مشتری اور زحل سے فراہم ہونے والا حیران کُن ڈیٹا

570

’جونو‘ اور ’کیسینی‘ نامی خلائی جہازوں نے مشتری اور زحل سے جو ڈیٹا بھیجا ہے اس سے نظامِ شمسی کی تشکیل اور نظم و ضبط کے بارے میں معلومات حاصل ہوئی ہیں جو پہلے کبھی نہیں ہوئیں۔

کیسینی نے زحل کے گرد چکر لگاتے ہوئے 13 سال گزارے، جس کے بعد وہ 2017 میں زحل کی سطح پر گر کر تباہ ہو گیا لیکن اُس سے پہلے اُس نے جو معلومات اکٹھی کی تھیں وہ سائنسدانوں کو بھیج دیں۔ جونو پچھلے ڈھائی سال سے مشتری کے گرد گردش کر رہا ہے۔

کیلی فورنیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے ڈیوڈ سٹیونسن نے کہا کہ ’وہ مشن کامیاب کہلاتا ہے جو ہمیں حیران کر دے۔ اگر (نیا حاصل شدہ ڈیٹا) پرانی باتوں کی تصدیق ہی کرتا رہے تو سائنس اکتا دینے والی بن جائے گی۔‘

سٹیونسن نے کہا کہ ان دونوں سے معلوم ہوا کہ ’سیارے کیسے تشکیل پاتے ہیں، ان کا مقناطیسی میدان کیسے وجود میں آتا ہے اور وہاں ہوائیں کیسے چلتی ہیں۔‘

سائنس دانوں نے کہا کہ تفصیلی مقناطیسی اور کششِ ثقل کا ڈیٹا ’بیش قیمت‘ ہے اور اب تک ہمارے پاس اس قسم کی کوئی چیز موجود نہیں تھی۔

جونو پر موجود آلات کی مدد سے سائنس دانوں نے مائیکرو ویو لہروں کے ذریعے سیاروں کے کرۂ ہوائی کا جائزہ لیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ حیرت انگیز طور پر کرۂ ہوائی اس طرح وجود میں نہیں آتا جس طرح پہلے سائنس دانوں کا خیال تھا۔

معلوم ہوا کہ مشتری کا کرۂ ہوائی بڑی مقدار میں برف، مائع اور گیسوں کے امتزاج سے تشکیل پاتا ہے۔ تاہم ابھی اس کی مکمل وضاحت ہونا باقی ہے۔

جونو پر موجود دوسرے آلات سے مشتری کے مقناطیسی میدان اور اس سیارے کی کششِ ثقل کے بارے میں معلومات فراہم کیں۔ مشتری پر کچھ عجیب و غریب دھبے موجود ہیں جہاں یا تو مقناطیسیت بہت زیادہ یا بہت کم ہے۔ دوسری غیر متوقع بات یہ دریافت کی گئی کہ وہاں جنوبی اور شمالی کروں کے مقناطیسی میدان مختلف ہیں، حالانکہ زمین پر ہر جگہ ایک ہی قسم کا مقناطیسی میدان پایا جاتا ہے۔

سٹیونسن نے کہا: ’ہم نے ایسی کوئی چیز پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔‘

سائنس دانوں نے یہ بھی معلوم کیا کہ اگرچہ مشتری کا 90 فی صد وزن ہائیڈروجن اور ہیلیم گیسوں پر مشتمل ہے، لیکن وہاں بھاری عناصر بھی پائے جاتے ہیں، جو صرف اس سیارے کے مرکز میں نہیں، بلکہ اس کے کرۂ ہوائی میں بھی موجود ہیں، اور ان بھاری عناصر کا وزن زمین کے کل وزن سے 10 گنا زیادہ ہے۔