کراچی طیارہ حادثہ: پائلٹ اور معاون کے ذہنوں پر کورونا سوار تھا، وزیر ہوا بازی

380
اسلام آباد: وفاقی وزیر ہوابازی غلام سرور خان پریس کانفرنس کررہے ہیں

اسلام آباد (صباح نیوز) وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے کہا ہے کہ پا ئلٹ اور معاون کے ذہنوں پر کورونا سوار تھا‘ توجہ جہاز سنبھالنے کے بجائے کورونا پر تھی‘ کراچی حادثے کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق پائلٹ نے آخری وقت تک کسی تکنیکی خرابی کی نشاندہی نہیں کی‘ پائلٹ اور ائر ٹریفک کنٹرولر دونوں نے طے شدہ طریقہ کار اور اصولوں پر عمل نہیں کیا‘ اس سے پہلے 4 طیاروں کے حادثے کی رپورٹ بھی جلد منظر عام پر لائی جائے گی‘ ماضی میں پی آئی اے میںبے شمار کرپشن اور بے ضابطگیاں ہوئیں ذمے داروں کے خلاف کارروائی ہوگی‘ پی آئی اے کئی دہائی پہلے جہاں تھی اسے وہیں لاکر دم لیں گے۔ میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر ہوا بازی نے کہا کہ کراچی طیارہ حادثہ رپورٹ ایوان میں پیش کردی گئی ہے وعدہ کیا تھا عبوری رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش کروں گا‘ طیارہ حادثہ 22 مئی کو دن پونے4 بجے لینڈنگ کے دوران ہوا‘ اس دوران کاک پٹ میں ہونے والی گفتگو کی ریکارڈنگ موجود ہے‘ ابتدائی تحقیقات کے مطابق رن وے سے10ناٹیکل مائل کے فاصلے پر جہاز کے لینڈنگ گیئر کھولے گئے جبکہ رن وے سے تقریباً 5 ناٹیکل مائل کے فاصلے پر جہاز کے لینڈنگ گیئر اپ کردیے گئے جہاز جب لینڈنگ کے لیے آیا تو اسے رن وے پر1500 سے 3000 فٹ پر ٹچ ڈائون کرنا چاہیے لیکن جہاز نے4500 فٹ پر لینڈنگ گیئر کے بغیر انجن پر ٹچ ڈائون کیا اور جہاز تقریباً 3000 فٹ سے 4000 فٹ تک رن وے پر رگڑیں کھاتا رہا اور چنگاریاں نکلیں اور اس دوران پائلٹ نے دوبارہ انجن کو پاور دے کر ٹیک آف کرلیا تو دونوں انجنوں کو نقصان پہنچا تھا جہاز جب دوبارہ لینڈنگ کے لیے اپروچ بنا رہا تھا تو اس میں طاقت نہ تھی اور سول آبادی پر گرگیا‘ ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق پائلٹ اور کنٹرولر دونوں نے مروجہ طریقہ کار کو اختیار نہیں کیا‘ ایک طرف پائلٹ نے کنٹرولر کی ہدایات کو نظر انداز کیا تو دوسری طرف کنٹرولر نے بھی پائلٹ کے جہاز کو انجن کا رگڑا کھانے کے بعد نقصان کے بارے میں آگاہ نہیں کیا۔ ۔