وفا شعار چلا گیا

221

سنے کون قصہ دردِ دل مرا غمگسار چلا گیا
جسے آشنائوں کا پاس تھا ، وہ وفا شعار چلا گیا

وہی بزم ہے ، وہی دھوم ہے ، وہی عاشقوں کا ہجوم ہے
ہے کمی تو بس مرے چاند کی ، جو تہہ مزار چلا گیا

وہ سخن شناس وہ دوربیں ، وہ گدا نواز وہ مہ جبیں
وہ حسیں وہ بحرِ علوم دیں ، مرا تاجدار چلا گیا

کہاں اب سخن میں وہ گرمیاں کہ نہیں رہا کوئی قدر داں
کہاں اب وہ شوق میں مستیاں کہ وہ پر وقار چلا گیا

جسے میں سناتا تھا دردِ دل وہ جو پوچھتا تھا غمِ دروں
وہ گدا نواز بچھڑ گیا ، وہ عطا شعار چلا گیا

بہیں کیوں نصیرؔ نہ اشک غم ، رہے کیوں نہ لب پہ مرے فغاں
ہمیں بے قرار وہ چھوڑ کر سرِ رہ گزار چلا گیا
سید نصیر الدین نصیر