میرا سانس رک رہا ہے

320

وہ دانشور جو کئی دہائیوں سے دنیا کو سرمایہ دارانہ نظام کی حقیقتوں سے آگاہ کرنے کی کوشش کررہے تھے اگر مزید دس بیس برس بھی مصروف رہتے تب بھی اس نظام کی ہلاکت آفرینیوں کا شعور بیدار کرنے میں اس قدر کامیاب نہ ہوتے جتنا کورونا وائرس نے چند ماہ میں کردکھایا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام نے غریب اور کمزور ممالک، طبقات اور نسلوں میں عدم مساوات کے ذریعے جو مسائل پیدا کیے ہیں کوویڈ19 نے انہیں کھول کر دنیا کے سامنے رکھ دیا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام نے جو بت تراشے تھے امریکا اور یورپ میں نہ صرف ان سے نفرت کا اظہار کیا جارہا ہے بلکہ یہ نفرت مجتمع ہوکر انتہائی حقارت سے ان بتوں کو زمین بوس کررہی ہے۔ 2008 سے دنیا کے اربوں انسانوں میں سرمایہ دارانہ نظام کی ہلاکتوں کے بارے میں جو شعور بیدار ہوا تھا وہ اب سڑکوں پر برسر احتجاج ہے۔ اس وقت بھی دنیا کے 28بڑے ممالک میں لوگوں سے سرمایہ دارانہ نظام کے بارے میں رائے لی گئی تھی تو 56فی صد آبادی نے اس یقین کا اظہار کیا تھا کہ ’’آج سرمایہ داری نظام دنیا کو فائدہ دینے کی نسبت زیادہ نقصان دے رہا ہے‘‘۔ اس میں 47فی صد امریکی بھی شامل تھے۔ کورونا ایک لاکھ سے زائد امریکیوں کی جانیں لے چکا ہے لیکن کورونا نے اصل کام یہ کیا ہے سماج میں اس نظام کے خلاف جو غصہ پنپ رہا تھا موجودہ صحت اور معاشی ایمرجینسیوں نے جن میں کئی گنا اضافہ کردیا ہے، اسے ایک لاوے کی شکل دے کر زمین کے اوپر لے آیا ہے۔ مظاہروں میں شریک ایک سیاہ فام نوجوان خاتون کا کہنا تھا ’’ہم یہ سب پچھلے چار سو سال سے بھگت رہے ہیں لیکن اب بہت ہو چکا‘‘۔ ایک اور شہری سے مظاہروں میں شرکت کی وجہ پو چھی گئی تو اس کا ایک لفظی جواب تھا ’’نا انصافی‘‘۔
پاکستان میں ایک نالائق، نااہل اور منافق حکومت نے ملک کا ستیاناس کردیا ہے۔ کروڑوں پاکستانیوں کو کورونا کے آگے ڈال دیا گیا ہے پھر بھی اس حکومت کو ریاست کے بے حس بادشاہ گراداروں کی حمایت حاصل ہے۔ کوویڈ 19سے نمٹنے کے لیے موثر یا غیر موثر کا سوال تو ایک غیر ضروری بات ہے اس بے درد اور احمق حکومت کی سرے سے کوئی پالیسی ہی نہیں ہے۔ وزیراعظم عمران خان مکمل لاک ڈائون، نیم لاک ڈائون، سلیکٹڈ لاک ڈائون اور اسمارٹ لاک ڈائون کی اول فول اصطلاحات استعمال کرتے رہتے ہیں لیکن عملی طور پر ان کی حکومت کچھ کرنے کے لیے تیار نہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ مریضوں کی تعداد کے لحاظ سے پاکستان دنیا کے تیرہ اور مرض کے پھیلائو کے اعتبار سے چار چوٹی کے ممالک میں شامل ہو چکا ہے۔ فروری میں وبا کے آغاز سے لے کر تاحال پچھلے چار مہینوں میں وبا سے متاثر اور ہلاک ہونے والوں کی تعداد ہی میں نہیں بے روزگاری میںبھی بے پناہ اضافہ ہوا ہے لیکن عوام کو کوئی سہولت دینے کے بجائے یہ حکومت غریب اور متاثرہ طبقوں کی مشکلات میں اضافہ ہی کررہی ہے۔
اس وقت جب کہ عوام کی اکثریت کے لیے دو وقت خوراک کا بندوبست کرنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جارہا ہے، صحت، مہنگی ادویات، قیمتوں میں اضافے الگ مسائل ہیں، بجلی کے زائد بلوں نے زندگی جہنم بنا رکھی ہے۔ اس ظلم اور زیادتی پر بھی چین نہیں پڑ رہا کہ حکومت نے نیپرا ایکٹ 1997 میں ترمیم کے لیے قومی اسمبلی میں ایک بل پیش کیا ہے تاکہ اسے بجلی کے صارفین پر مزید ٹیکس لگانے کے اختیارات مل جائیں۔ بجلی مزید مہنگی کی جاسکے۔ یہ اقدام سرمایہ دارانہ نظام کی علامت آئی ایم ایف کے دبائو پر کیا جارہا ہے۔ جس نے یہ شرط عائد کی ہے کہ گردشی قرضہ جو 456ارب روپے سالانہ ہے اسے 2023 تک 50 سے 75ارب روپے سالانہ پر لایا جائے جو اس وقت مجموعی طور پر تقریباً 1800ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔ لائن لاسز، ریکوری کا نہ ہونا اور سب سے بڑھ کر سود در سود جیسے عوامل ہیں جنہوں نے گردشی قرضے کا حجم بڑھانے میں کردار ادا کیا ہے۔ اس گردشی قرضے کا سارا بوجھ اب عوام اور انڈسٹری کی طرف منتقل کیا جارہا ہے۔ گزشتہ دوسال میں حکومت پہلے ہی بجلی کی قیمتوں میں 12.5فی صد سے لے کر30فی صد تک بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کر چکی ہے۔ زیادتی کی انتہا یہ ہے کہ اگر کوئی کارخانہ دار مہنگی بجلی سے بچنے کے لیے اپنا ذاتی پلانٹ لگانا چاہے تو تین سال تک اسے اس بات کی بھی اجازت نہیں دی جاتی۔ اسے مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ مہنگی بجلی خریدے اور اپنے کاروبار کا نقصان کرے۔
