وہ اک آتش بیاں تھا

138

وہ اک آتش بیاں تھا نورِ محفل مردِ حق اندیش
وہ ہر اک ذہن پر نقشِ معلا چھوڑے جاتا ہے

منور کر گیا ہر دل کو اپنے حسنِ باطن سے
دیا کیسا تھا بجھ کر بھی اجالا چھوڑے جاتا ہے
شکیل الرحمن فاروقیؔ