پاکستان تیسری بارسارک چیمبر کا صد ر ہو گا

1187

سارک کے پہلے صدر کا اعزاز1993میں پاکستان سے ایس ایم انعام کو حاصل ہوا،

افتخار علی ملک  30 جون صدرہونگے،دوسرے صدر بزنس لیڈر طارق سعید تھے

کراچی

پاکستان عرصہ11سال بعدتیسری بار سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی صدارت سنبھالے گااور پاکستان کی ایک تجربہ کار کاروباری شخصیت ،نومنتخب صدر افتخار علی ملک 30جون2020 کو سارک سی سی آئی پریذیڈیم ورچوئل میٹنگ میں سارک کے 14ویں صدر کے طور پر منصب سنبھالیں گے اورسارک چیمبر کے موجودہ صدر ریوین ایڈریسنگھ(سری لنکا)سارک چیمبر کے صدر کے اختیارات افتخار علی ملک کو سونپیں گے۔ سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا قیام1985میں پاکستان کی بزنس کمیونٹی کی کوششوں سے عمل میں آیا تھا اور1991میں سارک چیمبر کی اسٹڈی مکمل کی گئی

پہلی صدارت پاکستان کے حصے میں آئی۔ مجموعی طور پر خطے میں نجی شعبے نے باہمی تعاون کے ساتھ جدوجہد کیلئے قائم کی گئی تنظیم سارک کے7 ممبر ممالک پاکستان،بھارت،بنگلہ دیش،مالدیپ،سری لنکا،بھوٹان اورنیپال کی جانب سے متفقہ طور پر1993 میں کراچی(پاکستان) سے آٹوپارٹس انڈسٹری سے وابستہ معروف تاجررہنما ایس ایم انعام (مرحوم)کو صدر منتخب کیا تھا اورایس ایم انعام نے ہی سارک چیمبر آف کامرس کا آئین بنایا تھا جویہ پاکستان کے لئے اعزاز تھا ۔اس طرح ہردوسال کے بعد دوسرے ممالک سے صدر کا انتخاب عمل میں آیا۔بعد ازاں سارک کے ممبر ممالک میں افغانستان کا بھی اضافہ ہوا اوراب مجموعی طور پر8ممبرزہیں۔پاکستان کو دوسری بار سارک چیمبر کی صدارت2008میں ملی اورملک کے معروف اور جہاندیدہ بزنس لیڈرطارق سعیدصدر منتخب ہوئے اور11سال کے بعد سارک چیمبر آف کامرس کی صدارت کا قرعہ افتخار علی ملک کے نام نکلا ہے۔

افتخار علی ملک اس وقت سارک چیمبرکے سینئرنائب صدر ہیں جبکہ وہ پانچ بار سارک چیمبر کے نائب صدر بھی رہ چکے ہیں۔سارک چیمبر کے نائب صدر کی حیثیت سے پاکستان سے ہی سینئربزنس لیڈرشیخ جمیل محبوب مگوں(مرحوم) نے بھی تقریباً14 سال نائب صدر کی حیثیت سے سارک چیمبر میں گرانقدر خدمات انجام دیں وہ6بار نائب صدر اور ایک بارسینئرنائب صدر منتخب ہوئے اور انکی مدت2008میں ختم ہوئی،سارک چیمبر نے انکی طویل خدمات پر گولڈ میڈل بھی پیش کیا تھا۔سارک ممالک میں بنگلہ دیش،بھوٹان،نیپال، مالدیپ اور پاکستان کے بارڈرز بھارت سے ملتے ہیں،ترقی پذیرممالک میں بنگلہ دیش کا شمار کوٹہ فری ممالک میں ہوتا ہے،ٹیکسٹائل میں بنگلہ دیش نے تیزی سے ترقی کی ہے اوردنیابھر میں بنگلہ دیش کا گارمنٹس پھیلا ہوا ہے

لیکن بنگلہ دیش میں مقامی سرمایہ کاری سے زیادہ بیرونی سرمایہ کاری ہے،سری لنکا اور بھارت کے مابین براستہ سمندر تجارت ہے جسکا فائدہ بھارت اٹھا رہا ہے جبکہ بھارت پاکستان اور بنگلہ دیش کے علاوہ دیگر سارک ممالک سے انڈین کرنسی میں ٹریڈ کررہا ہے ۔پاکستان پہلے امریکا کے بعد افغانستان کو تقریباً4ارب ڈالر کی ایکسپورٹ کرتا تھا اور ایک سال ایسا بھی آیا کہ جب افغانستان کو پاکستان سے5 ارب ڈالر کی ایکسپورٹ ہوئی لیکن بعد میں سمگلنگ بڑھنے اوربھارت کا اثرورسوخ بڑھنے سے یہ ایکسپورٹ گھٹ کر تقریباًڈیڑھ ارب ڈالر رہ گئی ہے۔سارک کے 6ممبر ممالک میں بھارتی بزنس مینوں کی بالادستیہے اس لئے 11سال کے بعد پاکستان کو ملنے والی صدارت کے بعد افتخار علی ملک کو دیگر سارک ممبر ممالک سے پاکستان کی تجارت بڑھانے کیلئے بے پناہ جدوجہد کرنا ہو گی کیونکہ ماضی کی طرح بھارت انکی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرسکتا ہے۔

