتی ہے اسے دیکھ کر ہم ساری پریشانیاں بھول جاتے ہیں‘‘۔ زرتاج گل کی وفاقی وزارت پکی۔ گزشتہ جمعرات کو عمران خان اسی انداز سے چلتے ہوئے قومی اسمبلی میں آئے کہ ’’کس شیر کی آمد ہے کہ رن ہانپ رہی ہے‘‘۔
نوکری تو محترمہ عندلیب عباس کی بھی پکی ہے۔ ہم نے انہیں ٹی وی پر ہی دیکھا ہے، راہ میں ہم ملیں کہاں، بزم میں وہ بلائے کیوں۔ اور اچھا ہی ہے۔ جب سے انہیں دیکھا ہے ہم نے اپنے صحن کے درخت سے بلبلوں کو پتھر مار مار کر اڑا دیا ہے۔ یہ بلبل ہزار داستاں ہی کافی ہے۔