سید منور حسن سپرد خاک‘ نماز جنازہ میں ہزاروں افراد کی شرکت

852
کراچی:سابق امیر جماعت اسلامی سید منورحسن کی نماز جنازہ امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق کی امامت میں ادا کی جارہی ہے

کراچی ( اسٹاف رپورٹر)جماعت اسلامی پاکستان کے سابق امیر سید منورحسنؒ کو ہفتے کے روزافسردہ و غمگین چہروں، اشک بار آنکھوں اور ہزاروں سوگواروںکی موجودگی میں سخی حسن قبرستان میں پروفیسر غفور احمد مرحوم کے قریب سپردخاک کردیا گیا ۔نماز جنازہ جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سینیٹر سراج الحق کی امامت میں عید گاہ گراؤنڈ ناظم آباد میں ادا کی گئی جس میں جماعت اسلامی کے مرکزی قائدین ،دینی وسیاسی جماعتوں کے رہنما مختلف شعبہ زندگی سے وابستہ افراد ،جماعت اسلامی کے کارکنوں اور سید منورحسن سے محبت وتعلق رکھنے والے ہزاروں افرادنے شرکت کی اور مرحوم کی دینی وسیاسی ،سماجی ،تنظیمی ،تحریکی وعلمی خدمات پر خراج تحسین پیش کیا۔نماز جنازہ کے سلسلے میں عیدگاہ گراؤنڈ میں بڑے پیمانے پر انتظامات کیے گئے تھے۔دھوپ سے بچاؤ کے لیے شامیانہ لگایاگیا تھا اور داخلی راستوں پر اسپرے کیے جانے کے ساتھ سینی ٹائرز بھی فراہم جارہا تھا اور شرکا نے ماسک بھی استعمال کیے ۔عید گاہ گراؤنڈ کے اطراف میں ٹریفک پولیس اور پولیس اہلکاروں کے ساتھ ساتھ الخدمت کے رضاکار بھی ٹریفک کنٹرول کرنے میں مصروف تھے۔نماز جنازہ کے اس بڑے اور پروقار اجتماع سے سینیٹر سراج الحق ، امیرکراچی حافظ نعیم الرحمن،اور نائب امیرکراچی ڈاکٹر اسامہ رضی نے بھی خطاب کیا ۔نماز جنازہ میں منورحسن کے صاحبزادے سید طلحہ حسن،مرکزی نائب امرا پروفیسر محمد ابراہیم،لیاقت بلوچ،راشد نسیم،اسد اللہ بھٹو،ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی،سیکرٹری جنرل امیر العظیم ،جامعہ بنوریہ کے مہتمم مفتی محمدنعیم مرحوم کے صاحبزادے مفتی نعمان ،مسلم لیگ ن کے نہال ہاشمی ،خواجہ طارق نذیر،ایم کیو ایم کے عامر خان، پی ایس پی کے ارشد وُہرہ ، ایم کیو ایم حقیقی کے آفاق احمد ،جے یوپی کے قاضی احمد نورانی ،جے یو آئی (س)کے حافظ احمد علی ،ڈپٹی سیکرٹری جنرل محمد اصغر،رکن قومی اسمبلی مولانا عبد الاکبر چترالی،رکن آزاد کشمیر اسمبلی عبد الرشید ترابی،شیخ القرآن والحدیث مولانا عبد المالک ،نائب امرا صوبہ سندھ عبد الغفار عمر،ممتاز سہتو،جماعت اسلامی آزاد جموں و کشمیر کے امیر ڈاکٹر خالد محمود، جے یو آئی (ف)کے قاری محمد عثمان ،مولانا غیاث،مولانا عمرصادق،مولانا عبد الکریم عابد،جماعت الدعوۃ کے قاری محمد یعقوب شیخ، حافظ محمد امجد ،این ایل ایف پاکستان کے صدر شمس الرحمن سواتی،اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظم اعلیٰ حمزہ صدیقی ،سید منورحسن کے قریبی دوست سعید عثمانی، جماعت اسلامی وسطی پنجاب کے امیر جاوید قصوری،جماعت اسلامی جنوبی پنجاب کے امیر ڈاکٹر طارق سلیم ،خیبر پختونخوا کے رکن اسمبلی عنایت الرحمن ،صوبائی سیکرٹری سندھ کاشف شیخ، جماعت اسلامی حیدرآباد کے امیر حافظ طاہر مجید، جماعت اسلامی بلوچستان کے امیر مولانا عبد الحق ہاشمی ، جنرل سیکرٹری ہدایت الرحمن بلوچ ،تنظیم اسلامی کے شجاع الدین شیخ ،شیعہ عالم دین علامہ صادق جعفری ،کراچی بار کے سابق صدر نعیم قریشی ودیگر شریک تھے۔