واضح رہے کہ 2008میں جب طارق سعید نے سارک کی صدارت سنبھالی تو بھارت نے انکے لئے مسائل پیدا کرنے کی بہت کوششیں کیں مگر طارق سعید نے بھارت کی تمام وار اسے ہی لوٹا دیئے، طارق سعید کو دنیا کے ہرفورم پر خطاب کرنے کا اعزاز حاصل تھا اس لئے وہ بے خوف سارک چیمبر کے اجلاس میں تقاریر کرتے اورانہیں ناکام بنانے کی بھارت کی تمام تر کوششیں رائیگاں گئیں۔موجودہ حالات میں پاکستان کو باہمی تجارت کے فروغ کیلئے سری لنکا،نیپال،بنگلہ دیش،افغانستان،مالدیپ اور بھوٹان سے دوطرفہ تجارت بڑھانے کیلئے پہلے سے زیادہ جدوجہد کرنا ہوگی اورسارک کی صدارت افتخار علی ملک کیلئے ایک امتحان ہوگا ۔سارک کے نومنتخب صدر کیلئے بہت سے چیلنجز ہونگے تاہم افتخار علی ملک اپنے وسیع تر تجربہ کی بنیاد پرپاکستان کی خطے میں تجارت بڑھانے کیلئے اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

واضح رہے کہ افتخار علی ملکنے 25 سال تک علاقائی اتحاد اور معاشی تعاون کے لئے خدمات انجام دیں اور سارک چیمبر کا سیکریٹریٹ پاکستان لانے میں نمایاں کردار ادا کیا اور ان ہی کی کوششوں سے اسلام آباد میں سارک چیمبر آف کامرس کی” اسٹیٹ آف دی آرٹ” بلڈنگ تعمیر ہورہی ہے ۔ افتخارملک 1990 میں لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایل سی سی آئی) کے صدرمنتخب ہوئے اورسال 2000 کے اوائل میں2سال تک فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے صدر کی حیثیت سے بھی اپنی خدمات انجام دیں۔ افتخار علی ملک گارڈ گروپ کے چیئرمین ہیں اور انکا یہ ادارہ آٹوموبائل فلٹرز کے کاروبار سے وابستہ ہے اس کے علاوہ گارڈ گروپ پاکستان میں چاول کی برآمدات میں بھی بڑا حصہ رکھتا ہے۔

انسانیت کی خدمت میں بھی انکی فیملی پیش پیش ہے اور ممتاز بختاور میموریل ٹرسٹ ہسپتال عوام کی فلاح و بہبود کیلئے اہم کردار ادا کررہا ہے ۔افتخار علی ملک کا نام بین الاقوامی کتاب WHO IS- WHO- میں بھی شامل کیا گیا ہے۔نومنتخب صدر افتخار علی ملک نے کہا ہے کہ یہ میرے لئے اعزاز کی بات ہے کہ میں خطے کے سب سے بڑے تجارتی فورم کی سربراہ کی حیثیت سے پاکستان کی نمائندگی کرونگا اور مجھے ہر سطح پر سب سے پہلے اپنے ملک کامفاد عزیز ہوگا تاہم میری کوشش ہوگی کہ میں تمام آٹھوں ممالک کے مابین مثبت تجارتی روابط اپنے کی کوششیں کروں۔انہوں نے کہا کہ اس وقت دنیا بھر میں کرونا وائرس نے تباہی مچارکھی ہے اور آئندہ چندماہ معاشی اعتبار سے بہت اہم ہونگے، میں نے کرونا وائرس کا مقابلہ کرنے کیلئے تجویز پیش کی ہے کہ سارک ممالک کا مشترکہ فنڈ قائم کیا جائے اور یہ انفرادی کوششوں کی نسبت کرونا وباء کا مقابلہ کرنے کا سب سے بہتر طریقہ ہے،جنوبی ایشیائی ممالک کو انفرادی کوششوں اور مخمصے کا شکار ہونے کے بجائے مشترکہ کوششوں اورتعاون پر توجہ مرکوز کرنی چاہیئے اوررضاکارانہ شراکت پر مبنی مشترکہ تحقیقی پلیٹ فارم تشکیل دینا چاہیئے تاکہ سارک خطے میں تحقیق کو مربوط کیا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ جنوبی ایشیائی ممالک دنیا کیلئے مثال قائم کرتے ہوئے اپنے تمام تر اختلافات بالائے طاق رکھ کر آگے آئیں اورصحت مند کرہ ارض کے قیام کیلئے اپنامزید کردا ر ادا کریں۔