سید منور حسن پیدائش سے وفات تک

233

مادر علمی : جامعہ کراچی
سیدمنورحسن سابق امیرجماعت اسلامی
پیدائش : 5 اگست 1944ء دھلی
وفات : 26 جون 2020ء کراچی
شہریت : پاکستان
جماعت : جماعت اسلامی پاکستان
جماعت اسلامی پاکستان کے چوتھے امیر ۔ اگست 1944ء میں دھلی میں پیدا ھوئے۔ تعلق تقسیم برصغیر سے پہلے کے شرفاء دہلی سے ہے ۔ آزادی کے بعد انکے خاندان نے پاکستان کو اپنے مسکن کے طور پر چنا اور کراچی منتقل ہوگئے ۔ انہوں نے 1963ء میں جامعہ کراچی سے سوشیالوجی میں ایم اے کیا پھر 1966ء میں یہیں سے اسلامیات میں ایم اے کیا ۔ زمانہ طالب علمی میں ہیمنور حسن اپنی برجستگی اور شستہ تقریر میں معروف ہو گئے۔ کالج میگزین کے ایڈیٹر بھی رہے ۔ علاوہ ازیں بیڈ منٹن کے ایک اچھے کھلاڑی بھی رہے ۔
اس کے بعد طلبہ کی بائیں بازو کی تنظیم نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن (NSF) میں شامل ہوئے اور 1959ء میں اس تنظیم کے صدر بن گئے ۔ زندگی میں حقیقی تبدیلی اس وقت برپا ہوئی جب آپ نے اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے کارکنان کی سرگرمیوں کو قریب سے دیکھا اور مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی تحریروں کا مطالعہ کیا ۔ نتیجتاً آپ 1960ء میں اسلامی جمعیت طلبہ میں شامل ہو گئے اور جلد ہی جامعہ کراچی یونٹ کے صدر اور مرکزی شورٰی کے رکن بنا دیے گئے ۔ بعد ازاں 1964ء میں آپ اس کے مرکزی صدر (ناظم اعلیٰ) بنے اور مسلسل تین ٹرم کے لیے اس ذمے داری پر کام کرتے رہے۔ ان کی عرصئہ نظامت میں جمعیت نے طلبہ مسائل ، نظام تعلیم اور تعلیم نسواں کو درپیش مسائل کے سلسلے میں رائے عامہ کو بیدار کرنے کی خاطر کئی مہمات چلائیں ۔
1963 ء میں اسلامک ریسرچ اکیڈمی کراچی میں اسسٹنٹ کی حیثیت سے شامل ہوئے اور اس کے سیکرٹری جنرل کے عہدے تک ترقی کی ۔ ان کی زیِر قیادت اس اکیڈمی نے ستر (70) علمی کتابیں شائع کیں ۔ ماہنامہ The criterion اور The Universal Message کی ادارت کے فرائض بھی سر انجام دیے ۔ سید منورحسن 1967ء میں جماعت اسلامی میں شامل ہوئے ۔ جماعت اسلامی کراچی کے اسسٹنٹ سیکرٹری ، نائب امیر اور پھر امیر کی حیثیت سے ذمہ داریاں سر انجام دیں ۔ جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی مجلس شورٰی اور مجلس عاملہ کے بھی رکن منتخب ہوئے ۔ کئی فورمز پر جماعت اسلامی کی نمائندگی کی جیسے یونائیٹد ڈیمو کریٹک فورم اور پاکستان نیشنل الائنس (پاکستان قومی اتحاد) وغیرہ ۔ 1977ء میں کراچی سے قومی اسمبلی کا الیکشن لڑا اور پاکستان میں سب سے زیادہ ووٹ لے کر اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ۔ 1992ء میں انہیں جماعت اسلامی پاکستان کا مرکزی اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل اور پھر 1993ء میں مرکزی سیکرٹری جنرل بنا دیا گیا ۔
آپ متعدد بین الاقوامی کانفرنسوں اور سیمینارز میں شرکت کر چکے ہیں ۔ نیز ریاست ھائے متحدہ امریکا ، کینیڈا ، مشرق وسطیٰ ، جنوب مشرق اور جنوب مشرقی ایشیا کے کئی ممالک کے دورے کر چکے ہیں ۔
امیرجماعت اسلامی پاکستان : مارچ 2009ء میں سید منور حسن جماعت اسلامی پاکستان کے چوتھے امیر منتخب ہوئے ۔ ان سے قبل جماعت اسلامی کے بانی سید ابوالاعلیٰ مودودی ، میاں طفیل محمد اور قاضی حسین احمد نے جماعت اسلامی کی امارت کی ذمہ داری نبھائی ۔ آپ جماعت کے چوتھے امیر منتخب ہوئے ۔ امارت کی مدت 2009ء تا 2014ء ہے ۔
گوامریکاگومہم : پاکستان کی موجودہ صورت حال کے تناظر سید منور حسن کا کہنا تھا کہ “پاکستان کے تمام مسائل کا حل امریکا کا اس خطے سے چلے جاناہے ، جب تک امریکا اس خطے میں رہے گا دہشگردی میں اضافہ ہوتا رہے گا ، اس لیے ضروی ہے کہ تمام سطحی کاموں کو چھوڑ کر پوری قوم گو امریکا گو مہم کے جھنڈے تلے جمع ہو جائے۔”
وفات: آپ کراچی کے ایک نجی ہسپتال میں حالیہ دنوں میں زیر علاج تھے کہ 26 جون 2020ء بروز جمعةالمبارک تقریبا بوقت دوپہر تقریباًایک بجے اپنے پیارے خالق حقیقی سے جا ملے ۔۔۔۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ ۔۔۔۔۔ اللہ ﷻ اپنی کروڑہا رحمتیں سید منور حسن پر نازل فرمائے اور سلامتی کی پھلواریں تاقیامت برسائے ۔۔۔۔ آمین