گردشی قرضے کی بنیادی وجہ پرائیوٹ سیکٹر کے ساتھ بے نظیر بھٹو کے دور میں کیے جانے والے معاہدے ہیں۔ کرپشن اور کک بیکس کی لالچ میں ان معاہدوں میں پاکستانی عوام کے مفادات کو جس طرح نظر انداز کیا گیا انہیں جس طرح قربانی کا بکرا بنایا گیا اس کا نتیجہ ہے کہ پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں بجلی کی قیمتیں سب سے زیادہ ہیں۔ یہ آئی پی پیز کھربوں روپے سالانہ پاکستانی عوام کی خون پسینے کی آمدنی سے نچوڑ تی ہیں جو ان کمپنیوں کے سیٹھوں کی تجوریوں میں چلا جاتا ہے۔ حکومت پاکستان کو اس منافع سے کچھ حاصل نہیں ہوتا الٹا وہ گردشی قرضے کے عنوان سے ان کمپنیوں کے دبائو میں رہتی ہے۔ ان معاہدوں کا حیران کن اور ناقابل یقین ظلم کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ نجی شعبے میں بجلی پیدا کرنے والے کو اس وقت بھی رقم اداکی جاتی ہے جب طلب میں کمی کی وجہ سے اس سے بجلی نہیں خریدی نہیں جاتی۔ اسے کیپیسٹی چارجز کہا جاتا ہے۔ جولائی 2019 تک یہ کیپیسٹی چارجز 900 ارب روپے سالانہ تک پہنچ گئے ہیں۔ اب یہ سارا بوجھ غریب عوام کی طرف منتقل کیا جارہا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام میں پاکستان جیسے ممالک کو بجلی اس قیمت پر نہیں ملتی کہ عوام پر بوجھ نہ پڑے، پراڈکٹس کی پیداواری لاگت کم ہو اور معیشت کا پہیہ چلے بلکہ اس کے برعکس اقدامات اٹھا کر ملک اور عوام کو بدحال کیا جاتا ہے۔
مضحکہ خیز پہلو یہ ہے کہ بے حدو حساب ظلم کے سامان کرکے، عوام کو غربت کی دلدل میں اتار کر ان کے لیے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام، احساس اور یوٹیلیٹی اسٹورز پر قیمتوں میں کمی کے ڈرامے رچائے جاتے ہیں۔ عمران خان حکومت کے ظلم کا یہ حال ہے کہ وہ اس مد میں بھی غریبوں کو کچھ دینے کے لیے تیار نہیں۔ کورونا سے متاثرین کی امداد کے لیے پچھلے دنوں حکومت نے 200ارب روپے تقسیم کرنے کا اعلان کیا تھا جو بارہ ہزار روپے کی صورت ادا کیے گئے۔
اس ریلیف کی بھی حقیقت یہ تھی کہ ایک طرف عوام کو پیسے دیے گئے تو دوسری طرف مصنوعی قلت پیدا کرکے آٹا اور چینی کی قیمتوں میں اضافہ کرکے یہ رقم عوام کی جیبوں سے نکال لی گئی۔ تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ 2020-21 کے بجٹ میں اس مد میں یہ رقم 200ارب سے کم کرکے محض 70ارب روپے کردی گئی ہے۔
ایک طرف قیمتوں میں اضافہ دوسری طرف قرضوں کے شیطانی جال میں ہماری اگلی نسلوں کو گروی رکھ دیا گیا ہے۔ 2008 میں پاکستان کا قومی قرضہ 6500 ارب روپے تھا۔ پیپلز پارٹی کے دور حکومت 2013 تک یہ قرضہ 13ہزار ارب روپے تک پہنچ گیا۔ مسلم لیگ ن کے دور حکومت 2018تک یہ قرضہ 24ہزار ارب روپے ہوگیا۔ پاکستان تحریک انصاف کے صرف دو سال میں یہ قرضہ 42ہزار ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔
کوویڈ 19 نے جس طرح دنیا بھر میں سرمایہ دارانہ استیصالی نظام کو ننگا کیا ہے حکمران طبقے کے تمام تر ظلم لالچ اور چال بازیوں کے باوجود جلد یا بدیر دنیا بھر میں اس نظام، اس کی علامتوں اور علمبرداروں کو سڑکوں پر گھسیٹا جائے گا۔ جب مظاہرین وائٹ ہائوس کے دروازوں تک پہنچ گئے اور لوگوں کے غصیلے نعرے صدر ٹرمپ کے کانوں سے ٹکرانے لگے تو انہیں فوری طور پر ایک زیر زمین بنکر میں منتقل کردیا گیا جہاں وہ ایک گھنٹے رہے بعد میں اسے وائٹ ہائوس کی اوپری منزل میں منتقل کردیا گیا۔ پاکستان کے حکمران اپنا انجام سوچ لیں جنہیں چھپنے کے لیے بھی جگہ نہیں ملے گی۔ سرمایہ دارانہ نظام نے لوگوں کی سانسیں روک دی ہیں وہ چلانے پر مجبور ہیں ’’میراسانس رک رہا ہے‘‘۔