وہ شخص اب یاں نہیں ملے گا

158

وہ شخص اب اک سحر کی صورت
جہاں میں پھیلا ہوا ملے گا
رہِ خدا کے سپاہیوں کی
دعائوں میں وہ رچا ملے گا
ستیزہ گاہوں میں جاں لڑاؤ
وہاں وہ خود تم سے آملے گا
وہ شخص اب یاں نہیں ملے گا۔۔۔

کتاب دوراں کے ہر ورق پر
حیات اس کی رقم شدہ ہے
ہزاروں سینوں کا درد پنہاں ہے
فغاں میں اس کی بہم شدہ ہے
کئی صدی کا جہادِپیہم
مساعی میں اس کی ضم شدہ ہے
وہ شخص اب یاں نہیں ملے گا

نظام اسلام آئے گا جب
تو اس کا تازہ ظہور ہو گا
جہاں میں شورِ نشور ہو گا
وقوعِ محشر ضرور ہوگا
وہ دے گیا ہے خبر سحر کی
اندھیرا باطل کا دور ہو گا
وہ شخص اب یاں نہیں ملے گا

نہیں وہ موجود گو بظاہر
جگہ جگہ ہے سراغ اس کا
وہی ہے ساقی ، اسی کی محفل
ایاغ اس کا ، چراغ اس کا
ہزاروں دل ہیں کہ جن کے اندر
جھلک رہا ہے دماغ اس کا
وہ شخص اب یاں نہیں ملے گا
نہ روئو اس کو کہ جلوہ فرما
وہ کہکشاں تابہ کہکشاں ہے
فرازِ جنت کے سبزہ زاروں میں
رونق بزم قدسیاں ہے
ہوا مقرب وہ انبیاؑ کا
وہ آج ، مخدوم نوریاں ہے
وہ شخص اب یاں نہیں ملے گا
نعیم صدیقیؔ