ایران : حساس علاقے میں گیس تنصیبات دھماکے سے تباہ

132
تہران: دھماکے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے شعلے سے آسمان روشن ہوگیا ہے

تہران (انٹرنیشنل ڈیسک) ایران کے دارالحکومت تہران کے قریب ایک حساس علاقے میں گیس کے ذخیرے میں بڑے دھماکے سے تباہی پھیل گئی۔ یہ دھماکا پارچین کے علاقے میں ہوا، جس کے بارے میں مغربی قوتوں کا ماننا ہے کہ ایران نے ایک دہائی قبل اپنے جوہری تجربات یہیں کیے تھے۔ ایرانی وزارت دفاع کے ترجمان داؤد عابدی نے بتایا کہ آگ پر قابو پا لیا گیا ہے اور یہ کہ آگ فوجی علاقے میں نہیں لگی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ چوں کہ یہ دھماکا ایک پہاڑی اور غیر رہایشی علاقے میں ہوا، اس میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں۔ تاہم بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ اگرچہ تہران کی جانب سے اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ ایرانی دارالحکومت کی آبادی کو محسوس ہونے والا پُراسرار دھماکا کسی عسکری ٹھکانے میں نہیں، بلکہ بارچین میں گیس کی ایک تنصیب میں ہوا، تاہم اس مقام کی حساسیت کی بنا پر عجیب نوعیت کے شکوک و شبہات ابھی تک باقی ہیں۔ رپورٹوں کے مطابق بارچین میں تحقیقی سرگرمیوں کے علاوہ گولہ بارود، میزائل اور دھماکا خیز مواد و آلات کی تیاری سے متعلق کارروائیاں انجام دی جاتی ہیں۔ حالیہ عرصے میں امریکی اخبارات میں یہ بھی کہا گیا کہ بارچین کے اطراف مشتبہ سرگرمیاں دیکھی گئیں۔ تاہم ایٹمی توانائی کی ایرانی ایجنسی کے ترجمان نے گزشتہ ماہ واضح کر دیا تھا کہ یہ ایک سڑک کی مرمت کا کام تھا، جو پانی میں ڈوب گئی تھی۔البتہ ایران کی جانب سے ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے معاینہ کاروں کو اس مقام کا دورہ کرنے کی اجازت دینے سے مسلسل انکار نے بہت سے سوالات کو جنم دیا ہے۔