بیرون ملک پاکستانیوں سے فراڈ

322

اسلام آباد ہائیکورٹ نے بیرون ملک پاکستانیوں کے مسائل حل کرنے کے لیے متعلقہ وزارت سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔ عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ فراڈ کی وجہ سے بیرون ملک پاکستانی وطن میں سرمایہ کاری نہیں کر رہے۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جائدادوں پر قبضے ہو رہے ہیں۔ عدالت نے بڑا چبھتا ہوا سوال کر دیا کہ اوورسیز فائونڈیشن نے بیرون ملک پاکستانیوں کے لیے کیا اقدامات کیے۔ اس ادارے کے سربراہوں، وزرا اور افسران نے سیر سپاٹوں کے سوا کچھ بھی نہیں کیا رپورٹ کیا دیں گے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس بارے میں درست نشاندہی کی ہے اور سرمایہ کاری میں کمی کے اسباب بھی بیان کر دیے ہیں۔ ویسے تو ملک میں مقیم لوگوں کی جائدادوں پر بھی قبضے ہو رہے ہیں۔ بڑے بڑے تجارتی منصوبے عوام کی زمینوں پر قبضے کرکے بنائے جا رہے ہیں لیکن بیرون ملک مقیم پاکستانی تو اس معاملے میں بڑے بدقسمت ثابت ہوئے ہیں۔ ایک طرف ان کی رقم ڈوبتی ہے دوسری طرف جائداد بھی جاتی ہے اور اس پر طرہ یہ کہ حکومت ادارے اور متعلقہ فائونڈیشن لوگوں کو اِدھر سے اُدھر دھکے کھانے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ یہ بات بھی ریکارڈ پر ہے کہ لوگوں کو اس معاملے میں عدالتوں سے بھی ریلیف نہیں ملتا تھا۔ کیونکہ بیرون ملک سے پیسے بھیجے جاتے تھے اور یہاں اہتمام ہوتا تھا کہ جس کے نام چیک اور رقم بھیجی گئی ہے تعمیراتی کمپنی کا اس سے تعلق نہیں ہوتا تھا۔ بے چارے اوورسیز پاکستانی ثابت کیا کرتے۔ اور بات وہییں پہنچ جاتی کہ دیکھ تو سب رہے ہوتے ہیں کہ کیا ہو رہا ہے لیکن عدالت ثبوت مانگتی ہے اور ثبوت کبھی ملتا نہیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ اوورسیز پاکستانیز فائونڈیشن کے ساتھ ساتھ عدالتوں کے معاملات بھی بہتر بنانے پر توجہ دیں تاکہ اگر متعلقہ وزارت اور فائونڈیشن کوئی کام نہیں کر رہے تو لوگوں کو عدالت سے ہی ریلیف مل جائے۔ بیرون ملک مقیم اپنے شہریوں کو دنیا بھر کی حکومتیں اہمیت دیتی ہیں ان کو وی آئی پی حیثیت دی جاتی ہے کیونکہ ان سے زرمبادلہ ملتا ہے۔ لیکن پاکستان میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو بھی سونے کی چڑیا سمجھ کر لوٹا جاتا ہے۔ گزشتہ کئی ماہ سے دنیا بھر میں پاکستانی پھنسے ہوئے ہیں لیکن ان کو واپس لانے کے انتطامات اور لانے میں غیر ضروری تاخیر کی گئی پھر ان سے ہوٹلوں کا کرایہ اور آئسولیشن سینٹرز کی فیسیں بھی وصول کی گئیں۔ دوگنے پیسوں میں ٹکٹ خریدنے پڑے۔ یہ ہوتی ہے وی آئی پی کی اہمیت۔ عدلیہ ان معاملات پر بھی غور کرے تو شاید حالات کچھ بہتر ہو جائیں۔