کراچی (اسٹاف رپورٹر)امیرجماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ سید منورحسن،ایک نظریے،عقیدے،جہد مسلسل،صبر واستقلال ،فقرو درویشی، زہد و پاکیزگی کا نام اور علامت تھے ، ان کا نظریہ ،عقیدہ زندہ رہے گا قرآن وسنت کی بالادستی ، اسلامی نظام کے قیام اور عوام کے جمہوری حقوق کے لیے جہد مسلسل جو ان کی زندگی کا مقصد تھا وہ جدوجہد جاری رہے گی ، سید منورحسن نہ صرف پاکستان میں ایک قائد ،مربی ومزکی کی حیثیت رکھتے تھے بلکہ وہ عالمی اسلامی تحریکوں کے بھی لیڈر تھے اور یہ تحریکیں ان سے رہنمائی اور مشورہ لیتی تھیں۔ سید منورحسن حق کو حق اور باطل کو باطل کہنے میں کوئی لگی لپٹی نہیں رکھتے تھے ،حقیقت میں وہ استقامت کے کوہ گراں تھے ، ہم بھی ان کے نقشِ قدم پر چلتے رہیں گے، وہ افغانستان میں امریکی سامراج، مقبوضہ کشمیر میں برہمن راج اور پاکستان میں استعماری قوتوں کے اثر رسوخ کے شدید مخالف تھے ، ان سے آزادی چاہتے تھے ،ہماری جدوجہد بھی انہی خطوط پر جاری رہے گی ، ان کے ’’گو امریکا گو‘‘ کے بیانیے کو آج خطے میں مکمل پذیرائی مل چکی ہے ، ہم اس بیانیے کو حقیقت کا رنگ دینے کی جدوجہد کرتے رہیں گے اور یہ خطہ استعماری قوتوں کا قبرستان بن کر رہے گا ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سید منورحسن کی نماز جنازہ کے موقع پر عید گاہ گراؤنڈ میں ہزاروں افراد سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن اور نائب امیر جماعت کراچی ڈاکٹر اسامہ رضی نے بھی خطاب کیا۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ آج صرف پاکستان ہی نہیں پورا عالم اسلام ایک مربی ، مزکی ،ناصح اور قائد سے محروم ہوگیا ہے ۔ہمارے پاس دنیا بھرسے پیغامات آرہے ہیں کہ سید منورحسن ہم سب کے تھے ۔ سراج الحق نے کہاکہ ہم نے ان کو رات کی تاریکی میں بھی اللہ کے حضور گڑگڑاتے اور امت کے لیے دعائیں مانگتے دیکھا ہے اور دن کی روشنی اور سخت گرمی میں بھی کراچی سے چترا ل تک بستی بستی قریہ قریہ لوگوں کو اللہ کے دین کی طرف بلاتے ہوئے دیکھا ہے، ہم نے مرحوم کو بہت قریب سے دیکھا ہے وہ اپنی ذات میں قرون اولیٰ کی عملی تصویر تھے ، سیرت صحابہؓ پر سختی سے عمل پیرا ہونے والے سچے انسان اور باعمل مسلمان تھے ، ہم نے ان کو ایک کارکن کے طور پر اور ایک قائد کے طور پر بھی دیکھا ہے ،امارت جماعت اسلامی سے فارغ ہونے کے بعد جب یہ ذمے داری میرے کاندھوں پر آئی تو انہوں نے مجھ سے کہاکہ اب میری ذمے داری ہے کہ میں ثابت کروں کہ ایک کارکن کیسا ہوتا ہے ،انہوں نے زندگی کے آخری لمحے تک اطاعت نظم کو ثابت کر کے دکھایا ۔ سراج الحق نے کہاکہ یہ ملک اللہ کے دین کے غلبے اور اسلامی نظام کے لیے حاصل کیا گیا تھا مگر بدقسمتی سے 72سال ہوگئے یہ مقصد حاصل نہ ہوا ۔سید منورحسن زندگی بھر ملک کو اس عظیم مقصد سے ہمکنار کرنے کی جدوجہد کرتے رہے ، اپنی انفرادی زندگی اور اجتماعی معاملات میں بھی ایک نمونہ اور اعلیٰ مثال تھے ، ہم سب ان سے محبت اور تعلق رکھتے ہیں ، ہمارا فرض ہے ذمے داری ہے کہ آج ہم عہد مصمم کریں کہ ان کے نقشِ قدم پر چلیں گے اور ان کے مشن کو زندگی کے آخری لمحے اور سانس تک جاری رکھیں گے ۔سراج الحق نے کہاکہ سید منورحسن 1960ء میں تحریک سے وابستہ ہوئے اور میں 1962ء میں پیدا ہوا ، ان کا دیا گیا ایک آٹو گراف میرے لیے ہمیشہ رہنمائی کا باعث بنے گا جس پر انہوں نے لکھا تھا کہ ’’کہتا ہوں وہی بات سمجھتا ہوں جسے حق‘میں زہر ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکا قند‘‘حافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ آج ہم گواہی دے رہے ہیں کہ وہ ایک پاک باز اور اللہ کے عبادت گزار بندے ، اللہ کا خوف رکھنے والے ،نظریاتی تربیت کرنے والے مربی و مزکی تھے ،حق کا دفاع اور باطل کی مزاحمت ہی ان کا طرہ امتیاز تھا۔وہ حق پر مبنی رائے قائم کرتے تھے اور پھر اس پر ڈٹ جاتے تھے ان کا سیاسی بیانیہ آج صرف خطے کا ہی نہیں عالمی بیانیہ بن چکا ہے ان کا کہنا تھا کہ مغربی تہذیب ڈھلوان پر ہے اورآج ثابت ہورہا ہے کہ ایساہی ہے ، عالمی طاقت کو اپنے گھر میں بلانے والے بھی اور سب کہہ رہے ہیں کہ وہ جنگ ہماری نہیں تھی اور نہ ہے ،آج ایک درویش بزرگ اور سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ کے جانشین دنیا سے رخصت ہوگئے ہیں ، وہ سب سے رابطے رکھتے تھے سب سے ان کا تعلق اور محبت والا معاملہ تھا اور اس میں کوئی ان کا ثانی نہیں تھا ۔ڈاکٹر اسامہ رضی نے کہاکہ سید منورحسن عالمی اسلامی انقلاب کے قائد تھے اسلامی نظریے سے کمٹمنٹ میں اعلیٰ مثال انہوں نے قائم کی ،عہد حاضر میں اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