انسان کو مصنوعی طور زندہ رکھنے کا بھیانک طریقہ

837

نیویارک میں سائنسدان ایک عرصے سے انسانی دماغ کو موت کے بعد زندہ رکھنے یا کم از کم اس میں محفوظ معلومات اور سوچ کو کمپیوٹر میں منتقل کرنے کے منصوبوں پر کام کر رہے تھے تاہم اب انہیں کامیابی مِل گئی ہے۔

Yale یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے اس تحقیق میں سور کے دماغ کو اس کے جسم سے باہر نکال کر 36 گھنٹے سے زائد وقت تک زندہ اور متحرک رکھنے کا کامیاب تجربہ کر لیا ہے۔ اس تجربے میں سائنسدانوں نے کچھ خنزیروں کے سر کاٹ کر ان سے دماغ نکالے اور ان میں مشینوں کے ذریعے آکسیجن سے لبریز مصنوعی خون پمپ کرتے رہے جس سے یہ دماغ 36 گھنٹے سے زائد وقت تک فعال رہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس تجربے کی کامیابی سے انسانوں کے دماغ کے ٹرانسپلانٹ کی راہ ہموار ہو گی۔ اس تجربے کی کامیابی سے انسانی دماغوں کو مصنوعی سسٹمز کے ذریعے ہمیشہ کے لیے زندہ رکھنے کا امکان بھی پیدا ہو گیا ہے۔

تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر نینڈ سیسٹن کا کہنا تھا کہ ہم نے 200 خنزیروں پر تجربات کیے اور ان کے جسم سے نکالے گئے دماغوں کو مصنوعی خون فراہم کرنے کے لیے ایک کلوزڈ لوپ سسٹم (Closed-loop system) تیار کیا جسے ’برین ایکس‘ (BrainEX) کا نام دیا گیا ہے۔ یہ سسٹم دماغ کے کلیدی حصوں میں مصنوعی خون کو پمپ کر سکتا ہے جس میں آکسیجن شامل ہوتی ہے۔ ہمارا یہ تجربہ انتہائی کامیاب رہا اور دماغ کے اربوں خلیے اس سسٹم کے ذریعے زندہ اور مکمل صحت مند رہے۔

اس تجربے کی کامیابی پر جہاں کچھ سائنسدان پراُمید ہیں وہیں برطانیہ کے کچھ نامور سائنسدانوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ انسانی دماغ کو موت کے بعد زندہ رکھنا اسے کبھی نا ختم ہونے والے عذاب میں مبتلاءکرنے کے مترادف ہو گا۔

ان ماہرین کا مﺅقف ہے کہ جسم کے بغیر انسانی دماغ کی زندگی ناقابل برداشت حد تک تکلیف دہ ہوگی کیونکہ ایسا دماغ بیرونی دنیا سے رابطہ کرنے کے قابل نہیں ہو گا اور اسے ہمہ وقت صرف اپنی ہی سوچوں میں گم رہنا ہو گا۔ یہ ایک ایسا عذاب ہو گا جسے ختم کرنا اس دماغ کے بس میں نہیں ہوگا اور نا ہی اس سے نکلنے کا کوئی طریقہ اسے میسر ہوگا۔